کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

31 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
 سوال:۔ ایک مقامی جامع مسجد شریف کی ایک علیحدہ بلڈنگ مسجد شریف کی آمدنی کے واسطے تعمیر کی گئی ہے۔ اب اس بلڈنگ کو کرایہ پر دیا گیا ہے۔ جو بھی کرایہ وصول ہوتا ہے اس کو مسجد شریف کےتعمیراتی کاموں اور دیگر ضروریات  کےلئے خرچ کیا جاتا ہے۔ کچھ سالوں سے یہ بلڈنگ ایک بنک کو کرایہ پر دی گئی ہے۔ کیا اس بلڈنگ کو بینک کو کرایہ پر دینا جائز ہے نیز کیا اس سے حاصل شدہ کرایہ مسجد شریف پر خرچ کرنا جائز ہے؟ شریعت کے رو سے جواب عنایت فرمائیں؟
نذیر احمد بٹ و حاجی ڈاکٹر غلام محی الدین بٹ 
 

مسجد کی ملکیتی عمارت بنک کو کرائے پر دینا!

جواب:۔ بینک اگر چہ کئی مفید اور راحت کے کام بھی انجام دیتا ہے ۔ مثلاً رقوم کی حفاظت، رقوم کی منتقلی وغیرہ اور یہ دونوں آج کی اہم ترین ضروریات بن گئی ہیں۔ اس لئے کہ رقوم کی حفاظت کا دوسرا کوئی قابل اطمینان متبادل نہیں۔ اسی طرح رقوم کو دوسری جگہ یا دوسرے شخص کو منتقل کرنا ہوتو اس کا بھی کوئی ایسا راستہ نہیں کہ انسان بے فکر ہو کر رقم دوسری جگہ پہنچا سکے۔ ان دو اہم ضرورتوں کو بنک ہی انجام دے رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بینک کا سارا کاروبار سود پر مبنی ہے اور اس کی آمدنی کا غالب تر حصہ صرف سود ہےاور یہ سراسر حرام ہے۔ اگر کوئی بلڈنگ بینک کو کرایہ پر دی گئی تو کرایہ کی رقم بھی بینک اپنے حاصل کردہ سود سے ادا کرےگا دوسرا کوئی جائز ذریعہ آمدنی بینک کے پاس نہیں کہ جس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس جائز آمدنی سے بلڈنگ کا کرایہ ادا ہو رہا ہے۔ بینک جب سودی رقم کرایہ کے طور پر دے گاتو ظاہر ہے اس کے متعلق مطلقاًحلال ہونے یا جائز ہونے کی بات اسلامی اصول کے مطابق متصورنہیں۔ اس لئے فتاویٰ کی تمام کتابوں میں سراحتہ ًموجود ہے کہ مسجد کی بلڈنگ بینک کو کرایہ پردینا جائز نہیں ہے ،اسلئے یہ امر معصیت میں تعاون کے قبیل سے ہے اور یہ قرآن کریم کے صریح حکم کے مطابق سخت منع ہے۔
سوال: نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی مرضی کی کیا اہمیت ہیں۔ نیز گھروالوں کا کیا کردار ہے وضاحت کریں؟
اعجاز خان۔۔ سرینگر
 

نکاح۔مرضی کی اہمیت

جواب :۔ نکاح کا تعلق جیسے لڑکے اور لڑکی کی ذاتی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا تعلق دونوں خاندانوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے نکاح کے مکمل طور پر کامیاب ہونے اور ازدواجی زندگی کے ہر طرح خوشگوار بننے کیلئے ضروری ہے کہ لڑکے لڑکی بھی دونوں رضامندہوں اور اُن کے والدین بھی اس رشتہ پر خوش اور راضی ہوں۔ اگر خدانخواستہ کسی رشتے میں دونوں بچے خوش ہوں اور والدین ناراض ہوں تو خوشگواری کیسے آئے گی اور اگر والدین کسی ایسی جگہ رشتہ کرنے پر بضد ہوں جہاں لڑکا یا لڑکی آمادہ نہ ہوں تو بھی رشتہ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہونگے۔ اسلئے شریعت اسلامیہ کا یہی حکم ہے اور عقل عام بھی یہی پسند کرتی  ہے کہ آپسی مفاہمت، رضامندی اور سبوں کی خوشی شامل ہو۔ اور جہاں بھی رشتہ ہو سبوں کی مشاورت اور دلی آمادگی کے ساتھ ہو۔ زیر نظر معاملے میں لڑکے اور اس کے اہل خانہ پر ضروری ہے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں یا تو والدین بچے کی چاہت مان لیں اور اپنی ضد چھوڑ دیں یا بچے اپنی بے جا ضدپر مصر رہے تو دونوں صورتوں میں آگے تلخیاں اور ناخوشگوار یاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
والدین دور اندیشی کا رویہ اپنائیں اور یہ سوچیں کہ بچے کو آئندہ زندگی گذارنی ہے اسلئے ہم اپنی چاہت اس پر مسلط نہ کریں ایسی میں بہتری ہے اسی طرح بیٹا یہ سوچے کہ میرے والدین نے آج تک مجھے پالا پوسا۔ اور آئندہ مجھے ان کی ضرورت ہے اور ان کو میری ضرورت ہے لہٰذا ان کی پسند کو ملحوظ رکھنے میں ہی بہتری ہے دونوں طرف سے اگر ہٹ دھرمی اور بے جا اکڑ قائم رہی تو آئندہ دونوں کو سخت تلخیوں بلکہ نزاعات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑیگا۔
 سوال:۔ کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔
تنویر احمد    ۔۔۔۔۔ْ   بارہمولہ

اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی

جواب :۔  اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پہلا مقصد جسم کو ڈھانکا ہے یہ اسلام کا حکم بھی ہے اور فطرت انسانی کا تقاضا بھی ہے۔
قرآن کریم نے لباس کی پہلی خصوصیت یہی بیان کی ہے کہ وہ جسم خصوصاً اعضاء مخصوصہ کو چھپاتا ہے ۔ (سورہ اعراف)
اب اگر ایسا لباس پہنا چائے جو جسم کو نہ چھپائے تو وہ لباس چونکہ قرآن کے بیان کردہ مقصد کو پورا نہیں کر رہا ہے،اس لئے وہ غیر شرعی لباس ہوگا۔ آج کل بہت سارے لباس ایسے ہی ہیں۔
حدیث میں ہے کہ دو گروہوں کو جہنم میں جلتے دیکھاہے۔ ایک گروہ وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی۔ گویا یہ امر ہونا طے ہے کہ لباس پہننے کے باوجود لباس کا پہلا مقصد جسم کو چھپاناپورا نہیں ہوگا ،اسلئے اُن کوننگا کہا گیا ۔اس اصول کی روشنی میں ہر وہ لباس غیر شرعی ہوگا جو اتنا تنگ اور چست ہو کہ جسم کے سارے اعضاء صاف صاف نمایاں ہو ںاور اعضاء کا حجم اتار چڑھائو دوسرے کو کھل کر نظر آئے جیسے مرد تنگ پتلون یا عورتیںسُتنا پہنتی ہیں۔ لہٰذا آج کی جینز پینٹ ،جو جسم کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے اور جس کو سکن ٹائٹ کہا جاتا ہے، یہ غیر شرعی ہے۔ چاہئےمرد پہنیں یا عورتیں۔ اسی طرح وہ شرٹ جو اتنی چھوٹی ہو کہ دونوں ہاتھ اوپر کر یں تو ناف کے نیچے کھل جائے اور کمر کو نیچے کی طر ف جھکا ئیں تو کمر کے نیچے کا حصہ ننگا ہو جاتا ہے،ایسی شرٹ غیر شرعی لباس ہے ۔اس میں نماز بھی ادا نہیں ہوتی اسی طرح حضرت نبی کریم ﷺ  کاارشاد ہے کہ وہ جو کسی دوسری قوم کی مشابہت یعنی نقالی کرے وہ انہی میں سے ہے ( ابو دائود)
اب اگر کسی نے وہ لباس پہنا جو کسی دوسرے طبقے مثلاً کھلاڑیوں ، فلم سٹاروں، ناچنے گانے والوں، یا کسی دوسری قوم کا مخصوص شعار ہو تو یہ غیر شرعی ہوگا کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔ آج کل عموماً فیشن کی بنا پر یہی دیکھا جاتا ہے۔دراصل ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان یہ معلوم کرے کہ میرا دین مجھے کون سا لباس پہننے کی اجازت دیتا ہے اور نفسانیت وفیشن پرستی کا جذبہ یہ کہتا ہے کہ آج کل کس لباس کا چلن اورفیشن ہے ۔ان دونوں جذبوں کے نتائج الگ الگ نکلتے ہیں ۔جب انسان کا نفس فیشن پرستی کے سامنے جھک جاتا ہے تو اُسے اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کےلئے کوئی حیلہ درکار ہوتا ہے اور وہ حیلہ یہی ہے کہ شیطان اُس کے دل میں ڈالتا ہے کہ اسلام میں لباس کی کوئی حد بندی نہیں۔ یہ سوچ کر وہ اپنے آپ کو مطمئن کرتا ہے پھر ایک قدم آگے بڑھ کر وہ دوسروں سے بھی یہی کہنے لگتا ہے۔ اُس وقت وہ اسلامی احکامات کی تشریح نہیں بلکہ اپنے عمل کی صفائی اور اس کی تائید کرنے کی کوشش کرتا ہےمگر خود اُسے خبر نہیں ہوتی کہ وہ اسلام کی تحریف کی کوششیں کر رہا ہے۔اگر کوئی شراب کا عادی یا رقص و سرور کا شوقین یہ کہنے لگے کہ اسلام میں یہ منع نہیںتو کیسے یہ بات درست ہوگی۔ اسی طرح اپنے فیشن پرستی کے شوق کی تسکین کےلئے کوئی یہ کہنے کہ لباس بھی بدلتا رہتا ہے اور اسلام میں کوئی لباس متعین نہیں تو یہ اسلام سے لا علمی ہے اور عمل نہ کرنے کے بہانے ہیں۔
سوال:۱-بہت سارے نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اُنہیں بہت بُرے بُرے خیالات آتے ہیں ۔ میرا حال بھی ایسا ہی ہے۔ یہ خیالات اللہ کی ذات کے بارے میں ،حضرت نبی علیہ السلام کے متعلق ، ازواج مطہراتؓ کے متعلق ،قرآن کے متعلق ہوتے ہیں۔اُن خیالات کوزبان پر لانا بھی مشکل ہے ،اُن خیالات کو دفع کرنے کے جتنی بھی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی وہ دل میں ،دماغ میں مسلط ہوتے ہیں ۔اب کیا یا جائے ؟
کامران شوکت

