تازہ ترین

فن افسانچہ۔۔۔۔۔ تحقیقی و تنقیدی جائیزہ

7 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر فیض قاضی آبادی
کہانی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر ایک پسند کرتا ہے ۔اس کا سننا سنانا ابتداء سے ہی لوگوں کا  مشغلہ رہا ہے ۔ پھر جب اس کا ڈھانچہ مخصوص ہیت میں تیار کیا گیا تو اس کے چار چاند لگ گئے۔ داستان سے لے کر افسانچے تک کا سفر کرتے ہوئے اس نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ آج ہر زبان میں داستانیں لکھنے یا سننے سنانے کا رواج عنقاکے برابر ہے۔ البتہ ناولیں ، ناولٹ اور افسانے لکھنے کا دستور اب بھی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف اول کے بعد جس صنف  نے پر پھیلانے شروع کئے وہ افسانچہ یا منُی افسانہ ہے۔ 
کیا افسانچہ ایک صنف ہے ۔افسانچہ اور لطیفہ میں کیا فرق ہے ۔ افسانے اور افسانچے میں فرق کیا ہے۔ 
پہلا اردو افسانچہ نگار کون ہے ۔ افسانچہ کامستقبل کیا ہے ۔افسانچہ کے اجزائے ترکیبی کیا ہیںوغیرہ ایسے سوالات ہیں جن  کو فکشن نقادوںنے حل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اُسے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آیئے ہم اس مضمون میں تنقیدی زاوئیے سے ان باتوں پر اپنی بساط کے مطابق روشنی ڈالنے کی سعی کریں گے۔ 
افسانچہ چاول کے دانے پر تاج محل کی مکمل تصویر بنانے کا عمل ہے ۔یہ ایک قل کو ایک جُزمیں پیش کرنے کا فن ہے۔ یہ انگلی پر پربت اُٹھانے کا جادو ہے ۔ مختصر سے مختصر نقطوں میںمکمل کہانی بیان کر نے کا ہنر ہے۔ اس کی تعریف کے سلسلے میں ڈاکٹر عظیم راہی فرماتے ہیں:۔
’’افسانچہ ادب کی ایک نہایت مشکل اور سنجیدہ صنف ہے کہ بر گد کے بڑے سے پیٹر کو بونسائی کی شکل دے کرایک چھوٹے سے گملے میں منتقل کرنے کا کام افسانچہ نگاری ہے‘‘
(سچائیاں۔ ڈاکٹر اخلاق گیلانی صفحہ ۲۲)
اُردو کے مشہور و معروف ادیب اور افسانچہ نکار ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی افسانچہ کی تعریف یوں کرتے ہیں:۔
’’دراصل افسانچہ سائنٹفک رحجان کی علمبردار صنف ہے۔ افسانچہ ایک قوس قزحی صنف ہے۔ سورج کے سات رنگوں کی طرح ہے۔ کیو نکہ جب ہم دھوپ کے ٹکڑے کو پر زم میں سے گذارتے ہیں تو اس کے الگ الگ سات رنگ نظر آتے ہیں جبکہ بغیر پر زم کے یہ صرف دھوپ کے سنہرے رنگ دکھائی دیتے ہیں‘‘۔
(پرت در پرت۔اُردو افسانچوں کا عالمی انتخاب ۔گفتنی۔ صفحہ ۷)
اُردو کے ایک اور مشہور افسانہ نگار بشیرمالیر کو ٹلوی افسانچے کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:-
’’افسانچہ ایسا ادب پا رہ ہو جو طویل افسانے کا مزہ دے ۔ جس کو پڑھ کر قار کی تشنگی بہ دستور قائم نہ رہے۔ بات مختصر ہو بلکہ مختصرترین ہو لیکن مکمل ہو ۔ اگر افسانچہ ان تین شرائط کو پورا کرتا ہے تو سمجھئے یہ واقعی افسانچہ ہے ورنہ ہلکہ پھلکا واقعہ ہے ‘‘
(جگنو شہر۔ بشیر مالیر کوٹلوی۔حسب حال۔ صفحہ ۱۳)
