کشمیر تا کعبہ

بھولی بسری یادیں

7 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   (نٹی پورہ سرینگر ) 9419780332    )

خالد بشیر احمد... مترجم: ماسٹر محمد یوسف بٹ
 نوٹ:یہ معلوماتی مقالہ ماہ ذوالحجہ میں ’’گریٹر کشمیر‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ مقالے کی دائمی اہمیت کے پیش نظر اسے’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘ کے قارئین کرام کے لئے مضمون نگار اور مترجم کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جارہاہے ۔ ( مدیر )
حج1439 ھ _____  820 حاجیوں کا پہلا جتھہ 14 جولائی 2018 ء کو سرینگر سے بذریعہ طیارہ روانہ ہوا۔اس سال جموں و کشمیر کی ریاستی حج کمیٹی کی وساطت سے تقریباً10,196 عازمین حج فریضۂ حج ادا کررہے ہیں جن میں سے 8450 کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ماضی ٔ بعید میں مکہ معظمہ آنا جانا انتہائی دشوار اورپر مثقت سفر تھا۔ سفری مشکلات او راقتصادی کمزوری کی وجہ سے بہت کم لوگ حج بیت اللہ کے لئے جاتے تھے۔ صرف کچھ پر عزم اور پارسا لوگ ہی افغانستان، ایران اور عراق کے راستوں سے پیدل سفر کی ذمہ داری اٹھاتے تھے۔ کئی صد سال پہلے نعلبند پورہ سرینگر کشمیر سے حاجی علی جو ماتجو نے مکہ کا سفر حج پیدل کیا تھا۔ وسطی کشمیر کے چھتر گام گاؤں سے 80 سال پہلے 
محمد سلطان نے پیدل سفرِ حج کیا اور مدت دراز کے بعد واپس آیا۔ ایک اور پیدل عازمِ حج عبدالرحمان ، جو بعد میں زانپہ کدل کی ایک مقامی مسجد کا امام تھا، نے 1940 ء میں فریضۂ حج ادا کیا۔ 
پرانے زمانے کی بہت ساری دل چسپ کہانیاں کشمیری حاجیوں کے حج پر جانے اور واپس آنے سے متعلق موجود ہیں۔ اگر کوئی حاجی ایک یا دو سال تک واپس نہیں آتا تھا تو اسے مردہ تصور کرکے اُس کے گھر والے غائبانہ طور اُس کے آخری رسومات ادا کرتے تھے۔ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ ’’مرا ہوا حاجی‘‘ کسی دِن اچانک پیدل گھر واپس آجاتا۔ بریہِ کجن(سرینگر) کے محمد رجب سقہ آخری رسومات ادا ہونے کے سالہابعد واپس آیا۔ اُس کے گھر والے اُسے زندہ دیکھ کر خوشی سے سکتے میں آگئے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سارے لوگ جو حج پرجاتے تھے، اُسی مقدس سرزمین میں بود و باش کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ نواب مصطفیٰ خان شیفتہ، اردو شاعر اور مرزا غالبؔ کا ہم عصر ، جو 2 مارچ 1839 ء میں حج کے لئے گیا مختلف ممالک کے لوگوں میں کشمیری حاجیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اُن کے ساتھ مکہ میں ہی مقیم ہوئے تھے۔ 
