تازہ ترین

رہبر تعلیم استاد کا محنتانہ یا مذاق!

24 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 محکمہ تعلیم میں تعینات ایس ایس اے رہبر تعلیم اساتذہ جن کو تین ماہ کے بعد ایک ماہ کی تنخواہ کئی بار کی گذارشات اور ریاست گیر احتجاجی کال کے بعد واگذار ہوئی ۔ شوکت احمد جو کہ پیشے سے رہبر تعلیم استاد ہے حسب معمول کلاس میں پڑھا رہا تھا کہ اسی دوران ساڑے تین بجے کے قریب اس کے موبائل میں وائبریشن ہوئی ۔کلاس ختم کر نے کے بعد جو وہ کلاس سے باہر آئے اور موبائل فون چیک کیا اس پر اْسے بنک کی طرف سے مسیج آیا ہوا تھا کہ آپ کے کھاتے میں پیسے جمع ہوئے ہیں ۔شوکت احمد کے چہرے پر تھوڑی رونق سی آگئی اور اس کے آنکھوں میں وہ تمام دوکانداروں آئے جنہیں اس کو پیسہ دینا تھا جس میں اشیائے خوردنی سے لیکر سبزی پھل دودھ والا اور دوائی والا شامل تھا۔ شوکت احمد جب سکول سے چار بجے فارغ ہوا تو اس نے سیدھا اپنا رخ بنک کے اے ٹی ایم کی طرف کیا جہاں پر صارفین کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی اور وہ بھی پیسے نکالنے کے لئیقطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کر نے لگے ۔ اس دوران بنک اے ٹی ایم سے کچھ صارفین خالی ہاتھ لوٹے اور کچھ پیسہ نکال کر جا رہے تھے ۔دریافت کر نے پر کوئی اسے کہنے لگا کہ اے ٹی ایم خراب ہے تو کوئی کہنے لگا کہ میرا کارڈ لگ گیا اور میں کیش نکالنے میں کامیاب ہوا ۔شوکت احمد اب اس کشمکش میں مبتلا ہو گیا کہ وہ قصبہ میں واقع دوسرے اے ٹی ایم کا رخ کرے یا پھر یہاں پر ہی انتظار کرے۔ان چند منٹوں کے دوران وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر ایک مسیج آیا چیک کر نے پر اْسے معلوم ہوا کہ اس کے پی سی ایل لون کی ایک قسط اس کے کھاتے سے کاٹ کر لون میں میں جمع کر دی گئی ہے۔ لون کی قسط سات ہزار روپے ہے ۔ شوکت احمد اب تک سوچ رہے تھے کہ اْن کی بقایا دو مہینوں کی تنخواہ میں سے وہ بنک کو قسط ادا کریں گے لیکن اب دل کو تسلی دی کہ چلو بنک قسط بھی ضروری ہے یہی سوچتے سوچتے پیسے نکالنے والوں کی قطار آگے بڑھ رہی تھی کہ موبائل فون پر ایک اور مسیج آیا کہ اس کے اکاونٹ سے ایک اور قسط کاٹ دی گئی یہ پڑھتے پڑھتے ہی بقایا تیسری قسط کا مسیج بھی اس کے موبائل فون پر آگئی ۔ 27ہزار کے قریب نقد تنخواہ لینے والے اس استاد کی تین ماہ کی سات ہزار کے حساب سے 21ہزار کاٹ دیے گئے۔اب اس کے بنک کھاتے میں پہلے کے پڑھے تین سو روپے لیکر کل چھ ہزار تین سو روپے بچ گئے تھے ۔شوکت احمد صارفین کی قطار سے باہر آئے اور سوچنے لگے کہ آخر کار وہ یہ چھ ہزار روپیہ کس کس کو دے اور جیب خرچ کیا رکھے آخر کار بنک اے ٹی ایم کے ساتھ ہی اوپھر والی منزل میں بنک برانچ بھی قائم تھی بمشکل ڈگمگاتے ہوئے قدموں کے ساتھ شوکت احمد بنک برانچ کی سیڑھیوں سے چل کر برانچ کے اندر داخل ہوئے اور منیجر صاحب کے پاس پہنچ کر اْنہوں نے منیجر صاحب سے استدا کی کہ اْن کی بند پڑی تین ماہ کی تنخواہ میں سے صرف اْن کی ایک ماہ کی تنخواہ واگذار کی گئی ہے اس لئے ان کے لئے گئے لون کے لئے ایک ہی قسط کاٹ دی جائے اور باقی دو ماہ کی تنخواہ آنے پر کاٹی جائے منیجر صاحب نے معذرت ظاہر کرتے ہوئے شوکت صاحب سے کہا کہ اْن کی مارچ فائینل یعنی کلوزنگ چل رہی ہے اس لئے وہ بھی بقایا قسط کاٹنے پر مجبور ہیں ۔ شوکت احمد وہاں سے بھی نا امید لوٹے اور تب تک اے ٹی ایم میں قطار بھی قدرے کم ہو گئی تھی شوکت صاحب کا پیسے نکالنے کا جب نمبر آیا تو پہلے اس کا اے ٹی کارڈ ہی نہیں لگنے لگا آخر کار دو بار کارڈ لگانے کے بعد یہ پیسہ نکلالنے میں کامیاب ہوا تب تک دیگر صارفین بھی شور مچانے لگے کہ جس کا کارڈ نہیں لگ رہا ہے وہ دوسرے کے لئے جگہ چھوڑے خیر شوکت احمد نے کھاتے میں بچے چھ ہزار تین سو روپے میں سے پانچ ہزار روپے نکالنے میں کامیاب ہوئے اور 1300سو روپے کھاتے میں کسی ایمرجنسی وقت کے لئے چھوڑ دے راستے سوچتے چلتے قرض داروں سے منہ چھپا کر شوکت