ادھورا سویٹر

افسانہ

2 ستمبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنت رشید
ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اپنی اولاد پر جان نچھاور کرنے والی ماں کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ میری ماں دنیا کی حسین ترین عورت ہے۔ خوبصورت آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور آنکھوں میں ہزاروں خواب شاید میرے لیے ہی۔ ضروری نہیں کہ ہر خواب پورا ہونے تک انسان کو فرصت ملے۔ کئی خواب پورے ہونے سے پہلے زندگی روٹھ جاتی ہے۔ میری ماں خاموش طبیعت کی مالکن ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی گہری سوچ میں ہو۔ بڑوں کی عزت، چھوٹوں سے پیار کرنے والی عبادت گزار اور سخی، شکر اور صبر کرنے والی، شبنم جیسا ٹھنڈا لہجہ۔ اس کے علاوہ ایک خدمت گزار بہو۔ ایک سگی اور ہمدرد بہن کی طرح خیال رکھتی ہے میرے چہیتے چاچو کا۔ 
اور میں اپنی ماں کی اکلوتی بیٹی تمنا ہوں۔ 
ماں کے ساتھ ساتھ گھر میں سب کی چہیتی ہوں۔ میری ہر چھوٹی بڑی خواہش پوری کی جاتی ہے۔ ہر روز گھر میں میری پسند کا کھانا بنتا ہے۔ میری تصویر کچن کے علاوہ گھر کے ہر کمرے کی دیوار پر جگمگاتی ہے۔ میری پڑھائی کے لیے گھر میں ایک مستقل ٹیچر کا بندوبست ہے۔ ناظرہ پڑھانے ہر شام مولوی صاحب گھر آتے ہیں۔ میری ذرا سی تکلیف سے گھر والے بہت ہی پریشان ہوتے ہیں۔ غرض ان کی ہر خوشی مجھ سے جڑی ہے۔ گھر کے سارے لوگ کہتے ہیں کہ سچ مچ ہماری آنکھوں کا نور اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک تمنا ہے۔ پتہ نہیں کیا سوچ کر انہوں میرا نام تمنا رکھا۔ 
ایک دن میں نے د ادی امان سے سرگوشی کے انداز میں پوچھا: میرا نام تمنا کس نے اور کیوں رکھا؟۔ 
ہم سب نے مل جل کر تمہارا نام تمنا رکھا۔ نہ ہی تمہارے پردادا اور دادا کی کوئی بہن تھی اور نہ ہی تمہارے ابا کی۔ ہمیں بڑا ارمان تھا بیٹی کا تو بڑی منتوں، دعاؤں اور آرزوؤں کے بعد اللہ نے ہمیں کوئی بیٹی دی۔ دادی نے تفصیل سے جواب دیا۔ 
کیا خاندان میں بیٹی ہونا ضروری ہے؟ میں نے د ادی امان سے دوسرا سوال پوچھا۔
ہاں جگر !جس گھر میں بیٹی ہوتی ہے وہ گھر جنت سے کم نہیں ہوتا۔ دادی نے جواب دیا۔ 
چھوٹی سی عمر میں ہی حساس طبیعت ہونے کے باعث میں محسوس کرنے لگی کہ کوئی ایسی بات ضرور ہے جو گھر والے مجھ سے چھپا رہے ہیں۔ ماں اور ابا ہر پندرہ بیس دن بعد پابندی سے کہیں جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ جانے کی ضد کرنے کے باوجود وہ لوگ مجھے لے کر نہ جاتے ہیں۔ میں دادا ابااور دادی ماں سے پوچھتی ہوںماں اور ابو کہاں جاتے ہیں۔ مجھے اپنے ساتھ لے کر کیوں نہیں جاتے؟ وہ لوگ اپنی شفقت بھری باتوں سے بہلا کر مجھے ٹال دیتے ہیں۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی محسوس ہونے لگا کہ ماں اکثر تھکی تھکی اور کمزور لگ رہی ہے۔ مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپانے کی بھر پور کوشش کر کے ماں مسکراتی ہے۔ میں اس کے چہرے کو پڑھنے کی صرف کوشش کرتی ہوں۔ 
