سرحد کے اُس پار

23 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد شفیع ساگر
’’پاپا میں بڑاآدمی بنوں گا ‘‘
’’ہاں ویری گُڈ۔ میرے مُنے۔ تم ضرور بڑے آدمی بنوگے‘‘
’’ پاپا آپ جانتے ہیں میں کیا بننا چاہتا ہوں ‘‘ ؟
اقبال بچے کو چومتے ہوئے 
’’ہاں میرے لعل میں جانتا ہوں کہ تم ڈاکٹر بننا چاہتے ہو۔ میرا مُنا ضرور ڈاکٹر بنے گا اور بیماروں کا علاج کرے گا ۔ میرا مُنا لوگوںسے محبت کرے گا ۔ اُن کا مفت علاج کرے گا۔ لوگ میرے مُنے کی خوب تعریف کریں گے اور پاپا بہت خوش ہوگا ‘‘
’’پاپا میں ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا‘‘
’’اچھا تو پھر میرا بیٹا انجینئر بنے گا ۔ بڑے بڑے پُل بنائے گا ، جن کے اُوپر سے گاڑیاں گذریں گی ۔ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرے گا جن کو دیکھ کر دُنیا دنگ رہ جائے گی ۔ میرا بیٹا مہان انینئر بنے گا اور پاپا خوش ہوگا ‘‘
’’نہیں پاپا میں انجنیر نہیں بنوں گا ‘‘ 
’’اچھا تو میرا بیٹا کلکٹر بنے گا ۔ میرا بیٹا لوگوں کی مشکلات سُنے گا اور اُنہیں حل کرے گا ۔ جہاں پانی کی کمی ہوگی وہاں پانی پہنچائے گا ۔ جہاں راشن کی کمی ہو وہاں راشن کا بندوبست کریگا۔ جہاں بے روزگاری کا مسئلہ ہو وہاں روزگار کے وسائل پیدا کرے گا ۔ میرا بیٹا غریبوں کا مسیحا بنے گا ۔ لوگ میرے بیٹے سے ملنے کی تمنا کریں گے،بے سہاروں کا سہارا بنے گا ۔ اور پاپا بہت خوش ہوگا ‘‘ 
’’نہیں پاپا میں آرمی آفیسر بنوں گا ‘‘ 
’’اچھا ابھی یاد آیا ۔ میرا بیٹا فوجی افسر بنے گا ۔ خوبصورت فوجی وردی پہن کر گاڑی میں گھوما کرے گا ۔ کندھے پہ سٹار ہونگے۔ جب دھوپ پڑے گی تو وہ سٹار چمک اُٹھیں گے ۔ جب میرا بیٹا فوجی جوانوں کے پاس سے گذرے گا وہ میرے بیٹے کو سلیوٹ کریں گے ۔ جب میرا بیٹا عام لوگوں کے پاس سے گذرے گا تو لوگ اُسے سلام کریں گے۔میرا بیٹا فوجی جوان بن کردیش کی رکھوالی کریگا۔ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرے گا اور پاپا  بہت خوش ہوگا ‘‘ 
’’ نہیں پاپا میں ایسا نہیں کروں گا ‘‘ 
پاپا حیرانگی سے ’’ بیٹا پھر کیا کروگے ‘‘ ؟
’’پاپا میں سرحد پار گولہ باری کروں گا اور دشمن کو سبق سکھاوں گا ‘‘ 
’’ نہیں نہیں بیٹا ایسا نہیں کرنا ۔ سرحد کے اُس پار ایک خوبصورت چراگاہ ہے ۔جہاں نرم نرم گھاس ہے ۔  بالکل قالین کی طرح ۔ وہاں لمبے لمبے پھول ہیں جو مہمانوں کی سواگت کے لیے ہمیشہ کھڑے رہتے ہیں ۔ وہاں صبح سویرے ایک گڈریا آتا ہے جس کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا ایک بڑا ریوڑ ہوتا ہے ۔ جب وہ تھک جاتا ہے تو نرم نرم گھاس پہ لیٹ جاتا ہے ۔ جب اُسے بھوک لگتی ہے تو تین پتھروں سے چولہا بنا کر اُس میںایک چھوٹا برتن چڑھاتا ہے پھر تھوڑی لکڑیاں  جمع کرتا ہے اور چولہے میں جاکر چائے بناتا ہے ۔ جب بکریاں دور نکلتی ہیں تو تھیلے سے ایک بانسری نکالتا ہے اور اُسے بجانے لگتا ہے۔ بانسری کی خوبصورت آواز فضا میں سُرور پیدا کرتی ہے اور بھیڑ بکریاں واپس چلی آتی ہیں ۔ وہاں پہاڑ سے ایک راستہ دریا تک آتا ہے جہاں سے پہاڑی بکرے روز دوپہر کو پانی پینے آتے ہیں ۔ دریا میں رنگ برنگی مچھلیاں ہیں ، جو اُچھل کے کبھی پتھروں پہ چڑھ جاتی ہیں اور کبھی ساحل پہ آجاتی ہیں۔ دریا پہ ایک خوبصورت پُل ہے جہاں سے گاوں کی عورتیں آیا جایا کرتی ہیں ۔ دریا کے اُس پار خوبصورت کھیت ہیں جنہیں عورتیں پانی دینے آیا کرتی ہیں۔ جب اُنہیں وقت ملتا ہے تو سب ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے کو اپنے دل کا حال سُناتی ہیں یا گانا گا کردل بہلاتی ہیں ۔ وہاں سے آگے ایک گاوں ہے جہاں بڑے بڑے اونچے مکان ہیں ۔ جہاں لوگ صبح بچوں کو گاڑی میں بٹھاکر اسکول تک چھوڑ آتے ہیں اور شام کو واپس لے آ تے ہیں ۔ وہاں ایک محلہ ایسا ہے جہاں مزدور رہتے ہیں جو محنت مزدوری سے اپنا گزارہ کرتے ہیں اُسے غریبوں کا محلہ کہتے ہیں ۔ وہاں ایک اسکول بھی ہے جہاں بچے پڑھتے ہیں ۔ کھیلتے ہیںاورموج مستی کرتے ہیں۔ شام کو جب یہ بچے گھر آتے ہیں تو پاپا کی گود میں چڑھ کر کہتے ہیں، پاپا میں بڑا آدمی بنوں گا ۔ یا ممی کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال کر کان میں کہتے ہیں ممی مجھے بھوک لگی ہے ۔ اسی محلے میں ایک چھوٹا سا مکان ہے جہاں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے ۔ جس کی کمر جھکی ہوئی ہے ۔ جس کی بینائی کمزور ہے، جو آج بھی کہتی ہے کہ میرا بیٹا ضرور آئے گا ۔ جانتے ہو وہ کون ہے ۔؟  وہ میری ماں ہے!‘‘ 
 
لمر گوشن دراس کرگل
ای میل  smartdrass786@gmail.com
موبائل نمبر9419399487,9622221748
 

تازہ ترین