افسانچہ کی مندرجہ بلا تعریفوں سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ افسانچہ مشکل ہی نہیں بلکہ مشکل ترین صنف ہے۔ یہ سمندر کو کوزے میں بھر دینے کا عمل ہے۔ شاید اسی لئے نقادوں نے کہا ہے کہ وہی افسانچے لکھ سکتا ہے جس کی عمر دشت افسانہ کی سیاحی میں گزری ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ شخص بھی بہترین اور معیاری افسانچے لکھ سکتا ہے جس نے اگر چہ افسانہ کے زلف سنوارنے میں عمر نہ گزاری ہو مگر وہ اس کے فن اور تکنیک سے پوری طرح واقف ہو ۔ ہاں یہ ضرور ی ہے کہ افسانچہ لکھنے کے لئے سخت محنت، ریاض، لگن اور وسیع مطالعہ کی ضرورت ہے۔ 
فکشن کا تانا بانا کہانی کی بنیاد پر ہی بنا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہی ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے اور قاری کو پڑھنے پر مائل کرتا ہے ۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ داستان تا افسانچہ کہانی کا پھیلاو مختلف رہتا ہے۔ داستان ایک سے زیادہ کہانیوں پر مشتمل صنف ہے جبکہ نا ول پوری زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔ افسانہ زندگی کے کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالتا ہے اور افسانچہ زندگی کے کسی ایک چھوٹے سے لمحے کی تصویر دکھاتا ہے۔ افسانہ اور افسانچے کے کہانی پن کے فرق کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ ہر گانوی صاحب یوں واضح کرتے ہیں:۔
’’افسانہ اور افسانچہ کے کہانی پن میںیہی فرق ہے۔ افسانہ کے کہانی پن میں مصنف سات رنگوں کو الگ الگ زاویے سے تفصیل کے ساتھ پیش کرتا ہے لیکن افسانچے کا کہانی پن وہ پر زم ہے جو ان سات رنگوں کو اپنے میں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے‘‘
(پرت در پرت ۔ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی صفحہ ۷)
یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہیں کہ چند بڑے افسانہ نگار وں مثلا منٹو، رتن سنگھ، بشیر مالیر کوٹلوی، رونق جمال وغیرہ کو چھوڑ کر کسی نے بھی اس میں طبع آزمائی نہیں کی ۔عجیب بات ہے کہ بڑے اور معروف افسانہ نگاروں نے اسے  شجرِ ممنوعہ سمجھ کر اس کی طرف بالکل التفات بھی نہیں کیا۔ دوسری طرف بڑے نقادوں نے اس صنف کو یکسر مستر دہی کیا ہے اور اسے صنف کا درجہ دینے سے انکار کیا۔ منٹو کے ’’ سیاہ حاشیے‘‘، جو اردو افسانچوں کا نقش اول ہے، کو اُردو کے معروف نقاد محمد حسن عکسری مختصر افسانے کے ساتھ ساتھ لطیفے گر دانتے ہیں ۔ چنانچہ فرماتے ہیں:-
’’منٹو نے بھی فسادات کے متعلق کچھ لکھا ہے۔ یعنی یہ لطیفے یا چھوٹے چھوٹے افسانے جمع کئے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
(سیاہ حاشیے تجزیاتی مطالعہ از سجاد  شیخ صفحہ ۱۳۸)
دوسری جگہ فرماتے ہیں:۔
’’ فسادات کے متعلق جتنے بھی افسانے لکھے گئے ہیں ان میں منٹوکے یہ چھوٹے چھوٹے لطیفے سب سے زیادہ ہولناک اور سب سے زیادہ رجائیت آمیز ہیں ‘‘(ایضاًصفحہ ۱۴۱)
