بلدیاتی انتخابات2018 کا دوسرا مرحلہ، 49وارڈوں میں پولنگ آج

۔ 61 وارڈوںمیں اُمیدوار بلا مقابلہ کامیاب،56میں کوئی امیدوار نہیں

10 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ کو وادی کے12بلدیاتی اداروں کے166انتخابی وارڈوںمیں الیکشن ہونا ہے۔انتخابات میں مجموعی طور پر209امیدوار میدان میں ہیں،جن میں61امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،جبکہ56 انتخابی وارڈوں پر کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں ہوا ہے۔ خالی نشستوں اور امیدواروں کے بلا مقابلہ کامیاب ہونے کی صورت کو مد نظر رکھتے ہوئے 10اکتوبر کو  وادی میںہونے والے انتخابات میں صرف49وارڈوں پر انتخابات کرانے ہونگے۔چیف الیکشن کمشنر شالین کابرا نے انتخابی ایام کار میں اضافہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو صبح6بجے سے شام4بجے تک  ووٹنگ کا عمل جاری رہے گا۔

وسطی کشمیر

 بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سرینگر میونسپل کارپوریشن کے20وارڈوں میں ووٹ ڈالنے ہیں،جن میں مجموعی طور پر72امیدوار میدان میں ہیں،ایک نشست پر امیدوار بلا مقاملہ کامیاب ہونگے،جس کی صورت میں صرف 19 وارڈوں پر انتخابات کرائے جائیں گے۔ سرینگر مونسپل کارپوریشن کے18سے لیکر37وارڈوں تک دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان وارڈوں میں بسنت باغ،فتح کدل، منور آباد، ٹنکی پورہ،سید علی اکبر،شہید گنج، شیخ دائود کالونی، زیارت بٹہ مالو، آلوچی باغ ،سولنہ،کرانگر، چھتہ بل، قمرواری،مشرقی بمنہ(ایسٹ)،مغربی بمنہ(ویسٹ) ،نند ریشی کالونی،پارمپورہ،زینہ کوٹ،لاوئے پورہ اور مجہ گنڈ شامل ہیں۔بڈگام ضلع میں بیروہ میونسپل کمیٹی میں13بلدیاتی وارڈوں میں سے صرف ایک امیدوار نے الیکشن میں شرکت کی ہے،اور دیگر12 وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار انتخابی میدان نہیں آیا ہیں اور وہ خالی ہیں۔اس میونسپل کمیٹی میں بھی کوئی انتخاب نہیں ہوگا۔ چرار شریف میں بھی کوئی بھی بلدیاتی انتخاب نہیں ہوگا۔ چرار شریف میونسپل کمیٹی 13بلدیاتی وارڈوں پر مشتمل ہے,جہاں11امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے اور2وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا ہیں،وہ خالی ہیں،اور اس کمیٹی میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوگا۔الیکشن محکمہ ذرائع کے مطابق بڈگام کے ماگام میونسپل کمیٹی کے13واڈوں میں7امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے جبکہ دیگر6 وارڈوں میںکوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے،اس طرح یہاں بھی انتخاب نہیں ہونگے۔

شمالی کشمیر

 بارہمولہ کی کنزر میونسپل کمیٹی میں بھی کوئی انتخاب نہیں ہوگا،کیونکہ اس میونسپل کمیٹی کے7وارڈوں میں صرف 7امیدواروں نے ہی کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں،جو بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،اور انتخابات کی نوبت ہی آن نہیں پڑے گی۔بارہمولہ کی وتر گام میونسپل کمیٹی میں13وارڈوں میں سے8امیدوار دوڑ میں تنہا ہیں،جو بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،جبکہ دیگر4 وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں ہے،اور وہاں پر بھی انتخاب نہیں ہونگے۔ البتہ ایک وارڈ میں چنائو ہوگا۔کپوارہ کی لنگیٹ میونسپل کمیٹی میں13وارڈوں میں9وارڈوں میں امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،جبکہ دو میں کوئی بھی امیدوار نہیں ہے،اور صرف دو وارڈوں میں انتخاب ہوگا،جہاں4امیدوار میدان میں ہے۔ضلع بانڈی پورہ کی سمبل میونسپل کمیٹی 13وارڈوں پر مشتمل ہے،جہاں11وارڈوں میں34امیدواروں کے درمیان انتخابی مقابلہ ہوگا،جبکہ صرف ایک ہی بلدیاتی وارڈ میں بلا مقابلہ امیدوار کامیاب ہوگا۔

