مولانا عبد الولی شاہ صاحبؒ

اُس کی اُمیدیں قلیل ،اُس کے مقاصد جلیل

5 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

حافظ خورشید عالم خان۔۔۔ دلدار کرناہ
 دریائے   جہلم کے دونوں کناروں پر آبادبارہمولہ وادی کشمیر کا ایک تاریخی قصبہ ہے ۔باہمولہ کے حصہ میں یہ سعادت آئی ہے کہ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ نے تقریباً تین برس تک اس قصبہ میں قیام فرمایااور آپ نے1905 ء  میں خواجہ عبدالصمد ککرو کے ہمراہ فریضہ حج ادا فرمایا۔ انہوں نے حجاز مقدس سے واپسی کے بعد خواجہ عبد الصمد ککرو،خواجہ امیر الدین ککرو اور خواجہ امیر شاہ کے تعاون سے  1324 ھ بمطابق  1907بارہمولہ میں’’ مدرسۂ فیض عام‘‘ قائم فرمایا جو صرف تین برس اپنی خدمات جاری رکھ سکا۔ امام العصر ؒ لوگوں کی بد معاملگی اورناروا سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر واپس دیوبند تشریف لے گئے۔ دیوبندتشریف لے جانے کے بعد بارہمولہ اور اس کے گردونواح میں دینی بیداری پیدا کرنے اور توحید کاعلم بلند کرنے کاکام مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے کیا۔ مولانا عبدالولی شاہ صاحب نے جس دل سوزی اور پا مردی سے دعوت و تبلیغ اور احیائے تو حید وسنت کا کام انجام دیا ،اس کے اعتراف میں خود علامہ کشمیریؒ نے فرمایا کہ جس طرح آپ نے بدعات کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ میرے بس کی بات نہیں تھی۔
مولانا عبد الولی شاہ صاحب  1896 ء میں دیو بگ ٹنگمرگ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گرامی کا نام سید یاسین شاہ تھا۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کی وجہ سے بچپن اپنے چچا کے پاس آبائی گا ئوں ناران تھل میں گزارا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ’’مدرسہ نعمانیہ امرتسر‘‘ چلے گئے جہاں مفتی اعظم امرتسر مولانا غلام مصطفی اور مولانا محمد حسن سے تعلیم حاصل کی۔پھر مراد آباد کے ایک گائوںحسن پور چلے گئے جہاں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے خلیفہ مولانا ولی احمد سے علم حاصل کیا۔ 1920 ء میں دہلی کے مشہور’’ مدرسہ ٔ  امینیہ میں داخلہ لیا۔اس وقت مدرسہ میں مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ درس دیتے تھے۔ مولانا مدرسہ امینیہ سے ہی فارغ ہوئے۔مدرسہ امینیہ   1315ہجری میںمولانا امین الدین نے مولانا انور شاہ کشمیریؒ  کے تعاون سے قائم فرمایا تھا۔جب مولانا امین الدین نے مدرسہ قائم کرنے کی تجویز امام العصر ؒ کے سامنے رکھی تو انہوں نے اپنی کل آمدنی جو سولہ سترہ روپے تھی، چندے میںدے دی۔علامہ کشمیری ؒ ہی مدرسہ کے پہلے صدر مدرس تعینات ہوئے۔ علامہ کشمیری  ؒ  1319 ھ تک مدرسہ امینیہ میں درس دیتے رہے۔مولانا عبدالولی شاہ صاحب کا زمانہ طالب علمی بڑی مشکلات سے گذرا۔ایک مرتبہ ایک شخص کتے کو کو روٹی ڈال رہاتھا۔ بھوک سے بے تابی کے باعث مولانا نے کتے کے سامنے روٹی گرنے سے پہلے ہی اپنے ہاتھوں میں تھام لی۔ وہ صاحب ناراض ہونے لگے تو شاہ صاحب نے فرمایا’’ تم کتوں کو روٹی ڈال رہے ہویہاں انسان کئی دنوں سے بھوکے ہیں۔‘‘
