تازہ ترین

غزلیات

30 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

تم سے کہنی تھی کوئی بات ، چلو رہنے دو
کیسے گزری ہے مری رات ،چلو رہنے دو
عمر بھر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات کریں
مجھکو لگتے نہیں حالات ،چلو رہنے دو
پاس بیٹھے ہو تو آنکھوں میں نہ آنکھیں ڈالو
پھر امڈ آئینگے جذبات ،چلو رہنے دو
ایسے لگتا ہے مرے دل میں اُتر جاؤ گے
یہ تو ہیں میرے خیالات ،چلو رہنے دو
خود ہی جانو میری الفت کا تقاضہ کیا ہے
مجھ سے پوچھو نہ سوالات ،چلو رہنے دو
رات اب ختم ہوئی سورج کو طلوع ہونے دو
کچھ قدم چلتے ہیں اک ساتھ ،چلو رہنے دو
اپنے  چہرے پہ یہ گیسو تو گرا کر نکلو
پھر نہ ہو جائے کہیں رات ،چلو رہنے دو
اب کے جاوؔید نہ چھائے گی یہ گھنگھور گھٹا
اب کہاں ہو گی یہ برسات ،چلو رہنے دو
 
سردار جاوید خان
رابطہ؛ مہنڈر, پونچھ
موبائل نمبر 9697440404
 
 
ہیں جن کے دلوں میں خیالات روشن
ہیں اُن کے لئے سارے حالات روشن
اُبھرتا ہے نورِ قمر ظلمتوں میں
ازل سے ہیں حق کے نشانات روشن
جو رہتا ہے سورج کی صحبت میں دن بھر
وہ ہی چاند کرتا ہے ہر رات روشن
چراغِ تفکر جلایا جو میں نے
نظر آئیں حق کی ہدایات روشن
کتابِ فلک روشنی دے رہی ہے
کریں ذہن و دِل کے مکانات روشن
ہے ابرِ حجاب اب بھی رُوئے قمر پہ
خدا جانے کب ہو ملاقات روشن
محبت کا اِک ذرّہ اپنا لیا کیا
ستاروں کی مانند ہوئی ذات روشن
جسے روشنی کا خزانہ عطا ہو
وہ دیتا ہے ہر اِک کو سوغات روشن
نظر سے یقیں کے دو موتی گِرا دو
کرے گا وہ خود روئے ظلمات روشن
جو دل نفس کی ظلمتوں میں پلا ہو
وہ کیسے کرے اپنی عادات روشن
درخشاں ہیں دُنیا میں اعمال جن کے 
رہیں گی اُنہی کی روایات روشن
ترے نام سے ابتدائے عمل ہے
یقیناً ہوئی ہے شروعات روشن
ترے حُسن کی اِک جھلک کیا چُرا لی
ہوئے مثلِ خورشید نغمات روشن
جنہیں علم کی روشنی ناپسند ہو
کہاں اُن کے ہونگے نظریات روشن
مصیبؔ ہم کو علمِ بلا غت نہیں ہے 
نکلتی ہے اخلاص سے بات روشن
 
ریاض احمد خان مصیبؔ
ساکنہ گلہوتران بھلیسہ
موبائل نمبر؛9596974030
 
عشق کا علاج نہیں ہوتا
ہوتا ہو پر آج نہیں ہوتا
ہے ہر سسک کا لطفِ جدید
دردِ دل رواج نہیں ہوتا
بَک رہا ہوں جنون میں کیا؟
ایسا کوئی مزاج نہیں ہوتا
کھویا بیٹھا ہے راہِ یار میں
دل پہ اُس کا راج نہیں ہوتا
کیا لبوں کی خطا ہے یہ بس
ہلکا یہ دل آج نہیں ہوتا 
 
شہزادہ فیصل منظور خان
طالبِ علم،جی۔ایم۔سی سرینگر
 
 
’’ خود کشی کرتے ہیں کیوں مفلس و دہقان اب‘‘
ہو گئے بنجر سبھی کھیت اور کھلیان اب
 
 رونقِ گلشن کو لوٹا ہے خزاں نے اس طرح
 دیکھ کر ہونے  لگا  باغباں حیران  اب 
 
کل  تلک  تھی جس  جگہ سبز فصلوں کی قطار
کار خانے  ہیں وہاں کتنے  عالی شان  اب
 
ووٹ کی خاطر ہمیں، ہیں دِکھاتے سبز باغ
کرتے ہیں وعدے یہ جھوٹے سیاست دان اب 
 
خوں بہانے میں مزہ  ہے  لگا  آنے منیؔ
آج کا  انسان بھی ہے ہوا  حیوان  اب 
 
ہریش کمار منیؔ بھدرواہی۔
بھدرواہ۔(جموّں کشمیر)
موبائل نمبر؛9796691636
 
 
 
