اتحاد کیلئے کانگریس۔بی جے پی کے علاوہ بھی ہیں متبادل: اویسی

8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
الیکشن کمیشن نے تلنگانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اورمیزورم میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ کمیشن نے چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حیدرآباد کے ممبرپارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اس کا استقبال کرتے ہوئے بی جے پی پرتنقید کی ہے۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی دیگر موضوعات سے توجہ ہٹانے کے لئے مندرکے مدعے پرالیکشن میں ایک بار پھرپولرائزیشن کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی الیکشن کے بعد ہم عظیم اتحاد (مہا گٹھ بندھن) کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔اس کے ساتھ ہی اویسی نے واضح الفاظ میں یہ بھی کہا کہ صرف کانگریس یا بی جے پی ہی  متبادل نہیں ہیں، ان کیعلاوہ بھی کئی متبادل ہیں۔  حیدرآباد کے ممبرپارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ نامزدگی داخل کرنے میں بہت وقت ہے، اس لئے کچھ وقت بعد یہ فیصلہ کریں گے کہ اے آئی ایم آئی ایم کتنی سیٹوں پرالیکشن لڑے گی۔ واضح رہے کہ حیدرآباد میں اے آئی ایم آئی ایم کے ابھی صرف 7 ممبراسمبلی ہیں۔تلنگانہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی ریاست میں قبل ازوقت الیکشن ہونے کے ساتھ ہی ضابطہ اخلاق فوری نافذ ہوجائے گی۔ اس ریاست کی کارگزارحکومت نئی اسکیموں کا اعلان نہیں کرسکتی ہے۔وہیں بی جے پی صدرامت شاہ پہلے ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ بی جے پی تلنگانہ میں تمام سیٹوں پرالیکشن لڑے گی اور کسی دیگرپارٹی سے اتحاد نہیں کرے گی۔ حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس میں امت شاہ نے کہا تھا کہ بی جے پی تلنگانہ کی سبھی سیٹوں پرالیکشن لڑے گی اورریاست میں بڑی طاقت بن کرابھرے گی۔
 

تازہ ترین