خطہ چناب انتخابی سرگرمیاں تیز تر،سیاسی اور آزاد امیدوار وںنے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا

8 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نصیر احمد کھوڑا

ڈوڈہ//ریاست جموں و کشمیر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ڈوڈہ کی سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کے بائو جود خطہ چناب کے ضلع ڈوڈہ و کشتواڑ میں انتخابی مہم زورپکڑتی جا رہی ہے۔ضلع ڈوڈہ کی3میونسپل کمیٹیوںٹھاٹھری ،بھدرواہ وڈوڈہ اور کشتواڑ میونسپل کمیٹی کیلئے 10اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ڈوڈہ کی تینوں کمیٹیوں کے ووٹران کی تعداد13390ہے جن میں  6582خواتین ووٹرشامل ہیں۔ٹھاٹھری میونسپل میں 734ووٹر ہیں جہاں 359خواتین ووٹرس شامل ہیں۔ضلع ڈودہ میں بھدرواہ میونسپل کمیٹی میں ابھی تک ووٹران کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں6793ووٹران ہیں خواتین ووٹران کی تعداد 3330ہے اسی طرح میونسپل کمیٹی ڈودہ میں ووٹران مجموعی تعداد5863ہے ان میں 2893خواتین کے ووٹ ہیں ۔خطہ چناب کے ضلع کشتواڑ میں 13وارڈ شامل ہیں جہاں سے 53امیدوار سیاسی جماعتوں بشمو ل آزاد امیدوار انتخابی عمل میں موجود ہیں۔اس طرح ضلع ڈوڈہ و ضلع کشتواڑ کے میونسپل وارڈوں کی کل تعداد 50ہے جن میں ٹھاٹھری کے 7وارڈ ،بھدرواہ کے13وار،ڈوڈہ کے 17وارڈ ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزادانہ طور انتخابی عمل میں موجود امیدواروں نے منتخب ہونے کے بعد اپنے اپنے وارڈوں میں تعمیر و ترقی کے کاموں کو احسن طریقے سے انجام دینے، آپسی بھائی چارے کی مثال کو قائم و دائم رکھنے کا واعدہ دلایا ہے۔تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر ضلع ڈوڈہ و کشتواڑ مین بلدیاتی انتخابات کی سر گریاں روز بروز طول پکڑتی جا رہی ہیں۔مختلف پارٹیوں کے امدوار ووٹروں کو اپنی اپنی جانب راغب کرنے کی پوری کو شش کر رہے ہیں۔اس تعلق سے امیدوار اپنے محلہ جات کے مختلف مقامات میٹنگوں کے علاوہ فرداًفرداً ووٹروں سے مل کر انہیں اپنے حق میں کرنے کی بھر پور کوشش میں لگے ہیں۔ادھر ضلع انتظامیہ بھی ان انتخابات کو پر امن اور صاف و شفاف کرانے کیلئے اعلیٰ انتظامات انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔امیدوار جہاں ایک طرف چنائوی مہم تیز کئے ہوئے ہیں وہیں دوسری جانب الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔اور اب الیکشن کو چند ہی چن باقی ہیں مگر اب گذشتہ یعنی 2005کے سابقہ الیکشن کی طرح امیدواروںکے علاوہ ووٹران میںبھی جوش وخروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ادھر سابقہ وزیر عبدالمجید وانی نے این سی پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے در پردہ امیدوار کھڑے کر نے سے برائے راست بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوگا۔اسی طرح پی ڈی پی پر بھی کئی عوامی حلقوں میں چہ میگوں ہو رہی ہیں،بتایا جاتا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک طرف 35Aکے تحفظات کی بات کرتے ہیں مگر عملی طور سیاس کے خلاف محاذ کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔

 
خطہ چناب انتخابی سرگرمیاں تیز تر،سیاسی اور آزاد امیدوار وںنے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا
نصیر احمد کھوڑا
ڈوڈہ//ریاست جموں و کشمیر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ڈوڈہ کی سیاسی جماعتوں کے بائیکاٹ کے بائو جود خطہ چناب کے ضلع ڈوڈہ و کشتواڑ میں انتخابی مہم زورپکڑتی جا رہی ہے۔ضلع ڈوڈہ کی3میونسپل کمیٹیوںٹھاٹھری ،بھدرواہ وڈوڈہ اور کشتواڑ میونسپل کمیٹی کیلئے 10اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ڈوڈہ کی تینوں کمیٹیوں کے ووٹران کی تعداد13390ہے جن میں  6582خواتین ووٹرشامل ہیں۔ٹھاٹھری میونسپل میں 734ووٹر ہیں جہاں 359خواتین ووٹرس شامل ہیں۔ضلع ڈودہ میں بھدرواہ میونسپل کمیٹی میں ابھی تک ووٹران کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں6793ووٹران ہیں خواتین ووٹران کی تعداد 3330ہے اسی طرح میونسپل کمیٹی ڈودہ میں ووٹران مجموعی تعداد5863ہے ان میں 2893خواتین کے ووٹ ہیں ۔خطہ چناب کے ضلع کشتواڑ میں 13وارڈ شامل ہیں جہاں سے 53امیدوار سیاسی جماعتوں بشمو ل آزاد امیدوار انتخابی عمل میں موجود ہیں۔اس طرح ضلع ڈوڈہ و ضلع کشتواڑ کے میونسپل وارڈوں کی کل تعداد 50ہے جن میں ٹھاٹھری کے 7وارڈ ،بھدرواہ کے13وار،ڈوڈہ کے 17وارڈ ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزادانہ طور انتخابی عمل میں موجود امیدواروں نے منتخب ہونے کے بعد اپنے اپنے وارڈوں میں تعمیر و ترقی کے کاموں کو احسن طریقے سے انجام دینے، آپسی بھائی چارے کی مثال کو قائم و دائم رکھنے کا واعدہ دلایا ہے۔تازہ ترین صورت حال کے پیش نظر ضلع ڈوڈہ و کشتواڑ مین بلدیاتی انتخابات کی سر گریاں روز بروز طول پکڑتی جا رہی ہیں۔مختلف پارٹیوں کے امدوار ووٹروں کو اپنی اپنی جانب راغب کرنے کی پوری کو شش کر رہے ہیں۔اس تعلق سے امیدوار اپنے محلہ جات کے مختلف مقامات میٹنگوں کے علاوہ فرداًفرداً ووٹروں سے مل کر انہیں اپنے حق میں کرنے کی بھر پور کوشش میں لگے ہیں۔ادھر ضلع انتظامیہ بھی ان انتخابات کو پر امن اور صاف و شفاف کرانے کیلئے اعلیٰ انتظامات انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔امیدوار جہاں ایک طرف چنائوی مہم تیز کئے ہوئے ہیں وہیں دوسری جانب الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔اور اب الیکشن کو چند ہی چن باقی ہیں مگر اب گذشتہ یعنی 2005کے سابقہ الیکشن کی طرح امیدواروںکے علاوہ ووٹران میںبھی جوش وخروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ادھر سابقہ وزیر عبدالمجید وانی نے این سی پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے در پردہ امیدوار کھڑے کر نے سے برائے راست بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوگا۔اسی طرح پی ڈی پی پر بھی کئی عوامی حلقوں میں چہ میگوں ہو رہی ہیں،بتایا جاتا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک طرف 35Aکے تحفظات کی بات کرتے ہیں مگر عملی طور سیاس کے خلاف محاذ کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔
 

تازہ ترین