مدرسہ امینیہ سے فراغت کے بعد مولانا امرتسر میں دینی خدمات انجام دینے لگے۔چند برس کے بعد کشمیر واپس تشریف لے آئے۔کچھ عرصہ کے بعد حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے بیعت کی غرض سے یوپی چلے گئے۔ ڈیڑھ سال کی محنت کے بعد اپنے اساتذہ کی وساطت سے حضرت تھانویؒ سے شرفِ بیعت حاصل ہوئی۔ مولانا عبد الولی شاہ ؒاپنے زمانہ کے چوٹی کے علماء و صلحاء سے فیضاب ہوئے۔یہ ان بزرگوں کی تعلیم وتربیت اور صحبت کا اثر تھا کہ مولانا نے عقائد کی اصلاح کا کام ایک ایسے معاشرے میں شروع کیا جہاں بدعات و خرافات کادور دورہ تھا۔خوش اعتقادی کے نام پر جہالت عام تھی،کشمیر صدیوں کی غلامی کی وجہ سے نہ صرف سیاسی وسماجی سطح پرڈوگرہ شاہی کے ظلم وجبر کی چکی میں پس رہا تھا بلکہ علم و عرفان،زہدو تقویٰ اوردینی علوم و فنون سے بھی تہی دست ہو چکا تھا۔کشمیری قوم کا ماضی شاندار تھا لیکن حال جہالت کی دبیز تہوں میں لپٹا ہوا تھا۔ چندملائوں اور نام نہادپیر زادگان کی من مانی تاویلات اورروایتی رسم و رواج کی ادائیگی کا نام دین رہ گیا تھا۔ مذہب کی آڑ میں ایک مخصوص طبقہ اپنے معاشی تحفظات کی فکر میں تھاجس نے اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے معاشرہ کو تو ہمات و بدعات میں جکڑرکھا تھا۔ ان مشکل حالات میں مولانا عبد الولی شاہ صاحب نے پرچم توحید بلند کیااور بنیادی عقائد کی اصلاح کے لئے مساجد میںوعظ و تبلیغ کا سلسلہ شروع فرمایا۔ ان دنوں لوگوں کی اصلاح کے لئے مساجد میں تبلیغ ہی واحدموثر ذریعہ تھیں۔مولانا ایک جید عالم تھے ۔ان کے بیانات قرآن و احادیث کے حوالہ سے مزین،فکر انگیز اور عام فہم ہوتے تھے ۔لوگوں نے مولانا کی زبان سے توحید وسنت کاآواز ہ سنا توان کے گرویدہ ہوئے ۔یوں عوام میں دینی بیداری پیدا ہونے لگی۔ مولانا نے احیائے سنت کے لئے جد وجہد شروع کی تو آپ ؒکے راستے میں رکاوٹیں بھی ڈالی گئیں۔آپ پر بد اعتقادی کا الزام لگا کر لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کی گئی مگرشاہ صاحب نے دعوت و تبلیغ اور اصلاح عقائد کا کام بڑی درد مندی اورانکساری کے ساتھ جاری ر کھا۔مولاناکو احساس تھا کہ اس دور میں اسلام نہایت غربت کو پہنچ چکا ہے اوراُمت اپنے فرائض سے غافل ہو گئی ہے، اس لئے علماء پر دوہری ذمہ اری عائد ہوتی ہے۔ 
مولانا اور ان کے مخالفین کے درمیان کئی مسائل کو لے کر خوب علمی معرکے بھی ہوئے۔بعض مسائل نے طول پکڑا تو معاملہ عدالت تک بھی جا پہنچا۔مولانا کے ہمدردوں اور مخالفین کے درمیان خوب کشمکش بھی رہتی تھی۔ایک مرتبہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ کسی  اختلافی مسئلے میںامام العصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ سے رجوع کیا جائے۔ فریقین نے ان کو ثالث بنا کر بارہمولہ تشریف لانے کی دعوت دی۔امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ بارہمولہ تشریف لائے اورمختلف فیہ مسائل میں فریقین کے سامنے اپنا موقف بیان فرمایا۔ امام العصرؒ نے مولانا عبدالولی شاہ ؒکے موقف کی تصدیق و تائیدفرمائی۔اس پر فریقین کے درمیان تصفیہ ہوگیا لیکن  1933 ء میںعلامہ کشمیریؒ کے انتقال کے بعد مخالفین پھر سر گرم ہو گئے۔مولانا عبد الولی شاہ صاحبؒ نے بارہمولہ میں ایک دینی درس گاہ قائم کی تھی۔ڈپٹی کمشنر بارہمولہ مہاراجہ کشن کے پاس شکایت درج کی گئی کہ درسگاہ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان اختلافات پید اہو گئے ہیں ۔ اگر اس درسگاہ کو بند نہ کیا گیا تو حالات خراب ہو جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے مولانا کوبلا کر معاملہ کے متعلق پو چھا تو انہوں نے اصل صورت حال ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھی۔ڈپٹی کمشنر نے مقدمہ خارج کر دیا اور مولانا کو درس گاہ چلانے کی اجازت دے دی۔ یہ درس گاہ مولانا نے امام العصر علامہ کشمیریؒ کے مشورے سے قائم کی تھی۔ ایک دن مولانا عبد الولی شاہ صاحبؒ لولاب علامہ کشمیری ؒ کے دولت خانہ پر حاضر ہوئے۔ امام العصر ؒ نے مولانا سے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے لوگ آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے عرض کی ،آپ ہی فرما دیجئے۔ شاہ صاحب ؒ نے فرمایا کشمیر کے لوگ قرآنی تعلیمات سے ناواقف ہیں ،اس کا واحد علاج یہ ہے کہ بارہمولہ میں ایک دینی درسگاہ قائم فرمائیں۔ اس درس گاہ کانام ’’مدرسہ تعلیم القرآن‘‘ تھا جو قاضی حمام میں قائم کی گئی تھی۔ 
 شاہ صاحبؒ کے مخالفین نے صغیر سنی کے حوالے سے ایک کیس میں عدالت سے مولانا کو سزا دلانے کی بھر پور کوشش کی۔مولانا نے ایک بچی کا نکاح پڑھا تھا جسے ان کے مخالفین نے نابالغ قرار دے کر عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ قانون کی نظر میںیہ جرم تھا۔ان لوگوں نے ڈاکٹروں سے جعلی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلئے۔ان دنوں بارہمولہ کے ڈپٹی کمشنر اکرم خان تھے جن کے مولانا سے دوستانہ تعلقات تھے۔عدالت میں طلبی کی مگرصبح ہی ڈی سی نے اپنے چپراسی کو مولانا کے پاس بھیج کر مشورہ دیا کہ عدالت میں نکاح پڑھانے سے انکار کردیں۔مولانا نے اس چپراسی سے کہا کہ ڈی ۔سی صاحب سے کہنا کہ جب میں نے نکاح پڑھایا ہے تو انکار کیسے کر سکتا ہوں؟ڈی۔سی صاحب ناراض ہو گئے اور اس کا اظہار بعد میں بھی کیا۔عدالت میں مولانا نے اپنے بیا ن میں لڑکی کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس لڑکی کی عمر بیس برس ہے۔اگر آپ کو شک ہو تو اس کا معائنہ کیا جائے۔ لڑکی کی جانچ کے لئے اسے سرینگر روانہ کیا گیا اور ڈاکٹر شوجی نے عدالت میں لڑکی کی عمر اکیس برس ظاہر کی۔