میں ماں سے کئی بار ابو کے ساتھ کہیں جانے کی وجہ پوچھنا چاہتی ہوں مگر کہیں وہ خفا نہ ہو جائے اس لیے یہ سوال دل میں ہی دبا لیتی ہوں۔ 
ہر روز ماں مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہے۔ سونے سے پہلے ہاتھ اور چہرے پہ کریم لگاتی ہے اور سوتے وقت میرے سرہانے بیٹھ کر میرے بالوں میں دیر تک انگلیاں پھیرتی ہے جب تک میں نیند کی وادیوں میں کھو نہیں جاتی ہوں۔ 
گھر کے سب لوگوں کو میرے جنم دن کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ پڑوس کے سارے بچوں اور میرے ننھیال کے عزیزوں کی میرے جنم دن پر دعوت کی جاتی ہے۔ 
اس سال میرا دسواں جنم دن منایا جا رہا ہے۔ جنم دن کی تیاریاں گھر میں چل رہی ہیں۔ دعوت پہ آئے ہوئے مہمان اور گھر کے لوگ تحائف کا ڈھیر لگا رہے ہیں۔ 
ماں ہر سال اپنے ہاتھوں سے بُنا ہوا ایک سویٹر گفٹ دیتی ہے، کبھی گلابی کبھی لال تو کبھی نیلے رنگ کا خوبصورت سویٹر۔ الگ الک رنگوں کے پورے نو سویٹر میرے پاس موجود ہیں۔ 
ہمارے کمرے میں ایک سٹیل کی الماری ہے جو ہمیشہ بند رہتی ہے۔ میں نے کئی بار کھولنے کی کوشش کی مگر کھول نہ پائی۔ 
جوں جوں وقت گزر رہا ہے میں یہ بات اچھی طرح سمجھنے لگی ہوں کہ سب لوگ ماں کی کچھ زیادہ ہی پرواہ کرتے ہیں۔ ماں کبھی سر درد کی شکایت کرتی ہے تو یکدم گھر کے سارے افراد اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ دادی اکثر اوقات چہار قل پڑھ کر ماں پر دم کرتی ہے۔ 
دادی ماں گھر کا سارا کام خود ہی کرنے لگی ہیں حالانکہ چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی اب ان کی عمر نہیں۔ وہ کبھی زبان سے اُف نہیں کرتی ہیں اور ہمیشہ کہتی رہتی ہے کہ مجھے اپنی پوتی اور اپنی بیٹی جیسی بہو جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ 
میرے اسکول میں چھٹیاں چل رہی ہیں۔ میرا جنم دن قریب آتے ہی ماں نے بازار سے زعفرانی رنگ کا اون  لایا اور میرے لئے سویٹر بُننے لگی۔ سویٹر تقریبًا بن کر تیار ہوگیا۔ سویٹر کا اگلا پچھلا حصہ اور دونوں بازو۔ ماں نے سویٹر کے حصوں کو جوڑ لیا اور اب سویٹر کا گلا بنانا باقی ہے۔ 
ماں نے عشاء کی نماز ادا کی اور اس کے بعد مجھے رات کا کھانا کھلایا، میرے ہاتھوں اور چہرے پر کریم لگائی۔ میرا سر اپنی گود میں رکھا کر اپنی انگلیاں آہستہ آہستہ میرے بالوں میں پھیرنے لگی۔ وہ ایک کہانی بھی سنانے لگی کیونکہ میں کہانی سنے بنا سو نہ پاتی تھی۔ اچانک ماں کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ آج ابا نے وہ اسٹیل کی الماری پہلی بار میرے سامنے کھولی۔ اس میں سے دو تین فائلیں نکالیں اور ماں کو ہاسپٹل لے گئے۔ ماں کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کیا گیا۔ کئی ہفتوں تک ہاسپٹل میں ایڈمٹ رہنے کے بعد ماں کو گھر لایا گیا۔ نذر و نیاز اور دعائیں کی کہیں لیکن ماں کی طبیعت میں کوئی سدھار نہ آیا۔ 