جنوبی ایشاء کے عازمین حج کے لئے عرصۂ دراز تک سمندری سفر ہی خاص ذریعۂ سفر رہا۔ سوسال پہلے بحری راستہ سے حاجیوں کے لئے کراچی اور کلکتہ کی بندرگاہیں مقامات روانگی تھے بعد بمبیٔ(ممبئی) کا اضافہ کیا گیا۔ کشمیر میں عازمین حج کراچی کا راستہ اختیار کرتے تھے اور وہاں تک پہنچنے کے لئے پنجاب سے سفر کرتے تھے۔ یہ عمل 1947 ء میں تقسیم ہند تک جاری رہا۔ سرینگر اور کراچی کی درمیانی مسافت 611 کلو میٹر تھی جو سرینگر اور ممبئی کے درمیان مسافت سے کم تھی۔ اور کراچی بمبئی کے مقابلہ میں جدہ کے قریب 589 بحری میل تھا۔ عازمین حج کے لئے پاسپورٹ نہیں ہوا کرتے تھے۔ اُن کے سفری دستاویزات حج پاس (Piligrim Pass) ہوتے تھے جو انہیں حکومت ہند روانگی کے مقام پر اجراء کرتی تھی۔ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے کراچی میونسپلٹی کا ایک ڈاکٹر انہیں ٹیکہ لگواتا تھا۔ 
عبدالسلام نروری جوامیراکدل کا ایک تاجر تھا 36 سال کی عمر میں 1936 ء میں کراچی کے راستے حج کے لئے چلا گیا۔ اُس کے ’’حج پاس‘‘ پر K653 رجسٹریشن نمبر درج ہے جو 27 نومبر 1936ء کو اجراء کیا گیا تھا او رقومیت K State ، لکھی ہوئی ہے۔ اُس کی ٹیکہ سند پر کراچی کے ڈپٹی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بھگوان داس کی مہر اور دستخط ثبت ہیںنروری صاحب کو حج بیت اللہ سے واپس آنے میں چھ ماہ کا عرصہ لگا۔ جس سمندری جہاز میں وہ سفر کررہا تھا اُسے جدہ کے بجائے عدن (یمن) میں ہی لنگر انداز ہونا پڑا تھا کیونکہ جدہ میں کچھ فوجی مخاصمت جاری تھی۔ عدن کی بندرگاہ سے اُس نے مکہ تک کا سفر اونٹ پر سوار ہوکر کیا اور کسی خاص مقام سے ٹرین پر بھی سوار ہوا۔ یک طرفہ بحری سفر میں پندرہ دِن لگتے تھے۔ واپسی پر وہ لاہور میں موچی دروازہ قبرستان بھی گیا جہاں اُس کا چچا حج سے واپس آئے ہوئے فوت ہوچکا تھا اور وہاں ہی دفن ہوا تھا۔ 
1936 ء میں سرینگر میں حجاج کی راہنمائی کے لئے عازمین حج کو لے جانے والے سمندری جہازوں سے متعلق روانگی کے جدول پر ایک دفتری اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ اس اعلامیہ کے ذریعے تین سمندری جہازوں کے متعلق اطلاع فراہم کی گئی، اِن جہازوں کے نام تھے۔ ایس ۔ ایس۔جہانگیر، ایس۔ایس۔اسلامی اور ایس۔ایس۔رحمانی، ایس ۔ایس علوی زیر ملکیت میسرز ٹرنر ماری سن اینڈ کمپنی اور ایس ۔ایس۔رضوانی جو کراچی اور بمبئی سے چلتے تھے۔ سمندری سفر کے دوران عازمین حج کو پکی پکائی غذا فراہم کی جاتی تھی کیونکہ جہاز میں پکانا سختی سے ممنوع تھا۔ عازم حج کو صبح کی چائے، ناشتہ، دوپہر کا کھانا، عصرانہ اور شام کا کھانا مہیا کیا جاتا تھا۔ اول اور دوم درجوں کے مسافروں کے برعکس ڈیک میں سفر کرنے والے حاجیوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ ٹکٹ خریدتے وقت ہی چاول اور چپاتی سے متعلق اپنی ترجیحات ظاہر کریں اور آیا وہ ترکاری کے ساتھ خشک مچھلی لیں۔
