تازہ ترین

خوابِ گراں

افسانہ

30 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

راجہ یوسف
  پروین کے دن کا چین اور راتوں کی نیند اڑ چکی تھی۔  وہ ہر صبح گائوں کے چشمے کے کنارے بیٹھ جاتی ۔ جس میںدور دور تک کنول کے پھول کھلتے تھے۔  وہ چشمے کے شفاف پانی میں ماجد کا عکس تلاشتی رہتی  جو بچپن میں اکثر  اس کے ساتھ یہاں آکر پانی میں اپنا ہلتا ڈلتا عکس دیکھ کر خوش ہوجاتا تھا۔  اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں کنول کے پھول لے کر پانی پر مارتا تھا۔  ہاتھوں سے پانی کو ہلا جلا کر اپنا عکس پانی پر بکھرا  دیتا تھا اور خوش ہوکر چلاتا رہتا  تھا۔  پروین  اسے خوش دیکھ کر اور زیادہ خوش ہوجاتی تھی۔ ۔۔  وہ خیالوں میں ذہن کے اسکرین پر ماجدکا عکس ابھار لاتی ۔ پھر وہی عکس دیر تک چشمے کے پانی میں تلاشتی رہتی لیکن ماجد کے ننھے ہاتھ اس کے تخیل میں بساچہرا ٹھہرنے نہیں دیتے ۔  جونہی شکل بننے لگتی اسی وقت وہ بکھر کر پانی میں گدمڈ ہو جاتی۔  وہ ٹکر ٹکر پانی کو  دیکھتی رہتی، لیکن یہاں  اسے ماجد کے بدلے اپنی ہی صورت نظر آتی  ۔  وہ غصے میں ماجد کی طرح دونوں ہاتھ پانی کی سطح پر مارتی۔  اس کی صورت ٹوٹ کربکھر جاتی۔انگلیوں سے پانی کو زور زور سے ہلاتی  توشکل پانی کی لہروں  میں تحلیل ہوکر گم ہو جاتی ۔ وہ پانی سے  ایک ہی جگہ رکا رہنے کی التجا کرتی۔ چشمے کے کنارے کو دو نوں ہاتھوں سے پکڑ لیتی  ۔ پانی سے اپنے بیٹے کا عکس مانگتی ۔  یہ عمل وہ ہزار بار دہراتی ۔
ماجد اسے چھوڑ کرجا چکا تھا اور وہ  اس کے آس پاس ہی اس کے ساتھ چھپا چھپی کا کھیل کھیل رہا تھا ۔۔۔ وہ  ہفتہ دس دن میں اس کے ساتھ دیر تک باتیں بھی کرتا تھا لیکن پروین جانتی تھی کہ وہ اس کے قریب ہوکر بھی اُس سے بہت دور جا چکا ہے جہاں سے اس کا  لوٹ آنا اب مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا۔ماجد اب پندرہ سال کا ہوچکا تھا اور یہ پندرہ سال پرو ین دنیاومافیہاسے بے نیاز صرف ماجدکی پرورش میں کھوئی رہی۔ اس نے ان پندرہ برسوں میں ماجد کو ایک پل بھی اپنے سے دور نہیں کیا  ۔۔۔
      تب پروین صرف انیس سال اور کچھ مہینے کی ہی تھی جب اس کی شادی غلام نبی کے ساتھ ہو گئی تھی  ۔ اس رشتے کے لئے دادی نے زور لگایا تھا۔ غلام نبی اس کی بڑی بیٹی کا لڑکا تھا اور پروین منجھلے بیٹے کی بیٹی ۔  غلام نبی پچیس سال کا خوبصورت گبرو جوان تھا۔ گریجویشن کا امتحان پاس کرتے ہی اسے سرکاری نوکری بھی مل گئی تھی ۔  دادی جلد سے جلد پروین کی شادی اسی کے ساتھ کرا دینا چاہتی تھی ۔ ۔۔ حالات دن بہ دن مخدوش ہوتے جا رہے تھے  اور سب ڈرے ڈرے سہمے سہمے سے رہنے لگے تھے۔ خاص طور سے وہ لوگ جن کے گھروں میں جوان بیٹیاں  تھیں۔  بڑے بوڑھے اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی بھی طرح گھر کی جواں بیٹی جلد سے جلد بیاہی جائے اور ان کے سر سے یہ بھاری بوجھ اتر  جائے تو اچھا ۔ شادی کے بعد غلام نبی اور پروین کا ساتھ صرف گیارہ مہینے کا رہا ۔ ہوایہ تھا کہ ایک دن سارا گائوںفوج نے اپنے محاصرے  میں لے لیا ۔ گھر گھر تلاشیاں ہورہی تھی ۔ ایک ٹکڑی غلام نبی کے گھر کی بھی تلاشی لینے لگی ۔ اس کی کتابوں سے کچھ ایسے کاغذات برآمد ہوئے جن میںسرکار کے خلاف کچھ لکھا ہواتھا ۔ غلام نبی گھبرا گیا ۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور کھڑکی سے چھلانگ لگادی ۔ فوجیوں نے شور شرابے کے ساتھ ساتھ گولیاں بھی چلائیں اور غلام نبی کا جسم گولیوں سے چھلنی ہوگیا ۔ وہ موقع پر ہی دم توڑ بیٹھا ۔  گھر والوں نے ہنگامہ کیا تو ان کو بھی مارا پیٹا گیا ۔ مارپیٹ کے بعد انہیں ایک طرف کھڑا رکھا گیا ۔ غلام نبی کی لاش سارا دن بے گور کفن آنگن میں پڑی رہی۔ شام کواس کی لاش پولیس لے گئی اور رات دیر گئے پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد اس کی میت گھر والوں کو واپس مل گئی۔ پھر صبح تک بات آس پاس کے گائوں تک پھیل گئی اور سب جگہوں سے ہزاروں لوگ یہاں پہنچ گئے ۔  غلام بنی کی میت کو ایک چارپائی پہ رکھ کر سارے علاقے میں اس کا جلوس نکالا گیا اور نعرے بلند ہوتے رہے ۔ پھر بڑی شان کے ساتھ غلام نبی کی میت کو دفنایا گیا ۔
    غلام نبی کی موت سے  پروین پہ جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ اس کے لب جیسے سل کر رہ گئے۔ وہ آنے والوں کو بس ایک ٹک دیکھتی رہتی تھی۔ جس سے گھر والوں کو کافی تشویش ہوگئی ۔  ا نہوں نے پروین کو کئی ڈاکٹروں اور حکیموں کو دکھایا ۔ سب نے ایک ہی بات کہہ دی تھی کہ یہ کسی بھی طرح سے روئے ، نہیں تو اس کا دماغی توازن بگڑ بھی سکتا ہے۔ پھر اس نے غلام نبی کے مرنے کے تین مہینے بعد تب زار و قطار رولیا اور چیخ چیخ کر دُہائی دی جب اس نے ماجد کو جنم دیا ۔ اس دن وہ اکیلی نہیں روئی تھی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے سارے گھروالے بھی رو دیئے تھے ۔۔۔ غلام نبی کے مرنے  اور ماجد کے  پیدا ہونے کے بعد اس کا باپ عبدالرحمان اسے اپنے گھر لایا تھا۔ اس دن بھی یہاں صف ماتم بچھ گئی تھی۔  اسے دیکھتے ہی اس کی ماں ، دادی بھائی بہن سب بہت روئے تھے ۔  اڑوس پڑوس تو سارا امڈ آیا تھا اور ہر ایک کی آنکھ نم تھی۔ دادی تو اس کے بعد کبھی مسکرائی بھی نہیں تھی ۔  ماجد کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہی  دادی نے بہت کوشش کی تھی کہ جوان بچی کی پھر سے شادی ہوجائے ۔ وہ کب تک اپنی جوانی کا بوجھ لئے پھرتی رہے گی۔ لیکن پروین کے انکار کے سامنے کسی کی بھی ایک نہ چلی۔اور پروین، وہ جیسے اپنے بیٹے ماجد کے پیار میں خود کو فراموش کرچکی تھی ۔ وہ ایک لمحہ اس کے بغیر نہیں رہتی تھی ۔ اس نے ماجد کا ایڈمشن پاس والے ا سکول میں کرالیا۔ صبح اسے اسکول تک چھوڑنے جاتی اور چار بجنے سے پہلے ہی اسکول کے باہر کھڑی ہوجاتی ۔ اس کا بس چلتا تووہ بھی سارا دن  ماجد کے ساتھ ہی اسکول میں گزار دیتی ۔۔۔۔ یہاں تک کہ گائوں کے بڑے چشمے تک بھی ماجد کے بغیر نہیں جاتی تھی۔ وہ دونوں ماں بیٹا اکثر یہاں  بیٹھتے تھے ۔ ماجد چشمے سے نکلنے والی بڑی اور کھلی ندی میں کنول کے پھولوں کے ساتھ کھیلتا رہتا تھا اور  پروین یوں تو ماجد کو دیکھتی رہتی تھی لیکن وہ خیالوں میں غلام نبی کے ساتھ یہاں چشمے کے کنارے بیٹھی اس کے مسکراتے  چہرے کو تکتی رہتی تھی۔ اس کے پاس غلام نبی کی یادوں اور قربتوںکا بہت ہی قلیل سرمایہ تھا لیکن اس نے اسی کو اپنی ساری زندگی کا اوڑنا بچھونا بنالیا تھا۔
   ماجد ابھی ابھی ہائیرسکنڈری میں آیا تھا۔یہاں روز کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہوتی ہی رہتی تھی اور لڑکے اسکول سے باہر آکرسکورٹی فورسز پر پتھرائو شروع کردیتے تھے۔ ماجد سب سے آگے رہتا تھا۔ سارے لڑکے ماجدکو اپنا لیڈر ماننے لگے تھے ۔ ایک تو لڑکے میں جرأت بہت تھی اور دوسری بات یہ بھی تھی کہ باپ کی قربانی کی وجہ سے سبھی لڑکے اور اساتذہ اُسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔  بہت جلد ماجد کا نام پولیس کی ڈائیری میں آگیا تھا اورآئے دن اس کے گھر چھاپے پڑنے لگے تھے۔ وہ کسی نہ کسی طرح بچتا رہا مگر اس کے بدلے دوتین بار اس کے ما موں عارف کو مار پڑی اور ایک بار اسے گرفتار کرکے بھی لے گئے ۔ اس دن تو حد ہی ہوگئی تھی جب ایک چھاپے کے دوران اس کی ماں کو گھیسٹ کر باہر لایا گیا ۔ اس کے باپ عبدالرحمان نے مداخلت کی تو اسے زدوکوب کیا گیا اور دو دن تھانے میں بند رکھاگیا ۔ پھر اسے مچلکے پر چھوڑ دیا گیا جس میں اس سے اقرار لیا گیا تھاکہ وہ ماجد کو پولیس کے حوالے کردے گا۔ بس یہ سب سنتے ہی ماجدکا گھر سے بھاگنا ناگزیر بن گیاتھا ۔ وہ کسی جنگجو تنظیم میں شامل ہوگیا۔ اور اسی شام  اس کی فوٹو سوشل میڈیا پربھی آگئی تھی  ۔۔۔ 
جنوری کا مہینہ تھا اور چلہ کلان کا موسم چل رہا تھا۔۔۔ باہر کڑاکے کی ٹھنڈ تھی۔ اس لئے گھر کے سبھی لوگ کچن کے ساتھ جڑے حمام والے کمرے میں بیٹھے تھے ۔ جو بہت گرم تھا۔ پروین کا چھوٹا بھائی عارف  جلدی جلدی کمرے میں گھس گیا ۔۔۔ 
 ’’ آپا ۔۔۔ آپا ماجد کا فون ۔۔۔‘‘ سبھی لوگ خاموشی سے عارف کو دیکھنے لگے، پھر پروین کو، جس نے جلدی سے عارف کے ہاتھ سے فون لے لیا ۔ اب سبھی  پروین کو دیکھ رہے تھے ۔ کسی کے چہرے پر تجسس تھا، توکسی کے چہرے پر ڈر اور کسی کے چہرے پر خوف کے سائے لہرا رہے تھے ۔۔۔
 ’’ ہاں میرے بیٹے ۔ میرے لعل ۔‘‘   پروین کی آواز میں کپکپاہٹ تھی ۔عارف نے موبائیل فون کا آن پر رکھا تھا۔  فون سے ماجد کی آواز صاف اور اونچی سنائی دے رہی تھی ۔ سبھی لوگ سانس روکے ماجد کو سن رہے تھے ۔۔۔
 ’’ ماں رونا نہیں ۔۔۔ ‘‘  پروین کے چہرے پر جیسے مردنی چھا گئی۔ باقی لوگ بھی پریشان ہوگئے تھے