اُردو کے ایک اور بڑے نقاد ممتاز حسین نے بھی’ ’سیاہ حاشیے‘‘ کے افسانچوں کو چٹکلے اور لطیفے کہا ہے۔ خلیل الرحمٰن اعظمی جو ترقی پسند تحریک کے ایک اہم شاعر اور نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں نے بھی ’’ سیاہ حاشیے ‘‘ کو لطیفے کہا ہے۔ اس قسم کے بیانات سے فن افسانچہ کو زبردست نقصان پہنچا۔ اس کی طرف تو جہ نہ دینے کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے لیکن بھلا ہو جوگندر پال کا جس نے نہ صرف چار پانچ افسانچوں کے مجموعے چھپواکر اس کے فروغ میں ایک اہم رول ادا کیا، بلکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو کرارا جواب بھی دیا۔ دراصل افسانچہ چٹکلہ یا لطیفہ ہر گز نہیں ہو سکتا کیوںکہ چٹکلہ اور لطیفہ سننے کے بعد مسکرایا یا ہنس دیا جاتا ہے، یا قہقہ لگادیا جاتا ہے جبکہ افسانچہ سننے کے بعد دل و دماغ کے تاروں کو متحرک کر تے ہوئے کسی گہری سوچ  میں ڈال دیتا ہے۔ چند سطروں کی کہانی سنتے ہی ایک لمبی کہانی ذہن میں شروع ہو جاتی ہے۔ 
افسانچے کی بد قسمتی یہ بھی ہے کہ اسے ناول اور افسانے کے بر عکس دسوں نام دے گئے۔منی افسانہ ، منی کہانی، افسانچہ، مختصر افسانہ، مختصر مختصر افسانہ، مختصر ترین افسانہ، مختصر ترین کہانی، ننھی کہانی، ادب پارے، آتش پارے، لطیفے وغیرہ نام دے کر اس صنف کے مقبولِ عام ہونے میں دشواریاں پیدا کی گئی۔ (افسانچہ سمندر کی طرح گہرا اور وسیع ہوتا ہے اسے طویل افسانہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں افتخار احمد صدیقی جب معروف اُردو افسانچہ نگاررونق جمال سے یہی سوال کرتے ہیں یعنی کیا افسانچے کو افسانہ، ناولٹ یا ناول بنایا جا سکتا ہے؟تو وہ جواب دیتے ہیں۔
ـ’’ہاں افسانچے کو افسانہ، ناولٹ یا ناول بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ افسانچہ بہت وسعت و گہرائی لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اب یہ قلم کار کے مزاج اور فن پر منحصر ہے کہ وہ اپنے افسانچے کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کئی افسانچوں کو افسانہ بنایا ہے‘‘
(رونق جمال سے ایک ادبی مکالمہ۔ مصاحبہ گو۔ افتخار امام صدیقی۔ ماہنامہ شاعر مئی ۲۰۱۵صفحہ ۱۴)
افسانچہ کو اتنے سارے نام اُردو کے نقادوں نے نہیں دئے بلکہ خود افسانچہ نگاروں نے دئے ہیں ۔ میرے سامنے اس وقت تقریباًایک درجن افسانچوں کے مجموعے ہیں جن میں ’’مانک موتی‘‘ کورتن سنگھ نے مختصر ترین افسانے ،’’فساد کرفیو کرفیو کے بعد‘‘ کو عبدالعزیز خان صاحب نے مختصر ترین کہانیاں، اکبر عابد نے ’’چپ چاپ‘‘کو ’’منی افسانے‘‘ کا نام دیا ہے اور باقی مجموعوں یعنی سنگریزے (ایم انوارانجم) چنگاریاں (محمد رفیع مجاھد)سچائیاں ( ڈاکٹر اخلاق گیلانی) جگنو شہر (بشیر مالیر کوٹلوی) پرت در پرت (مناظر عاشق ہر گانوی) مٹھی بھر ریت ( دیپک بدکی) وغیرہ کو افسانچہ ہی نام دیا گیا ہے۔ ہمارے یہاں وادی میں افسانچہ نگار اسی نام سے لکھتے ہیں اور یہاں  کے رسائل و روزنامے اسی نام سے چھاپتے ہیں ۔