احمد سیدھا اْس دوکاندار کے پاس پہنچے جہاں سے یہ گھریلو اشیائے خوردنی کا سامان لیتے تھے دوکاندار نے بھی ٹی نیوز میں سْنا تھا کہ رہبر تعلیم اساتذہ کی تنخواؤں کے لئے سرکار نے 140کروڑ روپے واگذار کئے ہیں دوکاندار کی بات سْن کر شوکت احمد کچھ حیران سے ہو گئے لیکن پھر خیال آیا کہ اس میں دوکاندار کا قصور نہیں کیونکہ سرکار کی طرف سے یہ پہلے ہی روز تمام مقامی ریاستی میڈیا میں خبر دی گئی تھی 140کروڑ روپے بطور تنخوائیں واگذار کی گئی ہیں شوکت صاحب نے دوکاندار کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ماہ کی تنخواہ تھی جس میں سے بہتر بنک نے مارچ فائنل کے چلتے لون کی قسطیں کاٹ دی ہیں دکاندار نے اس بات کا فوری جواب دے کر کہا کہ ہاں اس سے پہلے بھی ایک اور ماسٹر جی آئے تھے اور وہ بھی یہی کہہ رہے تھے ۔ آخر کار جْرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شوکت صاحب نے دوکاندار سے کھاتے کی کاپی کو نظر مارنے کے لئے کہا جس سے اْسے دوکاندار کے چہرے پر تھوڑی سی رونق محسوس ہوئی دوکاندار نے فوراً موبائل کلکولیٹر نکال کر جمع کر کے بتایا کہ 22ہزار دو سو بیس روپے آپ کا بقایا ہے ماسٹر جی نے دوکان پر بیٹھے دو مزید گاہکوں کا انتظار کیا اور جب وہ چلے گئے تو شرما کر جیب میں موجود پانچ ہزار روپیے نکال کر دوکاندار کو تھما دیے دوکاندارگنتی کر نے لگا اور ہلکی سی نظر سے شوکت صاحب کے طرف دیکھ کر دوبارہ پلکیں جھکا دی شوکت صاحب نے دوکاندار کو سارا ماجرا سْنا کر کسی حد تک مطمئن کر دیا اور باقی کے پیسے دوسرے مہینے دینے کی یقین دہانی کرائی خیر دوکاندار نے شوکت صاحب پر یقین کر لیا کیونکہ یہ ایک ایماندار شخصیت کے مالک ہیں لیکن حالات نے اسے مجبور بنا دیا ہے شوکت صاحب دوکاندار سے فارغ ہو مزید کچھ سامان لے کر گھر کی طرف روانہ ہوئے شام کو گھر میں والد محترم نے شوکت صاحب سے کہا کہ میں آج دوائی کے لئے میڈیکل شاپ پر گیا تھا میں نے دوائی لائی وہ کہہ رہا تھا کہ شوکت صاحب کی تنخواہ نکلی ہے شاہد میں نے اخبار پر پڑھا تھا بیٹا اْسے کچھ پیسے دے دینا اس تنخواہ میں سے شوکت صاحب نے بڑے حوصلے کے ساتھ والد صاحب کو بتایا کہ جی ہاں کل دے دوں گا آج تھوڑی دھیر ہوئی تھی اس لئے میں گھر نکل آیا دوسرے روز شوکت صاحب اپنے اْسی قریبی دوست کے پاس جا پہنچے حس سے اْنہوں نے دو ماہ قبل ہی مجبوری کی حالت میں دس ہزار روپے اْدھار لے تھے اور اسے ماجرا سْنا کر مزید دس ہزار ادھار دینے کے لئے کہا دوست نے دوسرے دن بنک سے لے کر دینے کے لئے کہا اور دوسرے دن فون کر کے شوکت صاحب کو دس ہزار روپیے تھما دیے حس میں اْس نے چار ہزار دوائی والے کو دئے تین ہزار سبزی والے کو اور اور دو ہزار دودھ والے کو دیکر نانوائی اور میٹ والے کو اگلے مہینے تک انتظار کر نے کی منت کی ۔باقی اخرجات تو ابھی باقی ہیں، اسی اثنا میں شوکت صاحب حسب معمول سکول کی طرف اپنی ڈیوٹی کی طرف روانہ ہوئے جہاں پر اْنہیں بچوں کو پڑھانے کے دوران میں اپنی مالی خستہ حالت کی طرف دھیان آتا ہے وہ اْنہیں احساس ہو رہا ہے کہ جس دلچسپی سے اْنہیں بچوں کو پڑھانا چاہئے شاید وہ یہ فرض منصبی ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر پا رہے ہیں لیکن بار بار توجہ مرکوز کر نے کے باوجود اْس کی مالی پریشانی اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں اور کبھی وہ خود اپنے آپ سے بھی ناخوش، خیر اسی دوران اْنہیں خبر ملی کی وزیر خزانہ کی سیاسی مسلے کو لیکر برخاستگی ہوئی ہے اور دوسرے دن میڈیا کے زریعہ سے معلوم ہوا کہ موجودہ وزیر تعلیم کو وزیر خزانہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے تو ایک خیال دل میں آیا کہ وزیر تعلیم رہبر تعلیم اساتذہ کے مالی مسائل سے اچھی طرح سے واقف ہیں اور خزانہ کا چارج بھی انہی کو ملنے کے بعد شاید ان کی بقایا جات ترجیحی بنیادوں پر واگذار کی جائیں گی… اور شوکت صاحب آج کل اسی انتظار میں ہیں۔
 مظفر وانی 
بانہال، رام بن