تازہ ترین

امریکی حربے ہتکنڈے

مسلم ممالک کی ہراسانی وپریشا نی

15 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
 ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں‘ جن کی مسلم دشمنی مسلمہ ہے بلکہ مسلم باپ کی اولاد بارک اوباما بھی مسلمانوں کے دوست نہیں رہے اور انہی کے دور میں اسرائیل کو سب سے زیادہ امریکی مالی امداد منظور کی گئی۔ بش باپ بیٹے ہوں یا کلنٹن ہوں ،ان سب نے اپنے اپنے دور میں عالم اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایااور اتنی ہی مدد عرب ممالک سے حاصل بھی کی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن کے طور پر پیش کیا، اس لئے اگر وہ اس کے مظاہرے میں آخری حد تک گر جاتے ہیں تو تب بھی کوئی حیرت، تعجب اور افسوس کی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے اُن تمام مسلم ممالک کو نقصان پہنچانے کے لئے امریکی امداد یا تو روک دی یا اس میں تخفیف کردی جو ممالک حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پیروں پر آپ کھڑے ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو فوجی امداد ( اسلام آباد اسے واجب ا لوصول رقم کہتاہے) بند کردی اور دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے 30کروڑ ڈالر کی امداد مسدود کردی۔ یقینا پاکستان جیسے ملک کے لئے یہ بہت بڑا دھکا ہے‘ ایسے وقت جب کہ عمران خان نے ملک کی حکومتی کمان سنبھال لی ہے اور ملک کو درپیش بدترین اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے کوشاں ہیں۔ امریکہ کا یہ اقدام وقتی طور ہی سہی پاکستان کے لئے پریشان کن ہے اور پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ وہاں کے ارباب اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے لئے بھی آزمائشی مرحلہ ہے کہ کس طرح سے ایک ملک کو جسے مختلف محاذوں سے بھی خطرات درپیش ہیں‘ وہیں اس کی اپنی داخلی انتشار اس کی ہر شعبہ حیات میں تباہی و بربادی کا سبب ہے۔ عمران خان یقینا ایک اچھے اور منجھے ہوئی کھلاڑی کپتان ہیں‘ مگر ایک اچھے کپتان کے لئے پوری ٹیم بھی مضبوط اور متوازن ہونی چاہئے اور اس ٹیم کو اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے لئے حالات بھی سازگار ضروری ہے۔ عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر سب سے پہلی کامیابی اُس وقت حاصل کی جب ہالینڈ نے پاکستان کے احتجاج کے پیش نظر گستاخانہ کارٹون کے مقابلے سے دست برداری اختیار کرلی۔ یہ ہالینڈ کے ساتھ ساتھ خود ڈونالڈ ٹرمپ کی بھی شکست ہے اور غالباً پہلی مرتبہ کسی پاکستانی قائد نے سینہ ٹھونک کر کہا ہے کہ وہ امریکہ کی کسی غلط بات کو نہیں مانیںگے۔ پاکستان کی دہشت گردوں کو حمایت کا جہاں تک تعلق ہے‘ جتنا نقصان دہشت گردی سے پاکستان کو پہنچا ہے کسی اور ملک کو نہیں پہنچا۔ پار کے حالیہ انتخابی نتائج سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستانی عوام بھی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ہیںاور دنای سے اپنے دو ستاہ تعلقاتعزت ووقار کے ساتھ اسوتار دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان جنہیں ہمارے ملک کے بعض ایسے ٹیلی ویژن چینلس جو نہیں چاہتیں کہ ہندپاک تعلقات کبھی بہتر ہوں‘ وہ عمران خان کے خلاف  غلط پروپگنڈہ میں مصروف ہیں۔ انہیں یہ جاننا چاہئے کہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم غیر معمولی صلاحیتوں، قابل رشک شہرت اور مقبولیت کے حامل ہیں۔ بنیادی طور پر اسپورٹس مین ہیں‘ ایک اسپورٹس مین کھیل کے میدان میں اپنے حلیف کے لئے اپنے تباہ کن کھیل سے ضرور کھلبلی پیدا کرسکتا ہے مگر کھیل کے میدان کے باہر وہ امن وسلامتی کے سفیر ہوتے ہیں۔ یہ اسپورٹس مین ہی ہوتا ہے جو ہارنے کے بعد بھی جیتنے والے کو آگے بڑھ کر مبارک باد دیتا ہے۔ عمران خان سے ایسی ہی توقعات کی جانی چاہئے۔
