تازہ ترین

گجرات میں تشدد بھڑک اُٹھا

یوپی۔ بہارکے لوگوں پرحملے، 10 ہزارلوگوں کی نقل مکانی

9 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سابرکانٹھا//گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں 14 ماہ کی بچی سے مبینہ طورپرآبروریزی کے بعد وہاں غیرگجراتیوں کے خلاف تشدد کا ماحول بن گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے وہاں بہار، اترپردیش اورمدھیہ پردیش کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اب باہری لوگوں میں خوف اس قدر بیٹھ گیا ہے کہ وہ گجرات چھوڑنے پرمجبورہورہے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اب تک تقریباً 10 ہزارلوگ گجرات سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد اترپردیش- بہار کے پانچ ہزار لوگ گجرات چھوڑ چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اس معاملے پرسیاست بھی شروع ہوگئی ہے۔رپورٹ کی بنیاد پرکانگریس لیڈرسنجے نروپم نے وزیراعظم نریندرمودی پرتنقید کی ہے۔ نروپم نے کہا کہ "بنارس کے لوگوں نے دیکھا بھی نہیں کہ مودی گجرات کے ہیں یا مہاراشٹر کے۔ بنارس کے لوگوں نے انہیں گلے لگایا اوروزیراعظم بنادیا"۔سوشل میڈیا پرغیرگجراتیوں، خاص طورپربہار اوراترپردیش کے لوگوں کے خلاف نفرت آمیز پیغامات پھیلائے جانے کے بعد ان پرحملے ہوئے۔ ایسے میں علاقے میں رہنے والے غیرگجراتیوں کو موب لنچنگ کا خوف ہے، لہٰذا جان بچانے کے لئے وہ گجرات چھوڑنے کو مجبورہیں۔گجرات کے کئی علاقوں میں یوپی - بہارکے شہریوں کے ساتھ ہوئی مارپیٹ کے واقعہ پراتوار کو گجرات کے ڈی جی پی شیوا نند جھا نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک 342 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جن علاقوں سے مارپیٹ کی خبریں زیادہ آرہی ہیں، ان علاقوں میں پولیس نے پٹرولنگ بڑھا دی ہے۔ 
 

’مودی یادرکھیں انھیں بھی وارانسی جانا ہے‘

ممبئی//گجرات میں رہنے والے شمالی ہندکے لوگوں پر کیے جارہے حملوں  پر کانگریس نے ان واقعات پر بھارتیہ جنتاپارٹی پر جم کر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نریندرمودی یہ یاد رکھیں کہ ایک دن انھیں بھی وارانسی جاناہے ۔ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر سنجے نروپم نے گجرات میں شمالی ہند کے لوگوں پر حملوں کے تعلق سے ناگپور میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، وزیراعظم کی آبائی ریاست (گجرات) میں اگراترپردیش ،بہار اور مدھیہ پردیش کے لوگوں کو مارمار کر بگایاجائیگا تو ایک دن مسٹر نریندرمودی کوبھی وارانسی جاناہے ۔