اب ماں کی آنکھوں میں سوجن رہنے لگی ہے۔ آنکھیں اکثر بند رہتی ہیں۔ بڑی مشکل سے کوئی بات کر پاتی ہے۔ 
ماں کو ہاسپٹل سے آئے ہوئے کئی دن ہو گئے ہیں۔ میرے ننھیال والے بھی آئے ہوئے ہیں۔ گھر میں سارے لوگ گم صم اور دل ملول بیٹھے ہیں۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا۔ پورے گھر میں سناٹا ہے۔ کسی کو کھانے پینے یا کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔ بس ماں کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ 
ماں کھانا پینا بالکل چھوڑ چکی ہے۔ اس کی زندگی دوائیوں  کے سہارے گزر رہی ہے۔ گھر کا سناٹا اور ماں کی حالت دیکھ کر مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ میں نے سخت لہجے میں روتے ہوئے ابو سے پوچھ لیا: ماں کو کیا ہوا ہے؟ ماں بات کیوں نہیں کرتی؟ ماں آنکھیں کیوں نہیں کھولتی؟ ماں میرے ادھورے سویٹر کو پورا کیوں نہیں کرتی؟
میں بہت دیر تک کھڑی رہی۔ سسکیوں سے میرا وجود ہل  گیا۔ لیکن میرے سوالوں کا کسی نے جواب نہیں دیا۔ شاید جواب دینے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ  تھے اور نہ ہی ہمت۔ اس دن میں نے نہ کھانا کھایا اور نہ ہی کسی نے منانے کی کوشش کی۔ 
جمعہ کا دن ہے۔ اسکول میں چھٹیاں ہونے کی وجہ سے میں دیر تک سوئی رہی۔ سو کر اٹھی تو دادا ابا، ابا اور چاچو جمعہ کی نماز پڑھنے گئے ہیں۔ دادی ماں اور نانی ماں میری ماں کے سرہانے تسبیح لے کر بیٹھی ہیں۔ میں ماں کے پاس گئی اور میں نے اس کی طبیعت میں ذرا سا سدھار دیکھا۔ ماں نے دھیرے دھیرے اپنی سوجھی ہوئی آنکھیں کھولیں۔ میری طرف نظر بھر کے دیکھا۔ اپنے تھرتھراتے ہوئے کمزور ہاتھوں سے اپنے تکیے کے نیچے سے چابی نکال کر مجھے تھمائی اور الماری کی طرف اشارہ کیا۔ 
چابی الماری کے اندر والے دراز کی ہے۔ مجھے دراز میں ایک ڈائری ملی۔ میں نے ڈائری نکالی اور لے کر ماں کے پاس پہنچ گئی مگر ماں مجھ سے کوسوں دور جا چکی ہے۔
وہ لمحہ تمنا کے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ڈائری تمنا کے ہاتھوں سے گر گئی۔ ڈائری کے پنّے خود بخود کھل گئے۔ شاید ڈائری کے پنوں پرماں کی زندگی کی سچائی تھی۔ آج معصوم تمنا کو اپنے معصوم سوالوں کے سارے جواب مل گئے۔ 
بے جان ماں کے سرہانے دس سالہ بے بس تمنا، فرش پر ماں کی کھلی ڈائری اور سامنے شیلف پر ادھورا سویٹر ۔۔۔۔۔۔!
 
���
 پہلگام اننت ناگ
 رابطہ 9419038028 ، 8713892806

تازہ ترین