ایٹم بم

افسانہ

7 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد شفیع ساگر ؔ
زمانی کالج میں پڑھتی تھی ۔ بہت سارے لڑکے زمانی کی خوبصورتی پر فدا تھے ۔ لیکن زمانی کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتی ۔ وقت گذرتا گیا ۔ زمانی اپنی تعلیم میں مگن تھی ایک دن زمانی کا رشتہ گاوں کے ایک لڑکے اکبر کے ساتھ طے ہوا ۔ کالج کے لڑکے، خصوصاً اکبر کے دوست، اکبر کو مبارکباد دینے لگے ۔ کوئی دوست کہتا، ارے اکبر تم تو چھپے رستم نکلے آخر کار اپس زمانی کو قابو ہی کر لیا جو کسی کے قابو میں نہیں آئی تھی تو کوئی کہتا ارے یار کیا قسمت پائی ہے زمانی جنت کی حور ہے ۔ اکبر بھی خوش تھا کہ ایک خوبصورت لڑکی اُس کی رفیق حیات بننے جا رہی ہے ۔ ایک دن اکبر کے گھر والوں نے شادی کی تاریخ طے کر دی ۔ شادی سے پہلے زمانی کے گھر والوں نے دُلہن کے لیے کپڑے زیورات اور باقی چیزیں ادا کر دیں اور شادی کا دن آخر کار نزدیک آگیا ۔ 
15ستمبر کی رات تھی جب اکبر دُلہا بن کر زمانی کے گھر پہنچا زمانی دُلہن کے کپڑوں میں واقعی پری لگ رہی تھی ۔ شادی دھوم دھام سے ہونے لگی۔ اپنے پرائے سب اس شاد ی میںشریک ہوئے ۔ آخر کار وہ رات بھی آگئی جس کا ہر جوان بڑی بے چینی سے انتظار کرتا ہے ۔ یعنی سہاگ رات ۔ سجے سجائے کمرے میں جب اکبر پہنچا تو اُس کی دُلہن ایک حور سی دکھائی دے رہی تھی۔ اکبر خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا ۔ کیونکہ اُسے آج اُس لڑکی کے ساتھ رات گذارنے کا موقع مل گیا تھا، جس سے کالج کے تمام لڑکے بات تک نہیں کر پائے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بہت ہی خوش قسمت سمجھ رہا تھا اورآج اُسے اپنے آپ پہ رشک آرہا تھا ۔جب وہ پلنگ کے قریب پہنچ گیا تو زمانی پلنگ پہ لیٹی ہوئی تھی ۔اکبر نے ہاتھ لگا کر اُسے آہستہ سے ہلایا لیکن وہ اپنے آپ میں سمٹ گئی۔ اکبر سمجھ گیا کہ لڑکی شرم محسوس کر رہی ہے یا ادائیں دکھا رہی ہے، جو ہر کسی دُلہن کا حق ہے ۔ اس کے بعد اکبر نے ذرا حوصلے سے کام لیتے ہوئے زمانی کو اپنی طرف کھینچ لیا ۔ تو زمانی غرا کر کہنے لگی خبر دار مجھے ہاتھ نہیں لگانا ۔ اکبر چونک پڑا اور کہنے لگا، ارے زمانی کیسی بات کرتی ہو ہمارا نکاح ہوا ہے ۔ اب آپ میری بیگم ہو ۔ میں آپ کو ہاتھ نہیں لگا سکتا یہ کون سی بات ہوئی اور آج تو ہماری سُہاگ رات ہے۔ ہمارے ملن کی پہلی رات ۔ زمانی نے اپنا لہجہ نرم کرتے ہوئے کہا ۔ ہاں اکبر میں یہ سب سمجھتی ہوں ہمارا نکاح ہوا ہے ۔ ہم نے ایجاب و قبول کیا ہے لیکن میری ایک شرط ہے ۔ اکبر حیران ہو کر پوچھنے لگا کیسی شرط۔ تو زمانی کہنے لگی مجھے کچھ چاہئے ۔پہلے وعدہ کریں کہ میں جو مانگونگی وہ آپ مجھے دے دینگے۔ اس کے بعد آپ کی مرضی ۔ اکبر نے کہا میری جان آپ جان مانگیں تو جان حاضر ہے، صرف مانگ کر تو دیکھیں میرا دِل بہت بڑا ہے آپ جو مانگیں گی دے دونگا ۔ آسمان سے تارے توڑ کر آپ کے قدموں میں بچھاوں گا ۔ اکبر جذباتی ہونے لگا تھا ۔ لیکن زمانی نے اُس کی بات کاٹ دی ۔ بس بس اتنا کرنے کی ضرورت نہیں۔ میری شرط سُننے کے لیے آپ کو کل تک انتظار کرنا پڑے گا ۔کل میں اپنا مدُعا آپ کے سامنے رکھوں گی۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ مُجھے نا اُمید نہیں کرینگے ۔ میں جانتی ہوں کی آپ اپنی بات کے پکے ہیں اور آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں جو مانگونگی وہ آپ دے دینگے۔ اس لئے اب براہِ کرم کل تک انتظار کیجئے  اور مجھے سونے دیجئے۔ مجھے نیند آرہی ہے ۔ اکبر حیران و پریشان زمانی کی طرف دیکھتا رہا لیکن کچھ بھی نہ کر سکا اُس نے وعدہ کیا تھا کہ زمانی جو مانگے گی اُسے مل جائے گا ۔ اکبر نے دل ہی دل میں کہا زمانی مانگ کر تو دیکھو پھر اکبر کے دل کا پتہ چل جائیگا ۔ 
زمانی تو نیند کی وادیوں میں چلی گئی لیکن اکبر خیالوں کی دُنیا میں کھو یارہا ۔ وہ سوچنے لگا کہ وہ کون سی چیز ہے جو زمانی کل مجھ سے مانگ لے گی ۔ اُس نے سوچا کہ کون سی چیز ہو سکتی ہے جو زمانی کے پاس موجود نہیں ہے۔ بڑے غور و فکر کے بعد اُسے یاد آیا کہ جب دُلہن کے کپڑوں اور زیورات کی بات ہو رہی تھی تو اُن کے گھر والے کہہ رہے تھے کہ زمانی کی ماں سونے کے پانچ تولے والے ایک عدد ہار کی ڈیمانڈ کر رہی تھی لیکن اُن کے گھر والے سونے کا ہار دینے کے لیے راضی نہیں تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سونے کا ہار ایک یا دو دن انسان کی زینت بن جاتا ہے۔ اُس کے بعد وہ تجوری کے اندھیرے میں بند پڑا رہتا ہے۔ لڑکیاں استعمال نہیں کرتیں اُلٹا اُس کی چوری کا خطرہ لگا رہتا ہے اور اُس کی رکھوالی کرنی پڑتی ہے ۔ لیکن زمانی کی ماں اصرار کر رہی تھی، آخر کار زمانی کے باپ محمد رمضان نے مداخلت کر کے سونے کا ہار بنوانے سے منع کیا تھا ۔ محمد رمضان ایک نیک انسان تھا اور ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ شادی کی رسومات کو کم سے کم کیا جانا چاہیے ۔ تاکہ ایک غریب سے غریب شخص بھی شادی کی تقریب آسانی سے ادا کر سکے ۔ زمانی کا نام بھی اُن کے و الد کے نام پہ رمضانی رکھا گیا تھا لیکن بعد میں رمضانی کا نام کٹ کے زمانی ہی رہا تھا ۔ اُس نے سوچا کہ لڑکیاں سونا کیوں پہنتی ہیں ۔دراصل یہ فیشن رہا ہے، صدیوں سے، جو عورتوں کی زیب و زینت میں اضافہ کرتا ہے لیکن اب تو مرد بھی اس بلا میں گرفتار ہیں ۔ آج کل کے نو جوانوں کو ہی لیجئے جوتے پانچ ہزار کے کھلے پائجامے یا پینٹ کی بجائے جین پہن لیتے ہیں جو اتنی تنگ ہوتی ہے کہ تمام انگ نظر آجاتے ہیں ۔اس پر ستم یہ کہ جگہ جگہ پھٹی ہوتی ہے ۔ جیکٹ آٹھ دس ہزار سے کم کی نہیں ہوتی۔ ٹوپی دو ہزار کی تو عینک چار ہزار کی۔ بازو میں لوہے کا ایک موٹا سا کڑا ،گلے میں ایک چمکتی زنجیر اور اُس میں لٹکتی بندوق کی گولی ۔ نہ جانے ان لڑکوں کو کیا ہوگیا ہے ۔ اُس کے خیالات کا سلسلہ بدلنے لگا اور سوچنے لگا کہ ہر لڑکا ایسا نہیں ہوتا اور ہر لڑکی بھی ایسی نہیں ہوتی۔ اب زمانی کی ماں کو ہی لیجئے کتنی لالچی ہے اور یہ زمانی بھی ۔پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بھی اس کے دل میں لالچ ہے ۔ کچھ انسان ہوتے ہی لالچی ۔ پیسہ ان کا ایمان ہوتا ہے ۔ بڑے شریف اور ایماندار بنتے ہیں لیکن جب پیسے کہ بات آتی ہے تو دین و ایمان سب بھول جاتے ہیں ۔ ان کی وضع قطع سے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ فرشتے ہیں ۔ ایسا وعظ و نصیحت کرتے ہیں کہ انسان سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ کوئی پہنچا ہوا بزرگ ہے ۔ لیکن جب پیسے کی بات آتی ہے تو ان کا ایمان اونے پونے دام بک جاتا ہے ۔ یہ زمانی دیکھو جب سونے کی یاد آئی تو یہ اپنے شوہر کو بھی بھول گئی ۔ اسے پیار اور محبت کا سبق ملا ہی نہیں ہے ۔ اس قسم کی لڑکیاں پیار محبت ہی کیا جانیں ۔ آج کے زمانے میں سب کچھ نقلی ہے آج کل کی لڑکیاں اور لڑکے تو عشق لڑاتے ہیں۔ ماں باپ کی اجازت کے بغیر بھاگ جاتے ہیں ۔ ماں باپ ناراض ہوتے ہیں اُن کی بد دُعائیں اُنہیں لگ جاتی ہیں ۔ اور یہ چوری کا رشتہ کامیاب نہیں ہو پاتا ۔ کبھی کبھی تو یہ لڑکے لڑکیاںبھاگنے کے بعد نکاح پڑھنا ہی بھول جاتے ہیں اور پولیس کی گرفت میں آجاتے ہیں پھر ان کی وہ درگت ہوتی ہے کہ ان کی عقل ٹھکانے لگ جاتی ہے ۔ آج کل تو لڑکیاں زیادہ خود کشی کر لیتی ہیں ۔ خود کشی نہ کریں تو کیا کریں ۔ حالات حد سے گذر جاتے ہیں ۔ خود غرض لڑکے ان جیسی لالچی لڑکیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں اور انہیں سرِ راہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کے پیٹ میں ان کی نشانی ہوتی ہے جسے چُھپانے کے لیے انہیں خود کشی کرنی پڑتی ہے ۔اُس نے ایک بار پھر زمانی کو دیکھا اور خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا ۔ زمانی گہری نیند سو چُکی تھی اکبر بھی سونا چاہتا تھا لیکن اُس کے خیالات کا سلسلہ پھرآگے بڑھنے لگا۔ زمانی اگر سونے کا ہار مانگے گی تو میں کہاں سے لاکے دیدوں میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں ۔ میں تو اُن سے وعدہ کر چُکا ہوں ۔ انہی خیالات میں گم سُم اکبر کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔ 