امریکہ نے اسلام آباد کو جو ’’امداد‘‘ روکی ہے‘ اس سے جنگجوؤں یا ان کی تنظیموں پر کیا اثر ہوگا؟ کیوں کہ وہ تو کہیں نہ کہیں سے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے فنڈس حاصل کرلیںگے۔ جو گھمبیر مسائل ہوںگے، ان سے عوام دوچار ہوںگے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی ملک سے اس کا تعلق کیوں نہ ہو‘ اُسے نہ تو سیاست سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی جنگجوئیت سے‘ یہ اور بات ہے کہ سیاست سے ہمیشہ پریشان رہتا ہے تو صرف عام آدمی۔ ٹرمپ پاکستان کو کس حد تک دبائو کا شکار بنائیںگے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ کل تک پاکستان خود امریکہ کا سب سے قریبی حلیف رہا‘ یہ امریکہ کی روایت رہی ہے کہ اس نے اپنے ہر دوست کو دغا دی۔ اپنے مقصد کے لئے ان کا استعمال کیا اور پھر مطلب نکلتے ہی انہیں تباہ کردیا۔ عراق، ایران جنگ کے دوران امریکہ اور عراق دوست تھے‘ مصلوب عراقی صدر صدام حسین کو اس نے عالم اسلام کا ایک اہم لیڈر بنانے کی کوشش کی اور وہ جب واقعی عالم اسلام کا ہیرو بن گئے تو ان کا تختہ بھی الٹا اور پھر انہیں موت کے گھاٹ بھی اُتار دیا۔ امریکہ نے ہی افغانستان میں کمیونسٹ نواز حکومتوں کا تختہ الٹننے کے لئے سابق افغان مجاہدین اور موجودہ طالبان کو سچے مسلمان کے طور پر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعہ پیش کیا۔ اُسامہ بن لادن کو مجاہد کے طور پر پیش کیا گیا۔ نجیب اللہ کو طالبان کے ذریعہ برسر عام پھانسی دلوائی گئی اور جب طالبان نے واقعی اسلامی اقدارکی حامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی تو دہشت گردی اور تخریب کاری کے الزام عائد کرکے طالبان کو اتنا تہس نہس کردیا کہ وہ بدلے کی بھاؤنا سے میدان جنگ کا رُخ اختیار کر گئے۔
بہرحال! امریکہ نے صرف پاکستان ہی کے لئے نہیں مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک کے لئے اپنی مالی امداد میں 80فیصد کمی کردی ہے اور سب سے بڑا دھکا فلسطین کو لگایا جب اس نے 200ملین ڈالر سے زائد امداد کم کردی۔ اس نے فلسطین پر الزام عائد کیا کہ امریکہ کی مسلسل مدد کی باوجود فلسطین اسرائیل کے ساتھ قیام امن کے لئے تیار نہیں ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی امریکہ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم اقوام متحدہ ایک بے دُم، بے جان اور کٹھ پتلی ادارہ ہے۔ اُردن میں پناہ گزیں فلسطینیوں میں امریکہ کے اس فیصلے سے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ا ُردن میں ایک لاکھ 20ہزار فلسطینی پناہ گزیں ہیں‘ ان میں سے بیشتر 1948 اور 1967سے ہیں۔ اُردن، لبنان، شام اور فلسطینی علاقوں میں پناہ گزینوں کے لئے یہ مالی امداد کام آتی تھی، اُردن میں بقا ء کے علاقہ میں پانچ ہزار شیلٹرس ہومس ہیں جہاں فلسطینی پناہ گزین ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا فلسطینی شہر بن گیا ہے۔ ان پناہ گزینوں نے امریکہ سے کہا کہ اگر وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے تو انہیں اپنا ملک واپس کردے۔طیب رجب اردغان کی قیادت میں ترکی ایک نئی طاقت کے طور پر اُبھرا ہے جس نے اسلامی، تہذیب ثقافت روایات کے احیاء کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کا ہم قدم ہونے میں اہم رول ادا کیا۔ بھلا ایک نئی اسلامی طاقت کو ٹرمپ کیسے برداشت کرسکتے ہیں؟ اس لئے ترکی کے خلاف اقتصادی ناکہ بندی کرڈالی ۔
 روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے کے الزام میں ترکی کے خلاف بھی تحدیدات عائد کردی گئی ہیں اور ترکی سے اسٹیل اور المونیم کے امپورٹ پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ سے ترکی کی معیشت متاثر ہوئی ہے اور اس کی کرنسی ’’لیرا‘‘ کی قدر بڑی حد تک گھٹ گئی ہے۔طیب رجب اردغان نے ان حالات سے مردانہ وار مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکہ کی زد میں ایران بھی ہے‘ آج سے نہیں چالیس برسوں سے معاشی تحدیدات کے باوجود اپنے آپ کو مستحکم رکھا ہے۔یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ایران اور امریکہ کے 1953ء تک بڑے اچھے تعلقات تھے۔ ایران میں امریکہ نے اپنے مشنریز، اسکولس قائم کئے ،تاہم 1953ء میں جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کے معاملات میں سی آئی اے کی دخل اندازی کے بعد سے یہ تعلقات متاثر ہوئے۔ محمد مصدق نے اینگلو ایرانین آپل کمپنی کو قومیانے کا اعلان کیا تھا۔ 1977ء تک امریکہ میں لگ بھگ ایک لاکھ طلبہ زیر تعلیم تھے اور ایرانی انقلاب کے بعد بھی قابل لحاظ تعداد میں ایرانی امریکہ میں مقیم ہیں اور وہاں کی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں۔ ریسرچ اسکالر David Thomas Polts کی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں امریکن یونیورسٹیز میں 12ہزار 643 ایرانی طلبہ زیر تعلیم تھے۔ ہر تیسرے دن امریکہ ایران کو دھمکی دیتاہے اور جوابی دھمکی سہتا ہے۔ ایرانی صدررُوحانی نے امریکہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اپنی دہشت گردی سے باز نہ آئے تو وہ آبنائے حرمز کو بند کردے گا‘ جو سب سے اہم آبی گزرگاہ ہے۔ آج دنیا کا 80فیصد خام تیل آبنائے حرمز سے ہی دوسرے ممالک تک پہنچتا ہے۔ آبنائے حرمز خلیج عمان اور خلیج فارس، بحر ہند کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہے۔ یہ اس کے شمالی ساحل پر ایران، جنوب میں متحدہ امارات ہیں‘ یہ جدید ایران کو عمان اور متحدہ عرب امارات سے علیحدہ رکھتی ہے، جس کے امریکہ اور سعودی عرب سے گہرے روابط ہیں۔ اگر آبنائے حرمز کو بند کردیا جائے تو تیل کی سربراہی سب سے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے اور یہ امریکہ اور دیگر ممالک کے لئے سب سے بڑا جوکھم ہے۔ بہرحال! امریکہ مسلم ممالک کو مختلف بہانوں سے ہراساں پریشان کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ ہمیشہ اس کے دبائو میں رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آمریت کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ کاش کوئی امریکی قیادت کو تاریخ سے واقف کروائے!.۔
 نوٹ : مضمو نگارایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآبادہیں 
 فون9395381226