زائد ادائیگی پر حاجیوں کو کھانے پینے کی چیزیں بھی مہیا رکھی جاتی تھیں۔ مرغ و شوربہ قیمت ایک روپیہ سات آنے، قورمہ گوشت اور کفتہ تین آنوں میں ایک پلیٹ، بریانی ایک پلیٹ ساتھ آنوں میں اور ایک شامی کباب نوپائیوں میں ۔ اُبلا ہوا انڈا ایک آنہ اور چھ پائیوں میں بکا جاتا تھا۔ تلا ہوا انڈا دو آنوں اور تین پائیوں میں ، سالن اور چاول چھ آنوں میں ایک پلیٹ، چاول ایک آنہ اور چھ پائیوں میں ایک پلیٹ، حلوہ تین آنوں میں ایک پلیٹ اور چائے بغیر دودھ نو پائیوں میں ایک پیالہ اور دودھ والی چائے ایک آنہ میں ۔ دودھ والا کافی کپ دو آنہ میں، ایک سنگترہ ایک آنہ اور چھ پائی میں دیا جاتا تھا اور ایک سیب دو آنہ میں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھا جائے کہ 1967 ء میں ہندوستان نے جو اعشاریہ سکہ جاری کیا اُس سے پہلے ایک روپیہ کے سولہ آنے ہوتے تھے اور باراں پائیوں کا ایک آنہ۔ سمندری جہاز میں جو باورچی اور خدمتگار ملازم ہوتے، وہ سب مسلمان ہوتے تھے، ڈیک میں سفر کرنے والے حجاج اپنے پلیٹ(رکابیاں)، پیالے اور دوسرے ظروف رکھنے کے پابند ہوتے تھے جن میں اُنہیں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ "No Waste Taps" سے پانی دِن میں دو دو گھنٹے کے وقفے سے چار بار حاصل کیا جاسکتا تھا۔ مایوسی سے کہنا پڑتا ہے کہ دفتری اعلامیہ جو حجاج کے سمندری سفر سے متعلق جدول جاری ہوا تھا اُسے اخبار مارتنڈ اور کشمیر ٹائمز نے چھا پنے سے انکار کیا، یہ اخبار ایک مخصوص فرقہ کے ارکان کی ملکیت میں تھے جب تک کہ حکومت نے اس اعلامیہ کو بطور ادائیگی معاوضہ اشتہار اجراء نہ کیا۔ کراچی اور بمبئی سے خوراک سمیت واپسی کرایہ602/= روپے اور636/= روپے اول درجہ کے حاجیوں کے لئے 427/= روپے اور 451/= روپے درجہ دوم کے حاجیوں کے لئے 172/= روپے اور 178/= روپے ڈیک حاجیوں کے لئے میسرز ٹرنر، موری سین اینڈ کمپنی لمیٹڈ)،مغل لائن (بمبئی اینڈ پرشیا سٹیم نیوی گیشن کمپنی لمیٹڈ) کے اشتہاری تحریر ذریعہ مقرر تھا۔1837 کے مطابق تمام درجات کے کرایہ میں دو روپے چار آنہ کا یکساں اضافہ دکھا یا گیا۔ 
1975 ء میں مغل لائن نے نور جہاں کے نام سے دوسرا جہاز بمبئی سے جدہ لینے اور لانے کے لئے متعارف کیا۔ یہ جہاز 1985 ء تک بروئے کار رہا اور اسکے بعدتباہ ہوگیا۔ اسی اثناء میں کمپنی نے دوسرا جہاز ایم۔وائی۔اکبر کا م پر لگایا، جو بعد میں بمبئی سے حاجیوں کو لے جانے والا واحد جہاز تھا جب 1996 ء میں اسے بری حالت میں ہونے کی وجہ سے معطل کیا گیا اور سمندری سفر حج روک دیا گیا۔ حکومت ہند اگلے سال سے بحری راستے کو بحال کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ جدید طرز کا جہاز 5000(پانچ ہزار)حاجیوں کو بیک وقت اٹھاکر ممبئی سے جدہ تک کی مسافت صرف دو تین دنوں میں طے کرسکتا ہے۔ 