لیکن دوسری ریاستوں کے رسائل و زنامچے اس صنف کو دوسرے کئی ناموں سے چھاپتے ہیں :۔مثلاً:
’’ منظور وقار کے منی افسانوں کو روزنامہ’’ شام تک ‘‘ اور روزنامہ ’’ سیاست‘‘میں مختصر افسانے‘‘ کے نام سے چھاپا گیا‘‘
’’ اقبال انصاری کے منی افسانے رسالے’’ خوشبو کا سفر ‘‘ میں ’’ ننھی کہانیاں ‘‘کے نام سے چھپے تھے‘‘
’’ راجندر سنگھ  بیدی کے منی افسانے رسالہ’’ گفتگو‘‘ ’’ میں ‘‘ ادب پارے‘‘کے نام سے شائع ہوئے ہیں ۔اگر اس ننھی صنف کو ان مختلف ناموں سے لکھا گیا تو اس کے پھلنے اور پھولنے میں کافی دشواریاں پیدا ہو جانا ظاہر سی بات ہے ۔ میں یہاں پر بسیر مالیر کو ٹلوی صاحب سے اختلاف کرنا جائز سمجھتا ہوں چنانچہ فرماتے ہیں :۔
’’ آپ کسی آدمی کو پوسٹ مین کی وردی پہنا دیں وہ پوسٹ مین بن جائے گا۔ اس آدمی کو پولیس کی وردی پہنا دیں وہ پولیس والا لگے گا۔ فوج کی وردی پہنا دے تو وہ فوجی لگے گا ۔ اس کو لباس کوئی بھی پہنا دیںوہ آدمی وہی رہے گا۔ اسی طرح چھوٹا افسانہ ہے اگر اس میں بھر پور افسانے کا مزہ ہے وہ افسانچہ ہی رہے گا نام دینے کو آپ اُسے کچھ بھی کہہ لیں پھر کسی بھی نام سے پکارلیں وہ بہرحال افسانچہ ہی رہے گا‘‘
(افسانہ ،افسانچہ تکنیکی تناظر میں صفحہ۱۴۱)
اس میں کوئی شک نہیں کہ آدمی کوئی بھی وردی زیب تن کرے آدمی ہی رہتا ہے لیکن پہچان تو اس کی وردی سے ہی ہوتی ہے۔ پولیس والا کسی آدمی کو تھانہ لے جارہا ہے تو یہ نہیں کہا جا تا کہ آدمی ، آدمی کو پکڑ کر تھانہ لے جارہا ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے پولیس والا آدمی کو پکڑکر تھانہ لے جا رہا ہے۔ شاعری بنیادی طور پر شاعری ہی ہے لیکن مختلف ہیتوں میں ہو کر اسے مختلف اصناف کا نام دیا گیا ہے۔ غرض افسانچہ کو ’منی افسانہ‘ مختصر ترین افسانے، ننھی  کہانی وغیرہ نام دینے سے پر ہیز کیا جائے اور افسانچہ نام سے ہی لکھ کر اسے باضابطہ ایک صنف کا درجہ دے کر اس کے فروغ میں اپنا حصہ فکشن کی تاریخ میں درج کیا جائے۔
افسانچہ کو سب سے پہلے افسانچہ کا نام جو گندر پال نے ہی دیا ہے ۔ انہوں نے ۱۹۶۲ء میں اپنے افسانوی مجموعہ ’’میں کیوں سوچوں‘‘ میں ۳۵افسانچے‘‘ شامل کئے تھے۔ اس طرح جب اس صنف کو پہلے ہی یہ خوبصورت نام دیا گیا ہے تو کیوں نہ اسی نام سے افسانچے لکھے جائیں جو اس نئی اور کم عمر صنف کی صحت کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ 
افسانچہ چونکہ کم سے کم الفاظ میں بڑی اور پوری کہانی بیان کرنے کا فن ہے اس لئے اس میں کردار اور مکالمہ سے عام طور پر ہیز کیا جاتا ہے البتہ پلاٹ، وحدت تاثر اور اختصار کے بغیر افسانچہ وجود میں نہیں آسکتا ۔ یہ تینوں چیزیں اس کا لازمی جُڑ ہیں۔
