تازہ ترین

مزید خبرں

15 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

رعناواری میںشیعہ سنی کارڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس

 لوگوں کوشر پسند عناصر سے خبر داررہنے کی تلقین

سرینگر/ شیعہ سنی کارڈینیشن کمیٹی کے سرکردہ اراکین کا ایک اہم اجلاس ناید یار رعناواری سرینگر میں منعقد ہوا۔جس میں محرم الحرام کے حوالے سے کئی اموارات زیر بحث لائے گئے۔ اجلاس میں جن معززین نے شرکت کی ان میں لبریشن فرنٹ کے بشیر کشمیری، عوامی ایکشن کمیٹی کے مشتاق احمد صوفی و پیر غلام نبی اور انجمن شرعی شیعیان کے غلام محمد ناگو، حاجی ذوالفقار علی وغیرہ شامل ہیں۔ اجلاس میں عامتہ المسلمین سے اپیل کی گئی کہ وہ محرم الحرام کے دوران مفاد خصوصی رکھنے والے شر پسند عناصر کے مکروہ عزائم سے خبر دار رہیں جو محرم تقریبات کے دوران آپسی اتحاد و اخوت کو درہم برہم کرنے کیلئے موقعہ کی تاک میں رہتے ہیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایسے شر پسند عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی جو مختلف طریقوں سے امن و امان کو درہم برہم کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ اجلاس میں طے پایا کہ ایام محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھی جائے گی کیونکہ سوشل میڈیا ایسے عناصر کیلئے انتہائی معاون ثابت ہورہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شیعہ سنی کارڈینیشن کے اراکین شہر سرینگر اور ملحقہ علاقہ جات میں برآمد ہونے والے بڑے بڑے جلوس ہائے عزا میں بنفس نفیس شرکت کریں گے۔ 
 

 عاشورہ کی فضیلت اور واقعہ کربلا 

سوموار کو خانقاہ معلی میں مجلس آراستہ ہوگی

سرینگر// تاریخی خانقاہ معلی میں سوموار دن بارہ بجے دن کے بعد مولانا ریاض احمد ہمدانی محرم الحرام کی فضیلت ، عاشورہ کی فضیلت اور واقعہ کربلا خاصکر حضرت امام عالی مقامؑ نواسہ رسولﷺ امام حسین مجتبیٰ ؑکی پاک سیرت اور شہادت پر واعظ فرمائیں گے۔ نماز ظہر کے بعد ختمات المعظمات ، درود ازکار اور اورادخوانی کی مجلس آراستہ ہوگی۔ایسی ہی مجالس کے تمام خانقاہوں میں حسب قدیم منعقد ہوگی۔10 محرم الحرام حسب قدیم زیارت حضرت سید عبدالرحمن قلندر(بلبل شاہ صاحبؒ )نواکدل میں صبح 9 بجے سازگار حالات رہنے پر مولانا ہمدانی روز عاشورہ کی فضیلت اور شہدائے کربلا کی عظیم شہادت پر واعظ فرمائیں گے ۔
 
 

عاشورہ کے جلوس کو روایتی راستوں سے گذرنے کی اجازت دی جائے:کے سی ایس ڈی ایس

سرینگر//کشمیرسینٹر فار سوشل اینڈڈیولپمنٹ اسٹیڈیزنے مطالبہ کیا ہے کہ روایتی عاشورہ کے جلوس پر سرکار کی طرف سے عائد پابندی کو ہٹایا جائے اور لوگوں کو ان ہی راستوں سے جلوس کوگزارنے دیا جائے،جہاں سے کہ یہ جلوس گزرتا تھا نہ کہ من مانی کے ذریعہ انہیں مخصوص راستوں سے جلوس گزارنے کی ہدایت دی جائے۔ایک بیان میں کے سی ایس ڈی ایسنے کہا کہ حکومت وقت امرناتھ گھپاکی یاترا کیلئے حفاظتی انتظامات کی آڑ میں یاتریوں کوہرممکن سہولت فراہم کرتی ہے،لیکن طویل عرصے سے یوم عاشورہ کے موقعہ پر امام حسین ؓ اور اہل بیت ؓ رسولؐکے محبوں کے جلوس کو روایتی راستوں سے گزرنے نہیں دیا جاتا ہے اوراسطرح حکومت مداخلت فی الدین کا ارتکاب کرتی ہے۔