1947 ء کے بعد، جب حج معاملات ریاست کی نگرانی میں آگئے تو حجاج ایک ساتھ ایک ہی دِن میں روانہ ہوتے یا واپس آتے تھے۔ وہ سرینگر سے پٹھانکوٹ تک بسوں میں سفر کرتے تھے جو 427 کلومیٹر کی زمینی مسافت ہے۔ پٹھانکوٹ سے وہ ٹرین کے ذریعے ممبئی اور پھر وہاں سے سمندری راستے سے جدہ روانہ ہوتے تھے۔ 
گذشتہ چند دہائیوں تک کشمیر سے حاجنوں(Women Piligrim) کی تعداد بہت قلیل ہوا کرتی تھی۔ حالت تبدیل ہوگئی ہے اور اب اُن کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 1915 ء میں کشمیر سے حاجنوں (Women Piligrim) کی تعداد 2644 تھی، 1917 ء میں حج پر جانے والی عورتوں کی تعداد 3332 تھی اور اس سال 3745 کشمیری عورتیں حج کمیٹی کی وساطت سے حج انجام دے رہی ہیں۔ 
ایک زمانہ تھا، کشمیر میں عورتیں سفری دستاویزات کے لئے اپنی تصویریں دینے پر نارضا مند ہوتی تھیں کیونکہ عورت کی تصویر لینا سماجی نگاہ میں درست نہیں تھا۔ 1978 ء میں اننت ناگ تحصیل سے عامر گل خان نے گورنر کشمیر کو اپنی والدہ گل بی بی زوجہ سرور خان پٹھان کے حق میں پاسپورٹ جاری کرنے کی درخواست دی تاکہ وہ دوسری دو عورتوں کے ساتھ حج پر جاسکے جنہوں نے پہلے سے ہی سفری دستاویزات حاصل کئے تھے اور بڑی بے صبری سے اب اُس کا انتظار کررہی تھیں۔ خان کو لوازمات پورا کرنے کے لئے اپنی ماں کا فوٹو پیش کرنے کو کہا گیا۔ جواباً اُس نے گورنر کو مطلع کیا کہ اُس کی والدہ پردہ نشین عورت ہے اور چونکہ ہمارے خاندان میں عورت کی تصویر لینے کی اجازت نہیں ہے، اسلئے وہ اُس کا فوٹوگراف پیش نہیں کرسکتا ہے۔ بہرحال ، تصدیق شدہ دستاویزات پیش کئے جاسکتے ہیں، اُس نے گذارش کی۔
1950 ء اور 1960 ء کی دہائیوں میں سعودی عرب سے معلم کشمیر آیا کرتے تھے تاکہ کشمیری حاجیوں کے لئے مکہ او رمدینہ میں رہائش کا انتظام کریں۔ معلم کا لفظی معنی استاد ہے، وہ سعودی شہری ہوا کرتا تھا جواِن دو مقدس شہروں میں رہائش مکانات (جائیداد) کا مالک ہوا کرتا تھا اور حاجیوں کو کھانے پینے کی سہولیات کے ساتھ کرایہ پر دیا کرتا تھا۔ وہ ساتھ ہی معلم حجاج کے بطور بھی کام کرتا تھا۔ ایسے ہی ایک معلم زین العابدین نے وادی میں کافی اثرور سوخ قائم کیا تھا۔ وہ ایام حج سے پہلے ہی یہاں آکر متوقع حاجیوں کی رجسٹریشن کرتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ شہرت کے لئے وہ اہم مذہبی مقامات او رمساجد میں کتابچے تقسیم کرتا تھا۔حجاج کی روانگی اور واپسی کشمیر میں خوشی منانے کے مواقع ہوتے تھے۔ حجاج کو مذہبی نعروں کے بیچ جلوس کی صورت میں ٹورسٹ سنٹر تک لیا جاتا تھا۔ جو شیلے بچے بڑی تعداد میں اِن جلوسوں میں شامل ہوجاتے تھے تاکہ زور دار آواز میں نعروں کا جواب دیا جائے۔ خاندانی اور ہمسایہ عورتیں حاجی پر شیرینی نچھاور کرتی تھیں جو نہی وہ اپنے گھر سے باہر آتا تھا۔’’لا علمی کا دور تھا اور بدقسمتی سے آج بھی کئی مقامات پر ایسا ہورہا ہے‘‘ (ادارہ) خاندان سے جو لوگ گنجائش رکھتے تھے وہ پٹھانکوٹ تک سفر کرتے تاکہ وہاں سے اپنے حاجی کو الوداع کہہ سکیں۔کشمیر کے گاؤں اور قصبوں میں بھی حجاج کی روانگی اور واپسی پر خوشیاں منائی جاتی تھیں۔ حاجیوں کی واپسی پر ڈیوڑھیاں بنائی جاتی تھیں اور اُنکے گھر والے رشتہ داروں اور ہمسایوں کے لئے دعوتوں کا انتظام کرتے تھے۔
حج پر جانے سے پہلے حاجی کے قریبی رشتہ دار اُس کی عزت میں پرتکلف دعوتیں کرتے تھے۔ 1972 ء میں جموں ریلوے سٹیشن قائم کیاگیا کشمیر کے حاجی پٹھانکوٹ کے بجائے جموں سے ہی ریلوے سفر کرنے لگے۔ 
حال تک کشمیر حاجی اپنے ساتھ چاول، خشک سبزیاں، مرکب مسالہ جات کی ٹکیاں، مرچ اور ہلدی، نمک سوکھی مچھلی ، چائے سبز اور اچار لے جاتے تھے تاکہ گھر سے دور رہتے ہوئے بھی گھریلو خوراک سے لطف اٹھائیں۔ کچھ دیر ینہ تماکو نوش اپنے ساتھ تماکو اور حقہ بھی لے جاتے تھے۔ اب یہ عمل رک گیا ہے۔ حجاج ہلکا بستر اور ایک بڑا سٹیل ٹرنک اپنے ساتھ لے جاتے تھے جس میں وہ کپڑے اور کھانے کی چیزیں بھر دیتے تھے، حج کے پورے ایام میںاُنہیں اسکی رکھوالی کرنا پڑتی تھی۔ واپسی سفر پر اِس ٹرنک میں وہ اپنے افرادِ خانہ اور رشتہ داروں کے لئے تحائف لاتے تھے جن میں کھجور، تسبیحات(Beads)، جائِ نماز، جیب اور کلائی والی گھڑیاں، کیمخواب(کپڑا)، ٹرانزسٹر کم ٹیپ ریکارڈر اور ویڈیو کیسٹ ریکارڈر (VCR) ہوا کرتے تھے۔ آج جب کہ ہر حاجی کو صرف 5 لیٹر زم زم لانے کی اجازت ہے، پہلے اس پر کوئی پابندی نہیں تھی کہ حاجی کتنا زم زم لاسکے اور ہر ایک حاجی اِس مقدس پانی (زم زم ) کے بڑے بڑے کنسترلایا کرتے تھے۔مکہ کی طرف سفر کرنے کے لئے حاجی ہفتوں پہلے بمبئی پہنچ جاتے تھے۔ یہ انتظار کبھی بیس دن کا طول پکڑتا تھا جس دوران تمام لوازمات پورے کئے جاتے تھے اور ٹکٹیں محفوظ کی جاتی تھیں۔ بکنک سنٹر پر لمبی قطار دیکھی جاسکتی تھی، چونکہ اکثر حاجی یا تو اَ ن پڑھ ہوا کرتے تھے یا کم لکھے پڑھے، لہٰذا فارم پر کرنے یا دوسرے لوازمات مکمل کرنے میں کافی وقت لگ جاتا تھا۔ حاجیوں کی بڑی تعداد قطار سے نکل کر صابو صدیق مسافر خانہ لوٹ آئے تھے، یہ مسافر خانہ ایک مخیر انسان دوست کے نام سے منسوب تھا جو 26 سال کی عمر میں ہی وفات پاچکاتھا، پھر یہ حاجی دوسرے دِن بکنگ سنٹر پر جاتے تھے۔ یہ عمل تمام مسافروں کے نام اندراج ہونے تک جاری رہتا تھا اور سمندری جہاز روانہ ہونے کے لئے تیار کھڑا ہوتا تھا۔ ٹکٹ پر درج روانگی کے وقت کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا تھا کیونکہ بمبئی سے روانہ ہونے والا کوئی ایسا جہاز نہیں ہوتا تھا جس کی روانگی کئی کئی بار ملتوی نہ کی جاتی اور بعض معاملات میں تو حاجیوں کو ایک مہینے سے زیادہ انتظار کرنا پڑتاتھا۔ 1994 ء میں حاجیوں کو لے کر آخری سمندری جہاز بمبئی سے روانہ ہوا، پورے ہندوستان سے سمندری اور ہوائی راستوں سے سفر کرنے والے حاجیوں کی کل تعداد 25,685 تھی ۔ اِ ن میں سے 4650 نے سمندری سفر اختیار کیا تھا۔
رسل و رسائل کا رواج قدیم ہونے اور ٹیلیفون کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایک حاجی اپنے گھر والوں کے ساتھ صرف ایک خط کے ذریعے ہی رابطہ میں رہتا تھا اور خط بھی اگر مہینوں میں نہیں، ہفتوں میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتا تھا۔ موبائل فون اور مربوط سماجی نظام کے اطلاق مثلاً واٹس ایپ اور IMO کے ذریعے ایک حاجی طوافِ کعبہ یا مدینہ طیبہ میں گنبد خضراء کے سائے میں آداب و سلام گذارنے کا سارا حال اپنے گھروالوں اور دوستوں تک صوت و حرکت کے ساتھ یعنی LIVE پہنچاتے ہوئے مشکل سے یہ گمان کرسکتا ہے کہ ماضی کے حاجیوں کے ساتھ مہینوں تک کوئی رابطہ ہی نہ رہتا تھا۔ خاص معاملات میں ، گھر والوں سے کوئی پیغام حاصل ہونا دُکھ اور پریشانی کا سبب بن جاتا تھا جبکہ بھیجنے والے کا مدعا کوئی اچھی خبر منتقل کرنے کا ہوتا تھا۔ 1970 ء کے ابتداء میں بمبئی میں طویل انتظار کے بعد جب روانگی کا دِن آخر آہی گیا تو اوڑی کے دوست محمد نے اپنے گھر ایک دو لفظی تار بھیجا۔ "Sailing Today" ۔ گھر والوں نے جو یہ تار وصول کیا وہ یوں پڑھا گیا۔ Ailing Today" (یعنی آج بیمار ہوں)۔ یہ خبر گھر میں پریشانی اورغم کا باعث بن گئی۔ گھر کے ایک فرد کو بیمار حاجی کی خبر گیری کے لئے بمبئی روانہ کیا گیا۔ جب وہ شخص بمبئی پہچا، اُسے معلوم ہوا کہ دوست محمد اور دوسرے حاجی لوگ کب کے جدہ روانہ ہوچکے ہیں۔
1967 ء میں حاجیوں کی سہولیات کے لئے نئے قوانین مرتب کئے گئے۔ جہاز رانی کمپنیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ روانگی  کا عارضی جدول 6 سے 9 مہینے پہلے ہی اور آخری جدول روانگی سے کم سے کم پندرہ دن پہلے مشتہر کریں۔ بکنگ کا سلسلہ عارضی جدول کے مشتہر ہونے کے ساتھ ہی شروع کیا جائے۔ حاجیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی ذاتی کیفیات اپنی درخواستوں کے ساتھ ہی مہیا کریں۔ ہر بالغ حاجی کو 100/= روپے اور نابالغ حاجی کو 50/= روپے بطور ڈیپازٹ درخواستوں کے ساتھ ہی جمع کرنے کو کہا گیا تھا۔ ایک دفتری دستی اطلاع جو حکومت نے 11 ستمبر 1966 ء کو شائع کی کے ذریعے حاجیوں سے کہا گیا کہ وہ روانگی سے ایک دن پہلے اپنے سامان کو ٹورسٹ سنٹر میں جمع کرائیں اور روانگی کے دِن صبح سویرے پولوگرانڈ پہنچ جائیں جہاں سے بسوں میں سوار ہوکر سفرِ محمود پر روانہ ہوجائیں۔ جو حاجی حضرات اپنی نشستیں محفوظ کئے بغیر بمبئی پہنچ جاتے اُنہیں لازم کیا گیا کہ وہ جہاز رانی کمپنیوں کے ساتھ بحیثیت متوقع حاجی اپنی رجسٹریشن اپنی درخواستوں کے ساتھ دس روپے کی فیس اور اپنے فوٹو گراف منسلک کرکے کرائیں۔ ایسے حاجی حضرات جنہوں نے پہلے ہی اپنی نشستیں مخصوص کرائی ہوں اُنہیں کہا گیا کہ وہ بمبئی بندرگاہ سے روانہ ہونے سے تین دِن پہلے ٹکٹیں خرید یں۔ 
حاجیوں کے لئے لازم بنایا گیا کہ وہ اپنا سامان روانگی سے ایک دِن پہلے جمع کرائیں۔ ایک سرکاری نوٹیفیکیشن جو 1968 ء میں جاری کی گئی کے مطابق روانگی کا جدول 29 مئی تھا۔ حاجیوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنا سامان ٹورسٹ سنٹر میں حج کلرک محمد یوسف رفیقی  کے پاس 28 مئی کو 10 بجے سے چار بجے تک جمع کرائیں اور دوسرے دِن 6:30 بجے صبح پولو گراؤنڈ پہنچ جائیں۔ انہیں یہ بھی مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے چیف سیکرٹریٹ شیر گڑھی 25 مئی کو حاضر آجائیں اور جہاز ، بس اور ٹرین کا بقایا کرایہ ادا کریں۔یہ نوٹیفکیشن ، سیکریڑی حج کمیٹی دوار کا ناتھ نے جاری کیا تھا۔ 
حالیہ برسوں میں ایک مثبت رجحان کا مشاہدہ ہورہا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نوجوانی میں ہی فریضۂ حج ادا کرنے کو ترجیح دیتی ہے جو پرانے زمانے کے برعکس ہے جب صرف عمر رسیدہ لوگ اور وہ بھی جسمانی طور کمزور حج ادا کرنے جاتے تھے۔ کوئی شخص حج کی ادائیگی کا صرف اُس وقت سوچتا تھا جب وہ نوکری سے سبکدوش ہوجاتا یا کاروبار سے فارغ، مکان کی تعمیر مکمل کرتا، بچوں کو اقتصادی طور مضبوط بنالیتا، اُن کی شادی ہوجاتی اور اب اُسکے پاس کوئی نفع بخش کام کرنے کو نہیں ہوتا تھا۔ تب ہی اُس کے گھریلو افراد ، دست یا احاباب اسے حج پر جانے کی ترغیب دیتے تھے۔ بہت سارے لوگ جو زندگی بھر کبھی وادی سے باہر نہیں گئے ہوئے ہوتے سمندری یا ہوئی سفر کرنے سے ڈرتے تھے۔ کچھ سال پہلے ایسا ہی ایک حاجی جب جہاز میں سوار تھا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بے ڈھنگی پرواز کے دوران اپنی نشست (Seat) پر ڈوب بیٹھا، خوفزدہ ہوکر شرابور ہوگیا او راسے دبی زبان سے کہتے ہوئے سنا گیا____ ’’نوشہ کر سازش ‘‘یعنی بہونے سازش کی۔ کیونکہ بہونے ہی اصرار کیا تھا اُس کے حج پر جانے کا تاکہ وہ ہوائی حادثہ میں مرجائے۔ کچھ عمر رسیدہ حاجی خواہش کرتے تھے کہ وہ مقدس سرزمین میں مرجائیں اور وہاں ہی دفنائے جائیں۔ کوئی حاجی وہاں مرجاتا تو اسے بہت ہی خوش نصیب تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم اُس کے گھر والے اُس کی موت کی خبر سنکر ماتم مناتے اور دکھی ہوتے ۔