اُردو میں افسانچہ کی ابتداء منٹو کے ’’سیاہ حاشیے‘‘۱۹۴۸ء ؁سے  ہوئی ہے ۔اس طرح ان ہی کو اس صنف کا موجد قرار دیا گیا ہے۔ البتہ عالمی ادب میں خلیل جبران کے فکر پاروں کو افسانچہ کا نام دیا گیاہے۔ جن لوگوں نے منٹو کے سر افسانچے کا موجد ہونے کا سہرا باندھا ہے ان میں جو گندرپال، سید محمد عقیل، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ، نثار اعظمیٰ، سلام بن رزاق، ڈاکٹر ہارون ایوب، نظام صدیقی ، عظیم راہی، وغیرہ اہم نام ہیں ۔ البتہ اس بات سے کسی کوانکار نہیں ہو سکتا کہ جو گندر پال نے ہی اس صنف کو وقار بخشا ہے اور اس کے گیسو سنوارنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ پال صاحب کے اب تک چار افسانچوں کے مجموعے جن میں پہلا مجموعہ ’’ میں کیوں سوچوں‘‘ ۱۹۶۲؁دوسرا مجموعہ ’’ سلوٹیں‘‘۱۹۷۵؁، تیسرا مجموعہ ’’ کتھانگر ‘‘۱۹۸۶؁اور چوتھا مجموعہ ’’پرندے۲۰۰۰؁ شائع ہو کر اُردو دنیا میں داد تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔  ۱؎
اردو افسانچہ کے ارتقاء میں ایک اہم نام رتن سنگھ کا بھی لیا جاتا ہے۔ ان کی’’مانک موتی‘‘ جس میں کل سو افسانچے  شامل ہیں اور۱۹۹۰؁میں پہلی بار شائع ہوئی اردو فکشن کی دنیا میں ایک اہم کتاب کی حیثیت رکھتی ہے’’مانک موتی‘‘کی قدرومنزلت رتن سنگھ کی اس بات سے لگائی جا سکتی ہے:
’’میں گہری نیند میں سو رہا تھا۔ اتنے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میرے پاس آیا اور بولا منٹو صاحب نے عرش سے آپ کے لیے یہ قلم بھیجا ہے ۔ ابھی میں ایک خوبصورت قلم مل جانے پر خوش ہو رہا تھا کہ اپنے سامنے ایک حبشی کو کھڑا پایا’’جی جوگندرپال صاحب نے فرش سے آپ کے لئے یہ روشنائی بھیجی ہے‘‘ میں نے روشنائی لے کر اپنے پاس رکھ لی۔ صبح جب نیند کھلی تو میری ہتھیلی پر ــ’’مانک موتی ‘‘چمک رہے تھے۔‘‘
’’مونک موتی‘‘سے دو افسانچے قارعین کو باصرہ نواز کرنا چاہتا ہوں: -
۱۔’’شہد میٹھا کیوں ہوتا ہے اور یہ انسان کی صحت کے لئے فائدے مند کیوں ہوتا ہے ؟ کسی نے پوچھا۔
اس لئے کہ اس میں ہر رنگ، ہر نسل اور ہر قوم کے پھولوں کا رس شامل ہوتا ہے۔
۲۔ایک چھوٹے سے شہر کے چھوٹے سے محلے کی ایک تنگ سی گلی میں کسی چھوٹی سی بات پر دو فرقوں کے درمیان فساد ہو گیا۔ آگ ایسی لگی اتنی پھیلی کہ ایک بڑا ملک برباد ہوگیا۔ 
منٹو ، جو گندپال اوررتن سنگھ کو میں اردو افسانچے کا تکون کہتا ہوں۔ ان تینوں نے اُردو افسانچے کی ایک مضبوط بنیاد کھڑکی کی ۔بشیر مالیرکو ٹلوی کا صحیح فرمانا ہے کہ:
’’اردو افسانچے کو جنم دیا سعادت جسن منٹو نے سجایا سنوارا جو گندرپال نے اور گود میں کھلایا رتن سنگھ نے اتفاق سے تینوں کا تعلق میرے پنجاب سے تھا‘‘
(افسانہ ،افسانچہ تکنیکی تناظر میں ۔ محمد بشیر مالیر کوٹلوی صفحہ ۱۱۷)
