تازہ ترین

غزلیات

26 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا
وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا
 
زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ
میں آسمان سے تارے اُتار سکتا تھا
 
مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ
مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا
 
جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں
وہ اُبر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا
 
پُر اطمینان تھیںاس کی رفاقتیں بلراجؔ
وہ آئینے میں مجھے بھی اُتار سکتا تھا
 
   بلراج بخشی
 ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، 
اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)
 موبائل نمبر؛09419339303
 
 
 
دِل میں رب کو بسایا کر
اُس کے نغمے گایا کر
 
اُس کے درکی خاک کو بھی 
اِن آنکھوں سے لگایا کر
 
اپنے غم کی بات نہیں 
سب کا بوجھ اُٹھایا کر
 
تیری آس لگائی ہے
مُجھ سے مِلنے آیاکر
 
ہے جو سیہ کاری کا سبب 
دِل کا میل مِٹایاکر
 
اُس سے بڑھ کر کوئی نہیں
لو رب سے تو لگایا کر
 
ہر محفل میں پیارے ہتاشؔ
اپنے شعر سُنایا کر
 
پیارے ہتاشؔ
جموں،موبائل نمبر؛ 8493853607
 
 
کبھی زندگی کی کتاب ہوں
کبھی آخرت کا حساب ہوں
 
نہ گُماں تھا جس کا، وہیں پہ میں
ہوا ریزہ ریزہ جناب ہوں
 
جہاں ہم تھے، تم تھے، بہار تھی
وہیں آج مثلِ سراب ہو ں
 
نہ جئے بنے نہ مرے بنے
کہ سلگتا آبِ  عتاب  ہوں
 
تُو چھپائے بیٹھا ہے سادگی
میں لُٹاکے آیا نقاب ہوں
 
یوں ہی ساتھ چل مرے ہم سفر
ترا طالبؔ و ہم رقاب ہوں
 
اعجاز طالب
حول سرینگر،9906688498
 
 
پلکیں زمیں پہ اپنی بچھاتی ہے چاندنی
ایسے میں دل ہمارا لُبھاتی ہے چاندنی
 
جب ساتھ چھوڑ دیتا ہے سورج تو اُس گھڑی
رستہ مسافروں کو دکھاتی ہے چاندنی
 
وہ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے شہر میں
ہر سُو محبتوں کو سجاتی ہے چاندنی
 
دیکھا ہے میں نے روتے ہیں منظر زمین کے
جب بھی کبھی یہ آنسو بہاتی ہے چاندنی
 
منظر یہاں کے دیکھ کے خاموش ہوگئی
حالاتِ ظلم رب کو سناتی ہے چاندنی
 
انساں ہو یا کہ کوئی درندہ زمین پر
سائے میں اپنے سب کو بٹھاتی ہے چاندنی
 
تیرے غموں میں آج بھی شامل ہوں ہر طرح
بسملؔ مجھے یہ کہہ کے سُلاتی ہے چاندنی
 
سید بسمل مرتضٰی
شانگس اننت ناگ کشمیر
موبائل نمبر؛9596411285 
 
 
کوششیں کرتے رہو تم یہ ہنر ہونے تک
دل کی آواز مرے دل پہ اثر ہونے تک
 
ابتدا ہے یہ محبت کی بھروسہ رکھو
وقت لگتاہے بہت جان وجگر ہونے تک
 
جسکی الفت میں کیا سب کی محبّت سے گُریز
آنـکھ  سے ہـو گـیـا اوجھل وہ نـظـر ہـونے تـک
 
دل کا افسانہ لکھونگا میں لہو سے اپنے
انگلیاں ساتھ تو دیں خون میں تر ہونے تک
 
شب تنہائی میں بہلا یا تھا دل یوں ہم نے
دیپ یادوں کے جلائے تھے سحر ہونے تک
 
زندگی جینے کا ڈھنگ سیکھو پرندوں سے کاشفؔ
اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں وہ پر ہونے تک
 
اظفر کاشف پوکھریروی 
بی ایڈ کالیج manuu بڈگام سرینگر
موبائل نمبر؛9149833563 
 
 
ساتھ نہیں ہے،یار مِرا  اب
راستہ ہے  پُر خار  مِرا  اب
 
ہا تھ جو تھامے ،سنگ چلے جو
کون  بنے  پتوار  مِرا  اب 
 
حال ہوا ہے ،عشق  میں کیسا؟
دیکھنے آ اک بار، مِرا  اب
 
ہوش نہیں ہے ،آج رہا کُچھ
کون کرے شنگار مِرا اب
 
یاد منیؔ کو خوب ستائے
کاش ملے  دلدار  مِرا  اب 
 
  ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
موبائل نمبر؛9596888463
 
 
ٹوٹ جاتے ہیں شاخوں سے، بکھر جاتے ہیں
زیست پتے تیرے اُڑ اُڑ کے کدھر جاتے ہیں
 
پھل وہی بنتا ہے انسان کے پتھر کا شکار
جس کو جب کھاتے ہیں تو چہرے بھی نکھر جاتے ہیں
 
زندگی بوجھ تیرے ڈھوتے ہیں کاندھوں پہ لئے
وقت آخر ہی رہائی ہے، اُترجاتے ہیں
 
زیست دریاہے، بہالیتا ہےسب کچھ، ہم بھی
بہتے جاتے ہیں آخر میں ٹھہر جاتے ہیں
 
کب تلک دھول اُڑاتے یہ پھرینگے بچے
بیگ جب کاندھوں پر چڑھتا ہے سُدھر جاتے ہیں
 
کبھی ساون کا مہینہ تھا سکینہؔ دلبر
اب تو مر مر کے یہ لمحے بھی گزر جاتے ہیں
 
سکینہؔ اختر
کرشہامہ کنزر، ٹنگمرگ
رابطہ؛کرشہامہ کنزر،9622897729