خوشبو کی موت

تبصرہ

23 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل سالمؔ
یوں تو زندگی کا کسی ایک مقام پر ٹھہرائو کا نام نہیں لیکن اس بہائو میں وقت نئے نئے واقعات کو جنم دیتا ہے اور ہر واقعہ انسانی زندگی پر مثبت و منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور اکثر وبیشتر یہ رویے انسانی زندگی پر غالب آکر معاشرے کے بنا و یا بگاڑ کا باعث بن جاتے ہیں ۔اہل دل کو درپیش نفی و اثبات کی یہی صورت جس پر وہ کبھی پھیلتے ہیں اور کبھی کڑھتے ہیں۔ تخلیق کار کا موضوع و مواد فراہم کرتے ہیں۔ 
زیر تبصرہ کتاب ’’خو شبو کی موت‘‘ ریاست کے ایسے ہی تخلیق کار شہزادہ بسمل ؔصاحب کے افسانوں کا مجموعہ ہے ۔شہزادہ بسمل ؔکی اب تک تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کے افسانوں میں فن اور تخلیق کا جذبہ خلوص کے ساتھ پا یا جاتا ہے جس کا انداز ہ ان کے افسانوں سے بحوبی لگایا جاسکتا ہے۔ انہیں مختلف جذبات اور متنوع خیالات سے فکری تجربات کی بنیاد پر کہانی خلق کرنے کا ملکہ حاصل ہے،حالانکہ کئی نئے پرانے لکھنے والوں کو اس کی پرکھ نہیں ہوپاتی ہے کہ کس جذبے کی پیش کش کس پیرائے میں کی جائے،لیکن شہزادہ بسمل کی فکری جمالیات اور فنی حس بہت تیز اور متحرک ہے۔لہذا انھیں جذبات اور کرداری سازی پر حدرجہ عبور حاصل ہے۔
کتاب کا پہلا افسانہ’’بہتی دھارا‘‘ہے ۔جس میں انسانی رشتہ کا درد ناک المیہ پیش کیا گیا ہے۔یہ افسانہ تملق پسند رشتہ داروں کے دل پر کاری ضرب لگاتا ہے،جو اپنی تمام ذمہ داریوں کو بھول کر صرف مال و منال کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔اس افسانے میں ایک اسکول ٹیچر کے تئیں بچوں کی محبت کو بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس مجموعے کا سب سے اہم افسانہ ’’خوشبو کی موت ‘‘ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ مصنف نے اس افسانے کے عنوان کو اپنے مجموعے کے لیے منتخب کیا۔’’خوشبو کے موت‘‘میں انھوں نے تانیثیت اور اس کے عوامل کو موضوغ سخن بنایا ہے۔کوئی انسان اس حد تک سوچ بھی نہیں سکتا کہ بد اخلاقی کے پردہ اخفا ء میں آدمی، خواہ کسی مذہب ،ذات یا مسلک کا ہو،بد کرداری کی اس حد تک پہنچ جائے گا اور اپنی تہذیبی اقدار اور اخلاقی قدروں کو فراموش کردے گا۔
حالانکہ والدین اپنے بچوں کی پرورش و پرداخت کرتے ہوئے سب سے پہلے انہیں اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں اور مختلف قدروں سے روشناس کراتے ہیں۔مگر یہ رویئے جب عملی زندگی سے دور ہوجاتے ہیں تو انسانیت پر شیطنت اور درندگی کے سائے منڈلانے لگتے ہیں ۔جس کا نتیجہ انسانیت کے حق میں نہایت ہی المناک اور درد ناک ثابت ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اس افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
’’میں نے سوچا میں سوئوں گی نہیں بلکہ اپنے دولہے کا ہی انتظار کروں گی،میں حسین دنیا کے تانے بانے بننے میں کھو گئی۔تقریبا آدھا پونا گھنٹہ ہوا ہوگا ۔پھر دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی۔میں اشتیاق بھرے انتظار کے ساتھ سنبھل کر بیٹھ گئی۔کوئی میری مسہری پر آیا۔اس کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی تھی۔میں نے چونک کر اسے دیکھا مگر یہ۔۔۔۔۔وہ نہیں تھا۔۔۔۔پھر۔۔۔۔پھر اگر یہی میرا دولہاتھا۔۔۔تو پھر وہ۔۔۔۔وہ کون تھا؟
اس مجموعے کا ایک اور افسانہ’’سزا ‘‘ہے۔یہ ایسی سسکتی آواز ہے جو یہ کہتی ہے کہ پرانے قدروں کو تہ وبالا کرنے والوں کے لئے سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔یہ فقظ حالات سے سمجھوتہ کرلینے کا استعارہ ہے۔
اس کتاب میں شامل افسانہ ’’پتھر کا گھاٹ ‘‘ جو ازدوجی زندگی کے موضوع ہے، میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اہل خانہ کے کچھ افراد ہی ازدوجی رشتے کو تار تار کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔حقیقتاً وہ ماحول کو پراگندہ کرنا چاہتے ہیں۔لیکن جو  لوگ صبرو تلقین کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے ہیں وہ ہمیشہ قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور انھیں قلبی سکون حاصل ہوتا ہے ۔اس کہانی میں معاشرے کے ان لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے جو اپنی گندی سوچ سے معاشرے کو بھی گندہ بنانا چاہتے ہیں۔
مذکورہ بالا افسانوں  کے علاوہ غبارے والا،چیخ،تیرے لیے،مجروح ساز دل،اس نے کہا تھا،نیا سماج،درد کا رشتہ،اندھیرے اجالے،پیار کی جیت،شہر خموشاں،شب غم،رات باقی ہے اور سرراہ چلتے چلتے، عنوانات کے افسانے اس کتاب میں شامل ہیں جو قنوع موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔
 ان میں سماج کے مختلف مسائل کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ افسانہ نگار نے اجاگر کرنے کی حتی الوسیع کوشش کی ہے۔شہزادہ بسمل کے افسانوں سے یہ پتہ  چلتا ہے کہ معاشرہ اور ماحول پر ان کی کتنی گہری نظر ہے۔بقول پروفیسر ظہور الدین’’خوش آیند پہلو تو یہ ہے کہ فنکار نہ صرف کہانی کہنے کے فن سے واقف ہے،بلکہ ماضی میں ہوئے مختلف تجربات اور ان کے اسالیب سے بھی روشناس ہیں۔اس لیے کہیں تو وہ بیانہ اسلوب اختیار کرتے ہیں توکہیں ڈرامائی ،کہیں وہ خطوط نگاری کے اسلوب کو برتتے ہیں ۔‘‘افسانوں کی زبان آسان ہے، جس سے قاری اور متن کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔اچھے افسانے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں آخر تک تجسس بر قرار رہے ۔یہ خوبی ’’خوشبو کی موت‘‘میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ہر افسانے کی ابتدا  میںایک خوبصورتی شعر رقم کیا گیا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ فکشن رائٹرس گلڈ کے صدر ڈاکٹر نذیر مشتاق نے رقم کیا ہے نیز کتاب کی طباعت کا فی اچھی ہے۔قیمت بھی مناسب ہے۔امید ہے کہ فکشن کے حلقوںمیں اس کی پذیرائی ہوگی۔
           
رعناواری سرینگر ۔رابطہ؛9697330636 

تازہ ترین