اس تکون کے علاوہ طالب زیدی، ایم آئی ساجد، طفیل سیماب ، رونق جمال ،رحیم انور، عارف خورشید، عظیم راہی، قاضی مشتاق، ساحرکلیم، عبدلعزیز خان، نذیر فتح پوری، اکبر عابد، دیپک بدکی، محمد رفیع الدین مجاہد، ایم انوار انجم، پروفیسر اخلاق احمد ، فیروز خان وغیرہ نے اس ننھی سی صنف کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا۔ یہ سب وہ نام ہیں جن کے افسانچوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اور جو مسلسل افسانچے لکھ رہے ہیں مگر ابھی تک کتاب کی صورت میں شائع نہیں کئے ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی نے اردو افسانچہ کا پہلا انتخاب ۱۹۹۰؁میں ’’ قوس قزح‘‘ کے نام سے چار زبانوں اردو، ہندی، بنگلہ اور انگریزی  میں ایک ساتھ شائع کیا۔ ۲۰۱۵میں’’پرت در پرت۔ اردو افسانچوں کا عالمی انتخاب ‘‘ اور ۲۰۱۶ء میں ’’خواتین کے افسانچے‘‘عنوان سے دو مجموعے شائع کرکے اس سلسلے میں قابل ستائش کام انجام دیا۔ ایک تحقیق کے مطابق بر صغیر ہند و پاک میں تقریباً تین سو افسانچہ نگار اس صنف کو اپنے نوک ِقلم کی روشنائی سے سینچ رہے ہیں۔ 
اردو افسانچہ آئے دن مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ مخالفت کے با وجود اس نے اپنی صنفی شناخت قائم کی ہے اور اس میں پوری طرح کامیاب ہوگئی ہے ۔ اب ہر قاری ترجیحی بنیادوں پر اسی کو پڑھتا ہے اور اسی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ 
آج کا قاری فکشن کے دوسرے اصناف کو چھوڑ کر افسانچے کی طرف ۲زیادہ کیوں لپک رہا ہے۔ اس سلسلے میں دیپک  بدکی رقمطراز ہیں:
’’ پہلے قاری کے پاس تقریح کے لئے صرف کالے حروف تھے لیکن بعد میں فلمیں، ٹیلی ویژن اور ویڈیو آئے اور اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسانی تاریخ میں ایک نیا باب جوڑ دیا ہے۔ نتیجاً کتابوں کی طرف رغبت کم ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ ناول اور افسانے کی جگہ افسانچہ دھیرے دھیرے مقبول ہوتا جا رہا ہے ‘‘
پھر آگے فرمائے ہیں:۔
’’موجودہ دور میں قاری دن بھرکی بھاگ دوڑ سے تھک ہار کر یا ٹیلی ویژن کے ساتھ چیک جاتا ہے یا پھر انٹرنیٹ پر تفریح کا سامان تلاش کرتا ہے۔ وہ آن لائن لطیفے ، چٹکلے اور مختصر ترین کہانیاں پڑھنے کو ترجیح دیتا ہیــ 
(مٹھی بھرریت ۔۔۔۔صفحہ ۱۹)
ہمارا اپنا تجربہ ہے اوربہتوں کو دیکھا بھی ہے کہ کوئی ادبی یا نیم ادبی رسالہ یا ہفتہ وار ادبی اڈیشن رونامہ ہاتھ میں اُٹھاتے ہی اس ننھی منی، نئی نویلی اور انتہائی فکر انگیزصنف کو ڈھونڈ کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے اصناف (غزل، نظم ، افسانہ وغیرہ) کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ 
اگر نوجوان نسل اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اس کے گیسو اسی طرح سنوارتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب اس کی مخالفت کرنے والے نقاد اور ادیب نہ صرف مخالفت سے باز آئیں گے بلکہ اسے فروغ بخشنے کے لئے مضامین کے انبار لگا دیں گے۔ اردو افسانہ اکادمیوں کے ساتھ ساتھ اب اردو افسانچہ اکادمیاں وجود میں آرہی ہیں جو اردو افسانچہ اور افسانچہ نگاروں کے لئے خوش آئند بات ہے۔ 
 
ہندواڑہ (سوپر ناگہامہ)کشمیر،فون نمبر؛ 09622706839