تازہ ترین

غزلیات

2 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 
اس کا جنت سے کوئی رشتہ ہے
بے سہاروں کا وہ سہارا ہے
 
چاند تاروں میں روشنی ہے بہت
کیا وہاں آج کوئی میلہ ہے؟
 
روز و شب میں بھی دشمنی ہے عجب
ایک دوجے کے پیچھے رہتا ہے
 
عدل پھرتا ہے سر چھپائے ہوئے
تان کر سینہ ظلم چلتا ہے
 
سچ پہ بالکل یقیں نہیں آتا
جھوٹ کا اتنا بول بالا ہے
 
سچ یہاں کون بولتا ہے شمسؔ
سچ پہ جھوٹوں کا سخت پہرہ ہے
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
 
فراوانی ہو کانٹوں کی پریشانی نہیں ہوتی
یہ جنگل درد کا ہَے اِس میں ویرانی نہیں ہوتی
ہے جب تک اجنبی جب تک رہے کوئی کِنارے پر
اُتر جائے تو پھِر گہرائی انجانی نہیں ہوتی
عیاں اِس سے تو ہے سب کُچھ یہ ہے اخلاق کا شیشہ
بدن جِس میں ہو بے پردہ وہ عُریانی نہیں ہوتی
حرارت پیار کی اِس کو گلاتی ہے مہینوں میں
عداوت برف کی دو دِن میں تو پانی نہیں ہوتی
مِری آسانیوں میں بھی ہزاروں مشکلیں ضم ہَیں
جو مشکل ہو تو اُس میں کوئی آسانی نہیں ہوتی
کہیں بادل محبت کے برس بیٹھے ہَیں شِدّت سے
وگرنہ آنکھ کے دریا میں طُغیانی نہیں ہوتی
مَیں اِنساں ہوں تو مجھ سے ہَے خطا بھی آرسیؔ لازم
مَیں تُجھ سا نہیں ہوں جِس سے نادانی نہیں ہوتی
 
دیپک آرسیؔ
203/A، جانی پور کالونی-180007
رابطہ؛9858667006
 
 
ترےہی منتظر ہر شام تھے ہم
مری جاں شہرمیں بدنام تھے ہم
 
تری ہی چاہتوں کے زخم تھے بس
بھری دنیامیں غم کا نام تھے ہم
 
بدن توسخت تھا اک سنگ جیسا
کہیں اندر سے ہی کچھ خام تھے ہم
 
ہمیںکیاہے مقدر سے شکایت
محبت میں تو خود ناکام تھے ہم
 
ملی ہم کو سزائے موت جیسے
کسی کے سر کوئی الزام تھے ہم
 
ہمیں شاہی ؔجہاں کے غم ملے پر
کسی کے ہاتھ کے کب جام تھے ہم
 
شاہیؔ شہباز
وشہ بُک پلوامہ کشمیر
رابطہ؛7889899025
 
 
پھر سے مہکے بہار آجاؤ
صاحب مشکبار آجاؤ
 
مدتوں بعد آج پھر دل کو 
آگیا ہے قرار آجاؤ
 
ساتھ میرے اُداس بیٹھے ہیں
سب ہی لیل و نہار آجاؤ
 
پھر نئے دکھ تمہیں سنانے ہیں
اے میرے غمگسار آجاؤ
 
کیا خبر کب یہ سانس رُک جائے
چھا رہا ہے خمار آجاؤ
 
آج کس کے لہو کی باری ہے
کرنے سر کو نثار آجاؤ
 
آ رہائی دو قیدِ ہستی سے
توڑ دو یہ حصار آجاؤ
 
ہجر کی تیز آندھیوں سے پھر
اُڑ رہا ہے غبار آجاؤ
 
دل کی ویرانگی تمہیں راشفؔ
دے رہی ہے پکار آجاؤ
 
راشف عزمی
فون نمبر:۔8825090381
 
 
وہ گزرے پل سہانے ڈھونڈتا ہوں
میں جینے کے بہانے ڈھونڈتا ہوں
 
لگا کر آگ میری تِشنگی کو
وہ کہتے ہیں دیوانے ڈھونڈتا ہوں
 
تیری حسرت بھری آنکھوںمیںہرپل
تیرے گزرے زمانے ڈھونڈتا ہوں
 
بُجھی ہے آگ شاید گلستاں میں
جو آتے ہیں لگانے،ڈھونڈتا ہوں
 
تمہارے شہر میں عاشق ہیں پیاسے
چلو خود آب و دانے ڈھونڈتا ہوں
 
تسلی ہو کہ گھر  کی سرحدوں میں
مسلسل محل خانے ڈھونڈتا ہوں
 
یہ کہتے ہیں کئی ناداں ہوں سیرابؔ
دِلوں میں آشیانے ڈھونڈتا ہوں
 
سیرابؔ کشمیری
دیور لولاب (کپوارہ)
فون؛9622911687