جنوبی کشمیر

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد(اننت ناگ) اور کولگام میں4میونسپل اداروں میں انتخابات ہونگے۔ان بلدیاتی اداروں میں کولگام ضلع میں میونسپل کمیٹی یاری پورہ اور اور فرصل جبکہ اسلام آباد(اننت ناگ)  میں میونسپل کمیٹی بجبہاڑہ اوراننت ناگ شامل ہیں۔ فرصل میونسپل کمیٹی کے 13وارڈوں میںکسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کئے اور کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا‘‘۔ ضلع میں یہ واحد بلدیاتی ادارہ ہے،جہاں کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔اس میونسپل کمیٹی میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوگا۔یاری پورہ میونسپل کمیٹی کے6وارڈوں میں4امیدوار میدان میں ہیں،جبکہ2 وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔ 4وارڑوں میں صرف ایک ایک امیدوار کھڑا ہوا ہے،اور ممکنہ طور پر وہ بلا مقابلہ کامیاب ہونگے۔ ان 4امیدواروں میں سے2کانگریس اور2بی جے پی کے ہیں۔اس میونسپل کمیٹی میں بھی کوئی انتخاب نہیں ہوگا۔اننت ناگ میونسپل کونسل واحد ایسا بلدیاتی ادارہ ہے،جہاں پر سب سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں کل25وارڈ ہیں، جن میں سے 9پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔یہاں16 وارڈوںپر الیکشن ہوگا۔ہر ایک وارڈ میں کم از کم 2امیدوار ہیں،جبکہ بیشتر امیدوار کانگریس اور بی جے پی سے وابستہ ہیں،تاہم آزاد امیدوار بھی اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس بجبہاڑہ میونسپل کمیٹی میں صورتحال بالکل مختلف ہے،جہاں پر17 وارڈوں کیلئے صرف5امیدوار میدان میں ہیں۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق ان میں سے3امیدوار کانگریس جبکہ2بی جے پی کے ساتھ وابستہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ12وارڈوں میںکوئی بھی امیدوار نہیں ہے،جبکہ دیگر وارڈوں میں ایک ایک امیدوار ہے،جو ممکنہ طور پر بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،اور انتخابات کی نوبت ہی  نہیں پڑے گی۔ دوسرے مرحلے میں ریاست میں مجموعی طور پر30بلدیاتی اداروں کے الیکشن ہونگے،جس میں384وارڈوں میں1994میدان میں ہے،جبکہ65امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے۔
 
 
 

چنائو علاقوں میں سرکاری چھٹی

تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں آج یعنی 10 اکتوبرکوکشمیروادی کے جن علاقوں میں ووٹنگ ہوگی، ریاستی انتظامیہ نے ان علاقوں میں عام تعطیل کااعلان کیاہے۔ریاستی انتظامیہ نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے اُن علاقوں میں عام تعطیل کااعلان کیاہے ،جہاں آج ووٹ ڈالے جانے ہیں ۔ مزاحمتی لیڈرشپ کی ہڑتال کال،انتظامیہ کی عام تعطیل اورسخت سیکورٹی انتظامات کے پیش نظرنجی تعلیمی اداروں کے منتظمین نے بد ھ کوالیکشن والے علاقوں میں اسکول بندرکھنے کافیصلہ لیاہے۔
 
 

 پولنگ صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک ہو گی :کابرا

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //ریاست کے چیف الیکٹورل افسر شالین کابرا نے کہا  ہے کہ ریاست میں میونسپل انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت کل 544 مراکز پر 263 میونسپل وارڈوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے کیلئے 1029 اُمیدوار میدان میں ہیں اور ووٹ ڈالنے کا عمل صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر صوبے میں 270 جبکہ جموں صوبے میں  274 پولنگ مراکز قایم کئے گئے ہیں ۔ سی ای او نے کہا کہ کشمیر صوبے میں 49 اور جموں میں 214 وارڈوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں صوبے میں  881 اور کشمیر صوبے میں 148  اُمیدوار دوسرے مرحلے کے انتخابات کیلئے میدان میں ہیں ۔ سی ای او نے مزید کہا کہ کل جن علاقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اُن میں 346980  رائے دہند گان اپنی حقِ رائے دیہی کا استعمال کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھر میں ووٹنگ مراکز پر تمام بنیادی سہولیات دستیاب رکھی گئی ہیں اور رائے دہندگان کو پہلے ہی ووٹ پرچیاں فراہم کی گئی ہیں ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میونسپل انتخابات 2018 کے سلسلے میں چار مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے جن کے تحت 17 لاکھ رائے دہندگان 79 میونسپل اداروں کے قیام کیلئے ووٹ ڈالیں گے ۔ کُل 1145 وارڈوں کیلئے 3372 نامزدگیاں داخل کی گئی ہیں ۔ ان انتخابات کیلئے 8,10,13 اور 16  اکتوبر 2018 کی تاریخیں ووٹ ڈالنے کیلئے مقرر کی گئی ہیں ۔ 
 

صوبہ جموں کے 215وارڈوں کیلئے 881امیدوار میدان میں 

نصیر احمد کھوڑا
 
ڈوڈہ//بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں آج  صوبہ جموں کے ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن ، ریاسی، ادہم پور اور کٹھوعہ اضلاع  کی 18میونسپل کمیٹیوں کے215وارڈوں کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے لئے مجموعی طور پر 881امیدوار میدان میں ہیں۔ سب سے زیادہ 142امیدوار کٹھوعہ میونسپل کونسل کے 21وارڈوں کے لئے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جب کے سب سے کم امیدوار میونسپل کمیٹی بانہال کے 4وارڈوں کے لئے 8امیدوار ہیں، قابل ذکر ہے کہ یہاں 3امیدوار قبل ازیں ہی بلا مقابلہ کامیاب قرار دئیے جا چکے ہیں۔ اصل مقابلہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ہے۔ ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع کی چار کمیٹیوں میں ووٹران کی تعداد22908ہے جن میں مرد ووٹر11243اور11274خواتین ووٹر شامل ہیں۔ان میں ڈوڈہ کی میونسپل کمیٹی میں5863،بھدرواہ میں6793اور ٹھاٹھری میں734ووٹرس جبکہ میونسپل کمیٹی کشتواڑ میں9128ووٹران شامل ہیں۔میونسپل کمیٹی ڈوڈہ میں مرد ووٹر2970،خواتین ووٹر2893،بھدرواہ میں مرد ووٹر3463،خواتین ووٹر3330،ٹھاٹھری میں مرد ووٹروں کی کل تعداد375جبکہ خواتین ووٹرس359ہیں۔اسی طرح میونسپل کمیٹی کشتواڑ میں مرد ووٹوں کی مجموعی تعداد4435اور4693خواتین ووٹرس شامل ہیں۔
 

تازہ ترین