’’ماں اپنا خیال رکھنا ۔ ۔۔ ماں مجھے واقعی بہت دکھ ہے۔  میں ا ٓپ کا زیادہ ساتھ نہ دے سکا۔ ماں میں اپنے ابو کے پاس جارہا ہوں ۔ ماں میں ابوکو تیری ساری باتیں ،  تیرے سارے دکھ ،  سارے درد بتا دوں گا۔۔۔  ماں میں اسے بتا دوں گا ۔   میری ماں  ا ٓپ کو بہت مس کرتی ہے۔۔۔  ماں ،  میں اسے بتا دوں گا میری ماں آج بھی روز چشمے پر جاتی ہے۔  اور وہاں گھنٹوں تیری یاد میں آنسوں بہاتی رہتی ہے۔   میری ماں  ا ٓپ کو قریب سے محسوس کرنے کے لئے مجھے اپنے قریب رکھنا چاہتی ہے۔  وہ مجھ میں ا ٓپ کا عکس تلاشتی رہتی ہے۔  میری ماں ۔۔۔  میں اسے بتا دوں گا کہ میری ماں میرے بغیر نہیں جی پائے گی ۔ میری ماں نے سارے جہاں سے ا ٓپ کے بعد مجھے چن لیا ہے ۔ لیکن میںآپ کے چنے راستے کا شیدائی ہوں۔ میں نے آپ کا راستہ چن لیا ہے۔
  کمرے میںسارے زار و قطار رو رہے تھے ۔اور پروین کا باپ عبدالرحمان سب کو خاموش کرانے کی کوشش کررہا تھا ۔۔
  ’’ بڑی دادی ۔  بوبہ ٹاٹھی ۔ دادا جان ، شرین ماسی ۔ آپ سب مجھے معاف کرنا ۔ میری وجہ سے آپ سب کو بہت دکھ ملے۔‘‘ 
 ساری عورتیں زور زور سے رونے لگی 
  دادی ، بوبہ ٹاٹھی۔ آپ لوگ ابھی رو مت۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔ میں اپنے  عارف ماما  سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ 
 ’’ ہاں ہاں ۔۔۔ بولو ۔۔۔ بولو میرے ماجد۔۔۔۔ دادی ۔۔۔  ماں ۔ یہ رونا  دھونابند کرو ۔ ہاں ماجد آپ بتائو‘‘
 ’’ عارف ماما میری ماں بہت دکھی ہے اور اب میرے بغیر بہت اکیلی بھی پڑ جائے گی ۔  اس کا خیال رکھنا ‘‘ ساتھ ہی کمرے میں ایک ساتھ سب کی دھاڑیں مار کر رونے کی آواز گونج اٹھی ۔
 ’’ آپ سب لوگ چپ ہوجائو ۔۔۔یا دوسرے کمرے میں چلے جائو  ‘‘عارف سب کو چپ کرانے کے لئے چیخ پڑا تھا
ماجد ۔۔۔  ماجد ۔۔۔  میرے بیٹے  واپس آجائو ۔  ہم ماں بیٹا کہیں دور چلے جائیں گے ۔ ان سے دور جن کی وجہ سے یہاں ماں بیٹے  ایک ساتھ نہیں رہ پاتے ہیں ۔  ماجد میں تیرے بغیر نہیں جی پائوں گی ۔ نہیں جی پائوگی۔‘‘ پروین کی چیخیں نکل رہی تھیں
 نہیں ماں اب بہت دیر ہوگئی ہے ۔ میں محاصرے میں پھنس چکاہوں ۔ میرے دو ساتھیوں نے اپنی جانہیں قربان کی ہیں۔ اب میری باری ہے۔ ماں مجھے معاف کرنا۔۔۔  مجھے معاف کرنا  ماں ۔۔۔ ‘‘   فون پرتڑ تڑ گولیوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔۔۔ دھماکوں اور گولیوں کی اسی گن گرج میں جیسے کہیں دور ماجد کی نحیف لیکن مدھر آوازبھی ابھرکر آرہی تھی۔۔۔
 ’’ لااللہ اللہ محمد رسول ا للہ  ﷺ  ۔۔۔  ‘‘
کمرے میں سب پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا تھا۔  اس گہری اور موت ایسی خاموشی کو عبدالرحمان کی کپکپاتی آواز نے توڑدیا تھا۔
’’ انا للہ وانا الیہِ راجعون ۔۔۔‘‘ 
 اسلا م آباد،فون نمبر9419734234