تازہ ترین

عمر عبداللہ کا بیان این سی کے یوٹرن کا عکاس:انجینئر

’انتخابی بائیکاٹ کا مبہم اعلان عوام کو گمراہ نہیں کرسکتا‘

14 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر//عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے عمر عبداللہ کے اس بیان کو،کہ نیشنل کانفرنس نے لوگوں سے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کیلئے نہیں کہا ہے،مضحکہ خیزاور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ایک بار پھر رنگ بدل کر خود کو بے نقاب کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فاروق عبداللہ کی جانب سے منعقدہ آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کرنے والے سبھی جماعتوں اور شخصیات کو صاف کرنا کہ وہ عمر عبداللہ کے بیان کے ساتھ متفق ہیں یا نہیں۔ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا’’عمر عبداللہ کے یہ کہنے سے، کہ نیشنل کانفرنس نے لوگوں سے انتخابی بائیکاٹ کیلئے نہیں کہا ہے،صاف ہوگیا ہے کہ نیشنل کانفرنس ایک طرف نئی دلی کو اچھے موڈ میں رکھنا چاہتی ہے اور دوسری جانب بائیکاٹ کے مبہم اعلانات کرکے کشمیریوں کو ایک بار پھر بیوقوف بناکر انکے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش میں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جو نیشنل کانفرنس کی جانب سے بیان بازی ہوتی رہی اور جو اقدامات کرنے کا اس پارٹی نے تاثر دیا تھا وہ دراصل ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا واحد مقصد ان بلدیاتی انتخابات کو کامیاب کرنے میں مددکرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو اس دھوکے میں رکھنا ہے کہ پارٹی نے عوامی جذبات و خواہشات کی قدر کی ہے اور وہ عوام کی اکثریت کے ساتھ ہے‘‘۔انجینئر رشید نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے بائیکاٹ کا اعلان کرکے سنسنی پھیلانا چاہی تاکہ فاروق عبداللہ کے بھارت ماتا کی جئے کے نعروں سے توجہ ہٹائی جاسکے اور اب جبکہ نیشنل کانفرنس کے صدر کی اس متنازعہ حرکت سے توجہ ہٹتے دکھائی دی تو پارٹی اپنی اصلیت پر آئی اور اس نے ’’یو ٹرن‘‘لیکر نئی دلی کو ضمانت دینے کا سامان کیا۔انجینئر رشید نے مزید کہا’’تاہم عمر عبداللہ کو یہ بات یاد دلائے جانے کی ضرورت ہے کہ کشمیری عوام سیاسی طور اس حد تک بالغ النظر ہیں کہ وہ وہ نیشنل کانفرنس کی اس دروغ گوئی اور استحصالی سیاست کو سمجھیں ۔نیشنل کانفرنس نے ایک بار پھر کشمیریوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنا چاہا ہے لیکن پارٹی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ماضی میں اس پارٹی کی جانب سے بیوقوف بنائے جاتے رہے کشمیریوں کو ایک بار پھر بیوقوف بنایا جاسکتا ہے‘‘۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے نے کہا کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا دعویٰ اور ساتھ ہی یہ کہنا کہ پارٹی نے لوگوں سے بائیکاٹ کیلئے نہیں کہا ہے ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی منشیات کے استعمال نہ کرنے کا ارادہ کرتا ہو مگر اپنے خاندان کے منشیات استعمال کرنے پر اعتراض بھی نہیں کرتا ہو اور نہ اسے روکتا ہو۔انجینئر رشید نے عمر عبداللہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور انکی پارٹی کو بار بار کشمیریوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے بچنے کیلئے کہا اور ساتھ ہی فاروق عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ کے شرکاء سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ان سبھی پارٹیوں کو، کہ جنہوں نے نیشنل کانفرنس کے اہتمام سے منعقدہ میٹنگ میں شرکت کی ہے،واضح کرنا چاہیئے کہ وہ بھی نیشنل کانفرنس کے جیسے’’بائیکاٹ‘‘پر ہیں یا وہ واقعتاََ کشمیریوں کے جذبات کا کچھ احساس رکھتی ہیں۔