ایک مرتبہ مولانا قاضی حمام کی مسجد میں نماز مغرب پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے۔امام صاحب کی عدم موجودگی میں مولانا نے امامت فرمائی۔مولانا نے نماز کے بعد تبلیغ شروع کی ۔جب مخالفین کو معلوم ہوا تو بازار میں خوب شور بپاکیا۔ نادان لوگوں نے محض اس بات پر کہ مولانا عبدالولی شاہ ؒوعظ کر رہے ہیں ،قاضی حمام مسجد پر پتھرائو شروع کردیا۔پولیس بھی حرکت میں آگئی لیکن مولانا نے اپنا وعظ اطمینان سے جاری رکھا اور رات دیر گئے تک وعظ فرماتے رہے،بعد میں پولیس کی نگرانی میں اپنی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔مخالفین نے بیرون ریاست سے ایک اپنے کسی حمایتی مولوی صاحب کو بارہمولہ اس غرض سے لایا کہ شاہ صاحب کے بیانات کے اثر کو کم کیا جائے جس سے بارہمولہ کی فضااور پر تنائو ہو گئی۔ چنانچہ شیخ عبداللہ کوبھی تار دے کر بارہمولہ بلایا گیا۔ شیخ صاحب نے فریقین میں یہ تصفیہ کرایا کہ قاضی حمام،جامع مسجد اور میر مسجد میں مولانا عبدالولی شاہؒ وعظ کریں گے، جب کہ دوسری تین مساجد میں بیرون ریاست کے مولانا وعظ کیا کریں گے۔اس دور میں مولانا کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ مولانا کو گالیاں دی جاتی تھیںاور پتھرائو تک کیا جاتا تھا۔ ان پر جادو بھی کیا گیا اور قتل کے منصوبے بھی بنائے گئے۔ایک بار مولانا کو زہر بھی دی گئی۔ مولانا یہ سب سختیاں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے احیائے تو حید و سنت کی محنت میں مصروف رہے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے مخالفین کو کشادہ دلی سے معاف کیابلکہ ان کو راہ راست پر لانے کے لئے متفکر رہے۔  
مولانا عبد الولی شاہ صاحب نے اپنی زندگی میںدو حج کئے۔ پہلے حج کے دوران مولانا ایک دن مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں درس ِ حدیث میں شریک ہوئے۔ درس کے دوران کسی مسئلہ پر مولانا نے اشکال ظاہر کیا۔درس حدیث دینے والے عالم نے دلیل پوچھی تو مولانا نے کسی کتاب کا حوالہ دیا۔دوسرے دن مولانا غار حراء کی زیارت کے بعد اپنے کمرے میں تشریف لائے تو دیکھا کو وہ کتاب ان کے کمرے میں رکھی ہوئی تھی تاکہ مولانا اس جگہ کی نشاندہی کریں جہاں کا انہوں نے حوالہ دیا تھا۔ مولانا نے وہ جگہ نکال کر دے دی۔مدرسہ کے علماء بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے امیر مکہ کو لکھا کہ عجم کے ایک بڑے عالم حج کے لئے مکہ آئے ہیں انہیںیہاں روک لیا جائے۔امیر مکہ نے مولانا کو بلا کر قیام مکہ کی استدعا کی لیکن مولانا قیام مکہ پر راضی نہ ہوئے اورعذر پیش کیا کہ زیادہ عرصہ مکہ میں قیام کرنے سے اس مقدس شہر کی عظمت و محبت میںکہیں کمی واقع نہ ہوجائے۔مدرسہ صولتیہ کے اساتذہ نے بھی آپ کو روکنا چاہا لیکن آپ راضی نہ ہوئے۔ مولانا کے قیام مکہ کے دوران ہی نہر زبیدہ کی تعمیر کے حوالے سے ایک عالمی کانفرنس مکہ میں منعقد ہوئی۔ امیر مکہ نے اس کانفرنس میں مولانا کو مدعو کیا ۔مولانا نے دعوت قبول کی اور اس عالمی کانفرنس میں شریک ہوئے۔