سفرِ محمود سے واپسی پر ایک حاجی مہینوں او رسالہاتک حج سے متعلق اپنی مختصر کہانیاں روحانی تجربات اور سفری داستانیں سناتا تھا۔ سامعین بھی بڑی بے صبری اور دلچسپی سے اُس کی باتیں سنتے تھے۔ سونہ وار کے حبیب اللہ وانی نے 1960 ء کی دہائی میں فریضۂ حج ادا کیا تھا وہ نائی کی ایک دکان پڑ بیٹھ کر عرصۂ دراز تک لوگوں کو حج کی کہانیاں سناتا رہا اور لوگ انہیں فی الواقع مقدس سرزمین کے سفر سے متعلق واقعات سننے کے لئے منتظر رہتے تھے۔ کئی واقعات میں کسی شخص کی حج سے واپسی پر ’’حاجی ‘‘ اُس کا یا اُس کے خاندان کا خطابی نام بن جاتا تھا۔
چھتر گام میں آج تک ایک خاندان کا خطابی نام ’’حاجی‘‘ ہے جس کے ایک فرد نے 80 سال پہلے حج فریضہ ادا کیا تھا۔رحمان حاجی آف سونہ وار نے کبھی حج ادا نہیں کیا تھا۔ اُس کے دادا یا پردادا نے حج ادا کیا تھا۔ اسی وجہ سے اس خاندان کا خطابی نام ’’حاجی‘‘ ہے۔ 
مکہ اور مدینہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے واجب الاحترام شہر ہیں،کچھ حاجی یہاں کے گلی کو چوں میں چلتے ہوئے اپنے جوتے اُتارتے تھے یہ سمجھ کر کہ حضرت محمد ﷺ نے یہاں اپنے م مقدس پاؤں رکھے ہونگے ۔ 1960 ء یا 1961 ء میں ملک صاحب صفاکدل کے غلام نبی نقاش سفر حج سے واپس آیا تو اسکے ہمسائے اُس کے پاؤں کی بری حالت ، ایڑیوں میں دراڑیں اور ڈوبی ہوئی آنکھیںدیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ جب ایک بڑی عمر والے ہمسایہ حاجی محمد جمال نے اُس کی اِ س بری حالت کی وجہ پوچھی تو اُس نے جواباً کہا کہ جدہ پہنچتے ہی اُس نے اپنا جوتا سمندر میں پھینک دیا تھا اور مکہ و مدینہ میں ننگے پاؤں سفر کیا۔ کچھ حاجی حضرات کی خوشگوار مٹھ بھیڑ ہوئی تھی جس کا اُنہیں کبھی گمان بھی نہیں ہوا ہوگا۔ نائد کدل کے حبیب اللہ پنزو، جس نے 1966 ء میں حج ادا کیا، کچھ زیادہ نہیں مانگ سکا ہوگا کہ اُس کی خوشی کی انتہا ہوئی جب اُ س نے وہاں مولوی محمد یوسف شاہ سے ملاقات ہوئی۔ پنزو سے اُس کی سکونت کے متعلق استفسار کرنے پر میر واعظ نے جہاں اپنی فیملی رکھ چھوڑی، اُس نے اسے بتا یا کہ کس طرح اُس نے کئی بار اُس کے گھر میں شاندار غذا کا لطف اُٹھایا خصوصاً ساگ سالن کا، میر واعظ ، جس نے دوسرے ہزاروںلوگوں کی طرح اپنی علیحدی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور اب جلاوطنی کی حالت میں مظفر آباد میں رہائش پذیر تھا، کا فدوی پیروکار ہونے کی وجہ سے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور چلا کرکہا: ’’بہ ہز لگے بلایہِ‘‘یعنی میں آپ کے لئے اپنی زندگی قربان کروں گا۔ (ختم شد)
 

تازہ ترین