جب اکبر کی آنکھ کھلی تو اُجالا ہو چُکا تھا ۔ کمرے میں دیکھا تو پتہ چلا کی زمانی جا چُکی ہے ۔ اکبر کا دل بوجھل بوجھل سا ہوگیا ۔ اُسے لگا کہ زندگی میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ خالی خالی ہے ۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جی چاہ رہا تھا لیکن اُس نے ہمت جُٹائی اور سوچنے لگا چلو آج زمانی کی ڈیمانڈ پوری کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ زمانی کب تک مجھے ترسائے گی ۔ 
اکبر بستر سے اُٹھا ۔ کپڑے پہننا چاہے لیکن اُسے قمیض نہیں مل رہی تھی ۔ تھوڑی دیر تلاش کے بعد اُسے پتا چلا کہ قمیض تکیے کے نیچے ہے اُس نے قمیض کی آستین پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لی تو قمیض کے ساتھ ایک کاغذ کا ٹکڑا اُس کے سامنے آ گرا ۔ اُس نے اس کاغذ کے ٹکڑے کو اُٹھایا تو اُس میں کچھ لکھا ہوا تھا ۔ اکبر نے اپنی آنکھوں کو کچھ دیر کے لیے بند کر کے پھر کھول دیا، اُس کی آنکھوں میں ابھی بھی نیند کا خمار تھا۔ اُس نے کُرسی کو کھڑکی کی طرف سرکا یا اور دھڑام کے ساتھ کُرسی پر بیٹھ گیا ۔ کھڑکی سے دھیمی دھیمی روشنی آ رہی تھی۔ اس روشنی میں اُس نے اُس تحریر کو پڑھنے کی کوشش کی جو اس کاغذ کے پُرزے پہ لکھی تھی ۔ 
’’جناب اکبر صاحب اسلام علیکم 
میں بہت ہی شرمندہ ہوں کہ آپ کو پریشان کر رہی ہوں ۔ میں رات کو آپ سے بات کر نہیں سکی ۔ کیونکہ بات ہی کچھ ایسی تھی ۔ آپ نے وعدہ کیا تو مجھے اطمینان ہوا اور میں چین کی نیند سو سکی ۔ اب میں اپنا مدُعا اس خط کے ذریعے بیان کرنا چاہتی ہوں تاکہ آپ کو زیادہ سوچنا نہ پڑے ۔ میں جانتی ہوں کہ یہ خط پڑھ کے آپ کو دُکھ ہوگا ۔ لیکن آپ وعدے کے پکے انسان ہیں اور آپ نے تو کہا ہے کہ جان مانگو تو جان دینگے ۔ لیکن میری دُعا ہے کہ آپ ہمیشہ جیں اور خوش رہیں ۔ یہ شادی میری مرضی کے خلاف ہوئی ہے ۔ مجھ سے زبردستی ایجاب و قبول کروایا گیا ہے ۔ اس شادی سے میں بالکل بھی خوش نہیں ہوں ۔ آپ تو میرے قدموں میں ستارے بچھانے والے تھے ۔ لیکن مجھے چاند ستاروں کی تمنا نہیں ۔ہو سکے تو مجھے طلاق دیکر آزاد کر دو تاکہ میں اپنی مرضی کی زندگی گذار سکوں ۔ آپ بھی اپنے لیے کوئی اچھا ہم سفر تلاش کیجئے اور خوش رہیے ۔مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے نا اُمید نہیں کرینگے‘‘
وسلام 
رات کی دُلہن رمضانی 
خط پڑھنے کے بعد اکبر کو لگا کہ یہ خط نہیں بلکہ ایٹم بم ہے جو کسی طاقتور ملک نے گرا دیا ہو، جس کے ذرے اُس کے انگ انگ میں گھس کر اُنکےتنکے بکھیر رہا ہو۔
 
لمر گوشن دراس ضلع کرگل لداخ 
موبائل نمبر :۔ 9419399487,9622221748
Email-smartdrass786@gmail.com
 

تازہ ترین