جب تو کردار کا سپاہی ہے
تیرے دامن پہ کیوں سیاہی ہے
تیری آنکھیں بتا رہی ہیں آج
حادثہ کچھ نہ کچھ ہوا ہی ہے
روز منزل کی سمت بڑھتا ہے
آدمی تو بس ایک راہی ہے 
میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
ہر طرف چھائی بے گناہی ہے
آپ کے ارد گرد رہتا ہے
میرا دل آپ کا سپاہی ہے
زخمِ دل آپ نے دیا تھا جو
آج تک وہ ہرا بھرا ہی ہے
آپ کو سچ نظر نہیں آتا
آپ کی پھر یہ کم نگاہی ہے
ان کے بارے میں کیا بتائیں شمسؔ
آپ نے واقعہ سنا ہی ہے
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی / اردو/ اسلامک اسٹڈیز، 
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری،موبائل نمبر؛9086180380
 
دِل بڑا بے قراررہتاہے 
اُس کا جب انتظار رہتاہے 
اُس کودیتاہے سینکڑوں غم وہ 
دِل میں جوغم گُساررہتاہے 
آپ جب بھی چمن میں آتے ہیں 
کلیوں پرکُچھ نکھاررہتاہے 
جب کبھی کارواں گُزرجائے 
راستے میں غُباررہتاہے 
آپ آتے نہیں وعدے پر
دِل میرابے قراررہتاہے
آدمی کانِشاں نہیں ہوتا
صرف باقی مزاررہتاہے 
اہلِ باطل سے میراپیارے ہتاشؔ
رشتہ کب اُستوارہوتاہے
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن لین جموں
موبائل نمبر8493853607
 
 
بات اِتنی تھی کہ اُس پل اُن کو منائے نہیں
چھوڑ کے گئے جو ہائے!لوٹ کے آئے نہیں
 
لذتِ طلبِ محبت  سے نہیں واقف ہے جو
جلوئہ جاناں کی جانب جوش میں جائے نہیں
 
ہم کو دینا ہے تو ہی دے مال و زر محنت کا وہ
خُشکۂ خیرات خادم ہم کو کھلائے نہیں
 
ہے کِسے پرواہ اذیت کی تِری کہ کہہ اُسے
دائماً دردِ دغا و داغ دِکھائے نہیں
 
روزنِ کشتی کے واحد سازشی ہم ہیں کہ ہم
کون کہتا ہے کہ کشتی کام میں لائے نہیں 
 
لازمی سیراب ؔنورِ ہستیِ شعور ہے
سوزشِ ساغر سے ساقی ہوش اُڑائے نہیں
 
سیرابؔ کشمیری
دیور لولاب(کپوارہ)
رابطہ؛ 9622911687
 
 
کس خطا کے عوض ستائے ہوئے ہیں لوگ
کِن کا راز دل میں دبائے ہوئے ہیں لوگ
 
لاشیں پڑی ہوئی ہیں اب کھلی ہوا میں یوں
مر چکے ہیں یا یہ سُلائے ہوئے ہیں لوگ
 
ناراضگی نہ جن کو راس آئی نہ خوشی
چاہت کے خنجروں سے دبائے ہوئے ہیں لوگ
 
ماتم کدوں سے جھانکتے آتے ہیں نظر جو
ماضی کے زخموں کو چھپائے ہوئے ہیں لوگ
 
کچھ قتل ہوگئے ہیں کچھ آتشکدوں کی دھول
جینے کا نیا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں لوگ
 
خشیوں کو کیا زیر یا خاموش قبر میں 
نئی امیدِ شمع جلائے ہوئے ہیں لوگ
 
زندگی کہاں ہے جو ہو سکوں نصیب
سمجھے رسی کو سانپ ڈرائے ہوئے ہیں لوگ
 
سچ بولنے کی ہمت کرئے کون اے صداؔ
آنکھوں میں کٹی رات، ستائے ہوئے ہیں لوگ
 
صداؔ کشمیری
لعل بازار سرینگر
موبائل نمبر؛9419007370   
 
 
ذرا سی بات ہے سائیں
مگر سوغات ہے سائیں
 
نہ کوئی صبح کا پرتو
یہ کیسی رات ہے سائیں
 
مقدر کی یہ بازی ہے
غضب کی مات ہے سائیں
 
اسی کا عکس ہے اس میں
یہ جو برسات ہے سائیں
 
یہ جینا شہرِ شورش میں
بڑی یہ بات ہے سائیں
 
فضا بھی رقص کرتی ہے
بتا کیا بات ہے سائیں
 
رسالے اور شعر و فن
یہ سب خیرات ہے سائیں
 
مرا ہی نام راشف ؔہے
یہی سچ بات ہے سائیں
 
راشفؔ عزمی
  طالبِ علم شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی
  فون نمبر؛8825090381