تازہ ترین

فیصلہ

افسانہ

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل سالمؔ
جب اسے پتہ چلا کہ اس کی نسبت بچپن میں ہی حمزہ سے طے ہے تو اس کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین اڑ گیا۔اُسے تو وہ ایک لمحہ برداشت نہیں کرسکتی تھی اور کہاں پوری زندگی گزارنے کا سوال ۔۔۔۔۔نہیںایسا نہیںہو سکتا ۔۔۔مجھے کچھ تو کرنا ہوگا۔۔ہونٹ چباتے وہ مضطرب سی کمرے میں ٹہلنے گلی۔مچھے پاپا سے بات کرنی چاہے۔ وہ کسی بھی صورت  میںمیرے ساتھ زبردستی نہیں کریں گے ۔اس نتیجے پر پہنچ کراس نے وال کلاک کی طرف دیکھا جو شام کے سات بجارہا تھا۔اس وقت مما باورچی خانے میں اور پاپااسٹڈی روم میں تھے۔پاپا سے بات کرنے کا یہ اچھا موقع ہے وہ یہ سوچتے ہوئے اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گئی۔آہستہ دستک دے کر وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی پاپا کو کسی کتاب کے مطالعے میں منہمک پایا۔انہوں نے سراُٹھا کر حیرانی سے دیکھا۔ دراصل وہ بہت ہی کم ان کے اسٹڈی روم میں آئی تھی سو ان کا حیران ہونا بجا تھا۔
’’خیریت ہے بیٹا!۔۔۔‘‘اس کا مرجھایا چہرہ اور اداس آنکھیں دیکھتے ہی انہوں نے بے اختیار پوچھا۔۔وہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر ان کے قریب آکھڑی ہوئی۔’’مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے پاپا ۔‘‘اس کی اداس آنکھوں اور افسردہ چہرے پر ان کی نظرے بے ساختہ جم گئی۔انہیں کچھ کھٹکا، اس لئے کتاب بند کرکے پریشانی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔’’سب ٹھیک تو ہے نا بیٹا۔تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔‘‘ انہوں نے اس کی پیشانی کو چھوا جو انہیں کچھ نم اور ٹھنڈی محسوس ہوئی۔ ’’پاپا آج تک میں نے آپ کی ہر بات مانی ہے۔پوری کوشش کی ہے کہ آپ کو یا مما کومیری وجہ سے کوئی پریشانی نہ ہو۔آپ دونوں کے ہر مشورے کو معتبر ماناہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں چھپے آنسوآب گالوں پر پھیل آئے۔پاپا بری طرح پریشان ہوتے اس کے بھیگے چہرے کو دیکھنے لگے۔انہیں اپنا دل ٹوٹتا ہو محسوس ہوا۔بات واقعی معمولی نہ تھی۔ وہ اس کے قریب آکھڑے ہوئے اور اس کا چہرہ اٹھائے بے چینی سے بھولے۔
’’جو بھی بات تمہیں پریشان کر رہی ہے اپنے پاپا سے کہہ دو ۔اس یقین کے ساتھ کہ پاپا سب ٹھیک کردیں گے۔اپنی گڑیا کی ہر پریشانی دور کردیں گے۔‘‘وہ ان کے سینے سے لگی تڑپ تڑپ کر رودی۔۔۔کچھ تو کہو جگر آخر ہواکیا ہے؟۔۔۔۔‘‘
’’پاپا۔۔میہ۔۔میں حمزہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔پلیزمیری بات سمجھنے کی کوشش کیجئے۔مجھے مما کی طرف غلط مت سمجھے گا۔‘‘ان کے سینے میں منہ چھپائے ہی اس نے لرزتی آواز میں آخر کہہ دیا۔وہ ایک دم سنجیدہوئے۔حمزہ اور باسرا کو انہوں نے ہمیشہ ساتھ ساتھ ہی دیکھا تھا۔باسرا کے منہ سے ایسی بات نکلے گی کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔حمزہ لاکھوں میں سے ایک تھا۔وہ مسترد کیے جانے کے لائق نہیں تھا، اس لیے باسرا کے انکار نے انہیں اچھاخاصا الجھن میں ڈال دیا ۔۔۔ ’’کیوں۔۔۔؟‘‘ بہت دیر کے بعد ان کے منہ سے فقط یہ ہی ایک لفظ نکلا۔۔’’میری اور ان کی سوچ نہیں ملتی پاپا۔۔میں ان کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پائوں گی۔آپ اگرمیرے ساتھ زبردستی کریں گے تو میں یہ شادی کرلوں گی مگر پھر میں اندر ہی اندر سے مرجائوں گی۔ آپ جہاں کہیں گے میں شادی کرنے کوتیار ہوں مگر حمزہ سے نہیں۔۔۔۔پلیز مجھے مجبور مت کیجئے گا۔۔پلیزپاپا! ۔۔۔‘‘اس نے پاپا کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیئے اور وہ تو ہکابکا ہی رہ گئے۔۔بیٹی کی منتشر حالت نے انہیں اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ایک ہی تو ان کی بیٹی تھی اگر وہ بھی نہ خوش رہی تو پھر کیا فائدہ۔۔۔۔
وہ حمزہ کو بہت چاہتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی کی آخری نشانی تھی وہ ۔۔۔مگر باسرا بھی انہیں کم عزیز نہ تھی ۔حمزہ سے وہ کسی بھی صورت میں دستبردار نہیں ہونا چاہتے تھے ۔۔اور باسرا کی کہیں اور شادی کرنے کے بارے میں تو انہوں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا مگر
اب انہیں لگا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کبھی زبردستی نہ کر پائیں گے۔۔۔’’تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرے گا جگر باسرا۔۔تم جیسا چاہو گی ویسا ہی ہوگا۔۔اگر زندگی تمہاری ہے تو فیصلہ بھی تمہارا ہی ہوگا۔۔ ۔‘‘
رابطہ، رعناواری، سرینگر: موبائل نمبر؛ 9697330636