تازہ ترین

افسانچے

9 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ساحل احمد لون

لینے کے دینے!

’’ہمیں اللہ نے جتنادیاہے اُسی پر اکتفا کرلیں گے،ہمیں کیا ضرورت ہے شراب ،ڈرگس(Drugs) اور چرس کا کاروبار کرنے کی۔ خدا کا کچھ تو خوف کیجیے۔‘‘ حلیمہ نے اپنے خاوند سجاد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اُس کے سر پر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی دھن سوار ہوچکی تھی۔وہ اُس کی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔
’’ارے بے وقوف عورت تم کس پر اکتفا کرو گی۔دفتر میں میرے دیگر ساتھیوں کو دیکھو،اُن کے پاس اونچے بنگلے ہیں، روپیہ ہے،گاڑیاں ہیں۔اُن کے بچے آج  بیرونی ممالک میں پڑھ رہے ہیں۔میں نے ایماندار بن کر آج تک کیا حاصل کیا،نہ بنگلہ ہے اور نہ پیسہ،حتیٰ کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کا داخلہ تک کسی اچھے کالج میں نہ کراسکا۔‘‘
  حلیمہ کے پاس اب کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا،وہ خاموش ہوگئی۔
         سجاد منشیات کے کاروبار سے راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔اب نئی کار آگئی،پرانے چھوٹے سے مکان کی جگہ اب نئے بنگلے نے لے لی۔بیٹے کا داخلہ اب شہر کے بہت بڑے کالج میں ہوگیا۔۔۔۔۔۔
      سجاد صوفے پر بیٹھا سگریٹ کے کش لے رہا تھا کہ اُس کا موبائل بج اُٹھا۔اُس نے فون اُٹھایا تو دوسری جانب آواز آئی،’’آداب ! میں محمدیہ اسپتال سے ڈاکٹر شارق بول رہا ہوں ۔زید سجاد سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟‘‘
’’جی وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے مگر آپ یہ سب۔۔۔خیریت تو ہے؟‘‘
’’I am sorry۔منشیات کی زیادہ مقدار لینے ،جسے ہم عام طور پر(Drug Overdose)کہتے ہیں، کی وجہ سے آپ کے بیٹے کی موت واقع ہوگئی۔اُنہیں کالج ہوسٹل سے چند دوستوں نے یہاں اسپتال پہنچایا لیکن وہ راستے میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔‘‘
     سجاد کے ہاتھ سے موبائل گرگیا اور وہ دور کھڑی حلیمہ کو کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح تکنے لگا۔۔۔۔۔۔
رابطہ؛برپورہ پلوامہ کشمیر؛:9596203768
 

نوکری

’’آپ ڈرنک کرتی ہیں؟‘‘منیجر نے سوال پوچھا۔
’’جی ہاں،کبھی کبھی۔‘‘شازیہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’’رقص و سرور کی محفلیں کیسی لگتی ہیں؟‘‘
جی سر ناچنا گانا تو بچپن سے ہی پسند تھا ۔میں خود بھی ناچتی ہوں اور کبھی کبھی۔۔۔۔‘‘
’’اور کبھی کبھی کیا؟‘‘ منیجر نے قدرے اشتیاق سے پوچھا۔
’’اور کبھی کبھی دوسروں کو بھی نچاتی ہوں۔‘‘شازیہ نے مُسکرا کر جواب دیا۔
’’اجنبی مردوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے میں آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟‘‘
’’نہیں سر۔بھلا مجھے کیوں اعتراض ہوگا۔ویسے بھی پوری دُنیا تو اپنی ہی ہے۔‘‘
   منیجر کی آنکھوں میں عجیب سی مدہوشی چھا گئی اور اُس نے سرگوشی کے انداز میں آخری سوال پوچھا:
ؔ’’کیا آپ آج رات کومیرے گھر آسکتی ہیں ؟‘‘
’’کیوں نہیں ،آپ کی خواہش سر آنکھوں پر!‘‘
      منیجر خوشی سے جھوم اُٹھا اور شازیہ سے کہا:
’’ مبارک ہو۔آپ کی نوکری پکی ،ہماری کمپنی کو آپ جیسی ہونہار لڑکی کی ہی ضرورت تھی!‘‘
شازیہ سے پہلے دس اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیاں رجکٹ(Reject) ہوچکی تھی کیونکہ وہ شازیہ کی طرح ’ہونہار‘ نہیں تھی۔!!!!