تازہ ترین

کرنل سید علی احمد شاہ

یادوں کے آئینے میں

12 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

امیر محمد شمسی راجوری
پاکستان  کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میر پور شہر کے چوک شہیداں کے عقب اور سادات کالونی کے خاموش اور پر سکون مکان میں خوبصورت نورانی شکل و شباہت کے ایک بزرگ لمبے عرصہ سے صاحب ِفراش اور گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔میرے قیام میر پور (۱۹۸۲  ء تا۱۹۸۶ ء )کے دوران احباب کی مجالس میں اکثران کا تذکرہ بڑے احترام سے سننے کا موقع ملتا تھا،جب کسی مجلس میں ان کا تذکرہ آتا تو سب لوگ سنجیدہ ہو کر ان کی قصیدہ خوانی کرتے اور ’’آزاد کشمیر ‘‘کے اس وقت کے سیاست دانوں اور حکمرانوں پر تنقید کی بوچھاڑ کر دیتے ،اس بزرگ کی سیرت اور کردار کے حوالے سے میر پور کے دوستوں و بزرگوں کی باتیں سن سن کر میر پور کے خوشحال مادہ پرست ماحول میں اس وقت یہ ایک عجوبہ سا لگتا تھا ،تاہم اس شخص کے تذکرے اور حیرت انگیز کردار کی باتیں سن کر میں نے انہیں تلاش کرنے اور ملاقات کی ٹھان لی اور ایک دن میں ان کی خاموش رہائش گاہ کا اَتہ پتہ دریافت کر کے وہاں پہنچ گیا ۔ مکان میں کوئی زیادہ چہل پہل اور لوگوں کی آمد و رفت نہ تھی ،ویسے بھی میر پور جسے منی انگلینڈ کہا جاتا ہے ،کے خوشحال و آسودہ معاشرے اور مادی مسابقت کے دور میں کسے فرصت کہ وہ عہد کہن کے اس بزرگ کے پاس آمد و رفت رکھے ۔پہلی ملاقات کے بعد اکثر میرا وہاں آناجانا معمول سا بن گیا ، ایک جوان عورت دروازہ کھولتی اور اندر چلی جاتی اور میں اس بزرگ کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ جاتا ۔وہ بزرگ فالج کے مریض ہونے کی وجہ سے ہمیشہ بستر پر دراز رہتے تھے ،گھر میں مکمل خاموشی اور سکون ہوتا تھا ۔میں نے کبھی ان کے اہل و عیال یا گھر میں کون رہتا ہے، معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔یہ بزرگ کرنل سید علی احمد شاہ تھے جو قوت سماعت سے محروم ہو چکے تھے ۔اس لئے انہوں نے مجھے اپنا تعارف اور مقصدِ آمد کاغذ پر لکھ کر دینے کی ہدایت کی جس پر میں نے عمل کرنا شروع کر دیا ۔میری حاضری اور ملاقات سے وہ بہت خوش ہوئے ۔چونکہ گوشۂ گمنامی میں چلے جانے والے لوگوں کو آج کون یاد رکھتا ہے ،اس لئے بیماری اور تنہائی کے لمحوں میں انہوں نے میری حاضری کو غنیمت سمجھا ۔ ان کی دلچسپ شخصیت اور باتوں کی وجہ سے میرا ان کے پاس اکثر آنا جانا معمولاتِ زندگی میں شامل ہو گیا اور جب کبھی میری حاضری میں تاخیر ہوجاتی تو ریاض ہسپتال کی معرفت بلاوے کی دعوت مل جاتی اور میں سب مصروفیات ترک کر کے ان کی خدمت میں حاضری دینا ضروری سمجھتا ۔
سید علی احمد شاہ کی پیدائش  ۱۹۰۱ء میں میر پور کی مشہور بستی گوڑا سیداں کے مشہور ذی عزت سادات خاندان میں سید علی شاہ کے ہاں ہوئی ۔سید علی شاہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے اے ڈی سی تھے ۔اور ملازمت کے باعث سرینگر میں مقیم تھے اس لئے سید علی احمد شاہ کی ابتدائی تعلیم وتربیت مشن اسکول سرینگر میں ہوئی اور میٹرک کا امتحان ۱۹۲۰ ء میں میر پور سے پاس کیا ،آپ ۱۹۲۳ ء میں ریاستی فوج میں لیفٹیننٹ کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور ۱۹۴۳ ء میں بیس سال کی ملازمت کے بعد بطور کرنل ریٹائر ہوئے ۔آپ جب ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو اس وقت ریاست میں ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک مزاحمت منظم ہو چکی تھی، اس لئے آپ نے اس وقت کی ریاستی عوام کی نمائندہ سیاسی تنظیم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کر کے تحریک حریت میں اپنا رول ادا کرنا شروع کر دیا ۔ چنانچہ ۱۹۴۴ ء میں جب قائد اعظم محمد علی جناح نے سرینگر میں مسلم کانفرنس کے اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی توسید علی احمد شاہ نے اس اجلاس میں ایک تاریخی قرار داد پیش کی کی تھی کہ ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کر کے اس ملک میںایک فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے کو شاں رہیں گے۔ چنانچہ ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ ء کو آبی گذر سرینگر میں سردارمحمد ابرہیم خان کی رہائش گاہ پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں الحاق ِ پاکستان کی جو قرار داد منظور ہوئی تھی، آپ اس اجلاس میں شریک تھے ۔
سید علی احمد شاہ ۱۳ جولائی ۱۹۵۱ ء سے۴ ستمبر ۱۹۵۱ ء تک ’’آزاد جموں و کشمیر ‘‘کے صدر رہے ۔انہوں نے اپنی صدارت کے دوران ’’آزاد کشمیر ‘‘ حکومت میں محکمہ امور دینیہ اور’’ آزاد کشمیر ‘‘ کی علاحدہ فوج قائم کی اور بے سر وسامانی و جنگی تباہ کاریوں کے باوجود پیدل و گھوڑوں پر سفر کر کے ’’آزاد جموں و کشمیر ‘‘کے طول و عرض میں سرکاری نظم و ضبط قائم کیا مگر اپنی اصول پسندی اور دین داری کے باعث وہ پاکستانی بیورو کریسی کے ساتھ زیادہ نباہ نہ کر سکے ،جس کی وجہ انہیں یہ منصب چھوڑنا پڑا ۔اس حوالے سے انہوں نے مجھے ایک بہت دلچسپ واقعہ سنایا کہ جن دنوں میں ’’آزاد کشمیر‘‘ کا صدر تھا تو اس وقت ہماری حکومت کی حالت بہت نا گفتہ بہ تھی ۔ ہمارے پاس پرانی ٹوٹی پھوٹی چند جیپیں تھیں اور سڑکوں کا تو نام و نشان تک نہ تھا ۔ ’’آزاد کشمیر ‘‘ میں ہم اکثر پیدل یا گھوڑوں پر سفر کرتے تھے ۔میں نے عہدۂ صدارت سنبھالتے ہی ’’آزاد کشمیر‘‘ کی نو منتخب انتظامیہ کو ہدایت کی کہ آپ کے پاس لوگوں کے جو مسائل آئیں آپ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کا تصفیہ کریں اور جہاں آپ کو دقت ہو وہاں مقامی علماء سے مشاورت کر لیں اور حتی الامکان لوگوں کے مسائل و معاملات کو اسلامی تعلیمات کی ہدایات کے مطابق حل کریں ۔میری یہ روش پاکستانی بیورو کریسی کو راس نہ آئی ۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد نواب زادہ لیاقت علی خان سے سرکٹ ہاؤس راولپنڈی میں میری ایک ملاقات ہوئی تو انہوں نے اثنائے گفتگو مجھے کہا کہ شاہ صاحب ! یہ ملک ابھی ابھی آزاد ہوا ہے اس ملک کے عوام و ملازمین کو انگریزی قاعدہ قانون کے تحت انتظامیہ اور دفتری نظام چلانے کا ایک لمبا تجربہ ہے، اس لئے یہ لوگ جس قاعدے قانون سے واقف ہیں ،انہیں اسی کے مطابق کام کرنے دیں تاکہ یہ ملک اور اس کی انتظامیہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے ۔آپ نے ’’آزاد کشمیر‘‘ میں اسلامی قانون کی یہ کون سی ’’بدعت‘‘ ایجا دکر لی ہے اور سرکاری ملازمین کو آزمائش میں ڈال دیا ہے ۔شاہ صاحب نے کہا نواب صاحب کی زبانی یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا اور میں نے کہا جناب ہم نے اسی اسلامی نظام کی خاطر قربا نیاں دے کر یہ علاقہ آزاد کرایا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا ۔ آپ یہ کیا فرما رہے ہیں؟تو نواب صاحب نے میری باتیں سن کر سگریٹ کا ایک لمبا کش لگاتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب !آپ بہت سادہ آدمی ہیں، آپ تو آج کی سیاست کے حروف ابجد سے بھی واقف نہیں ۔ آج کی سیاست یہ ہے کہ جو کہا جائے وہ کیا نہ جائے اور جو کیا جائے وہ کہا نہ جائے ۔’’آزاد کشمیر‘‘ کی حکومت چلانا آپ کے بس کی بات نہیں بہتر ہوگا اگر آپ استعفیٰ  دے دیں ۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ میں واپس مظفر آباد گیا اور استعفیٰ بھیج کر اپنے گھر میر پور واپس آگیا ۔مرحوم مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒنے ۱۹۴۷ ء سے بہت پہلے اپنی دینی بصیرت و فراست کی وجہ سے کہا تھا کہ محمد علی جناح صاحبؒ اور اس کے رفقاء جس جذباتی نعرہ کی بنیاد پر مطالبۂ پاکستان کی تحریک چلا رہے، اس نعرہ کی وجہ سے وہ ایک خطۂ زمین ضرور حاصل کر لیں گے مگر اس خطۂ زمین پر اسلامی قوانین کا نفاذ ان کے بس کی بات نہ ہوگی ۔چونکہ محمد علی جناح کے تمام رفقاء انگریزوں کے تربیت یافتہ اور وظیفہ خور ہیں انہیں نہ تو اسلامی قانون و نظام کا علم و تجربہ ہے اور نہ ہی یہ لوگ مجوزہ پاکستان میں اسلامی قانون رائج ہونے دیں گے ۔چونکہ یہ نظام ان کے مزاج اور مفادات کے منافی  ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ آج ستر سال گذر جانے کے بعد بھی مولانا مودودیؒ کا یہ تجزیہ عملی تجربات کی بنیاد پر درست ثابت ہوا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب ہنوز شرمندۂ تعبیر ہونا باقی ہے ۔اگر فی الواقع پاکستان میں اسلامی نظام نافذ ہوا ہوتا تو آج ساری دنیابھی اسلام کاحُسن و جمال دیکھ کر اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ۔
میں جب تک میر پور میں مقیم رہا ،میرا فرصت کا زیادہ تر وقت شاہ صاحب کی خدمت میں گذرتا ،میں ان سے تحریری طور پر تحریک’’ آزادیٔ جموں و کشمیر‘‘ اور اس کے دورِ اول اور دورِ اول کے سخت جاں رہ رواں کے بارے میں مختلف سوالات کرتا او روہ  بڑے صاف صاف اور تسلی بخش جوابات دیتے‘‘ اور مشفق و مہربان بزرگ کی طرح میری تربیت و رہنمائی فرماتے ۔وہ بڑے با کردار اور مخلص انسان تھے۔کرشن دیو سیٹھی صاحب راوی ہیں کہ شاہ صاحب ست واری جموں میں بحیثیت فوجی آفیسر تعینات تھے ۔میں ایک دن میر پور سے جموں آیا اور رات کو ان کے پاس بطور مہمان ٹھہرا ۔اس رات ان کے ملازم نے اُن کی گائے کو سرکاری گھاس کھلا دیا ، صبح کو جب شاہ صاحب کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس گائے کا دودھ استعمال کرنے سے انکار کر دیا اور گائے کو دست آور دوائی کھلا کر دو دن تک اس کا پیٹ صاف کرایا تب جا کر اس کا دودھ استعمال کیا ‘‘ ۔ اسی طرح ان کا بیٹا ایک دفعہ مظفر آباد سے سرکاری جیپ لے کر راولپنڈی چلا گیا تو انہوں نے دوگنا خرچہ اپنی جیب سے سرکاری خزانے میں داخل کیا اور بیٹے کی سخت ڈانٹ ڈپٹ کی ۔
شاہ صاحب اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات ڈوگرہ راج اور پاکستانی بیورو کریسی کے بارے میں عجیب عجیب انکشافات کا اظہار فرماتے اور میں ایک مبتدی طالب علم کی طرح ان کی سب باتیں اپنے حافظے میں محفوظ کر لیتا ۔آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کی باتیں جب یاد آتی ہیں تو دل و دماغ میں عمل کی حرارت دوڑ جاتی ہے اور دل میں ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے ۔بلا شبہ وہ ہماری تحریک کشمیر کے عظیم معمار اور با کردار آدمی تھے جو  ۲۱مارچ ۱۹۹۰ کو اپنی زندگی کی نوے سال کی بہاریں گذار کر اس دنیائے فانی سے راہی ٔعدم ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
...............................
نوٹ :مضمون نگار چیئرمین الہدیٰ ٹرسٹ راجوری ہیں 
رابطہ نمبر 7006364495