بُرے خیالات: شیطان وہیں حملہ کرتاہے جہاں ایمان کی دولت ہو

جواب:۱-بُرے خیالات آنا دراصل شیطان کا حملہ ہے۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؒ نے یہی صورتحال عرض کرکے کہاکہ یا رسول اللہ ؐ میرے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ اگر میں اُن کو ظاہر کروں تو آپؐ ہم کو کافر یا منافق قرار دیں گے ۔
اس پر حضرت ؐ نے ارشاد فرمایا کہ واقعتاً تمہارے دل میں ایسے خیالات آتے ہیں ؟ عرض کیا گیا کہ ہاں ایسے خیالات آتے ہیں۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایمان کی علامت ہے ۔ عرض کیا گیا کیسے ؟تو ارشاد فرمایاچور وہاں ہی آتاہے کہ جہاں مال ہوتاہے ۔ جب ایسابُرے خیال آئیں تو باربار استغفار اور لاحول پڑھنے کا اہتمام کریں اور اپنے آپ کو مطمئن رکھیں کہ یہ آپ کا اپنا خیال ہے ہی نہیں ۔ آپ کاخیال تو وہ ہے جو آپ کی پسند کے مطابق ہو ۔ یہ خیال آپ کو نہ پسند ہے نہ قبول ہے تو اس کا وبال بھی آپ کے سر پر نہیں ہے ۔   
سوال:۔ عبدالوہاب کے تین بیٹے ہیں جبکہ عبدالرحمن کے دو بیٹیاں ہیں عبدالوہاب سے دوسرے بیٹے نے عبدالرحمن کی پہلی بیٹی کے دودھ پینے کے عمر میں عبدالرحمن کی بیوی سے کبھی کبھی دودھ پیا ہے ۔ عبدالوہاب کے پہلے بیٹے کا رشتہ کیا ان دونوں بچیوں میں سے کسی کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں ۔ 
ایک طالب علم

رضاعی رشتوں میں نکاح جائز نہیں

جواب:جس بچے نے کسی دوسری خاتون کی چھاتی سے دو دھ پیا ہے اس بچے کا رشتہ اس خاتون کے کسی بھی بچے کے بھائی بہن کا رشتہ اس دودھ پینے والی خاتون کے کسی بھی بچے کے ساتھ درست نہیں۔ لیکن دودھ پینے والے بچے کے بھائی بہن کا رشتہ اس دودھ پلانے والی خاتون کے کسی بھی بچے کے ساتھ درست ہے۔لہٰذا زیر نظر سوال میں عبدالوہاب کے پہلے بیٹے جس نے عبدالرحمن کی زوجہ سے دودھ نہیں پیا ہے کا رشتہ عبدالرحمن کی دختر کے ساتھ درست ہے۔
اس سلسلے میں وہ حدیث جس میں دودھ پینے اور پلانے کی وجہ سے رشتہ کے حرام ہونے کا بیان ہے اُس حدیث کی بنا پر شریعت کا یہ ضابطہ بنایا گیا کہ دودھ پینے والے بچے کی طرف سے صرف ایک بچے کا رشتہ حرام ہوتا ہے اس بچے کے بھائی بہن کا نہیں۔ اور دودھ پلانے والی عورت کے تمام بچوں کا رشتہ اسی سے حرام ہو جاتا ہے چاہئے وہ بچے پہلے کے پیدا شدہ ہوں یا بعد کے ہوں ایک طرف حرمت صرف ایک کے حق نہیں ہوتی ہے اور دوسری طرف سب کے حق ہیں۔ 
 
 
 
 
 

تازہ ترین