دوسرے حج سے قبل مولانا عبدالولی شاہ صاحب ؒکو مدرسہ صولتیہ کے مولانا موسیٰ کا خط موصول ہوا۔ انہوں نے خط میں درخواست کہ ہمیں معلوم ہوا ہے آپ حج کے لئے آرہے ہیں، اس لئے حج کے دوران ہمارے پاس تشریف رکھیں۔ مولانا نے خط کا کوئی جواب نہیں دیا اور سفر مبارک پر روانہ ہوگئے۔ مولانا چاہتے تھے کہ یہ سفر مبارک نہایت عاجزی اور مسکنت کے عالم میں کیا جائے۔ اگر مہمان بن کر رہیں گے تووہ عاجزی و انکساری کہاں میسر ہوگی جواس سفر کی اصل روح ہے۔ ایک مرتبہ دوران طواف شاہ صاحب کی نظر مولانا موسیٰ پر پڑی لیکن اس خیال سے کہ اللہ کے گھر میں غیر کی طرف دل متوجہ نہ ہوجائے،ان سے ملاقات نہیں کی۔
مولانا عبد الولی شاہ صاحب ؒایک صاحب دل بزرگ تھے۔ تبلیغی جماعت کے ایک مشہور صاحبِ کشف و کرامت بزرگ منشی اللہ دتا ؒ سے بڑا تعلق تھااوروہ بھی ان کی بڑی قدر کرتے تھے۔منشی اللہ دتا نے کشمیر میں دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا اور بارہمولہ کو اس محنت کا مرکز بنایا۔ مولانا عبد الولی شاہ صاحب ؒنے تمام دینی جماعتوں کی حوصلہ افزائی کی اور دعوتی کام میںایک دوسرے کا معاون بننے کی تلقین کی۔ مولانا عبدالولی شاہ صاحب ؒنے جماعت اسلامی جموں کشمیر کے پہلے امیر مولانا سعدالدین صاحب ؒکو ایک خط لکھ کر انتخابی عمل سے دور رہ کر صرف دعوتی کام کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا، حالانکہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ لیاتھا۔ اسی دوران مولانا سعد الدین صاحبؒ ناران تھل شاہ صاحب کی ملاقات کے لئے تشریف  لے گئے تو انہوں نے شوریٰ کے فیصلہ پر اظہار ناراضگی کیا۔ مولانا سعد الدین صاحبؒ نے شاہ صاحبؒ سے کہا کہ اگر آپ کا خط شوریٰ کے اجلاس سے پہلے موصول ہوا ہوتا تو ہم یہ فیصلہ نہیں لیتے۔ مولانا عبدالولی شاہؒ اتحاد اُمہ کے داعی تھے۔ شاہ صاحب کے فرزند ارجمندمفتی عبدالرحیم صاحب مہتمم مدرسہ دارلعلوم المصطفوی بارہمولہ کے مطابق مولانا کے دیگر مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ مضبوط روابط تھے۔مولانا کی حیات میں بارہمولہ میں تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی مسجد امیر شاہ موجودہ بیت المکرم میں اپنا اپنا دینی کام انجام دیتی تھیں۔اختلاف کی نوبت آجانے پر مولانا صلح و صفائی کرا دیتے۔ ان کی وفات کے بعد یہ اتحاد برقرار نہ رہ سکا۔ 
علم و عمل کے پیکر مولانا عبدالولی شاہ صاحبؒ نے اپنی زندگی بڑی سادگی سے گذاری۔بارہمولہ کے رئیس لوگ مولانا سے بڑی عقیدت اور محبت رکھتے تھے لیکن مولانانے ان کی دولت واقتدار کی طرف کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔مولاناآخری دم تک احیائے تو حید وسنت کے کام میں مصروف رہے۔ان کا انتقال  11 فروری 1978 ء کو ہوا اور مسجد توحید گنج کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ مولانا کے شاگرد مولانا حبیب اللہ صاحب نے پڑھائی۔مفتی عبدالرحیم گیلانی مہتمم دارالعلوم المصطفوی توحید گنج بارہمولہ اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر حافظ عبدالرحمن گیلانی ندوی شاہ صاحب کے لائق و فائق فرزند ہیں۔    
رابطہ 8491096996: 
 

تازہ ترین