تازہ ترین

خواتین مظالم پر مودی خاموش رہتے ہیں : راہل

8 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی//کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے خواتین اور بچیوں کی عصمت دری کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ تمام امور پر بولنے والے وزیراعظم نریندر مودی خواتین پرمظالم کے تعلق سے خاموش ہیں۔ مسٹر گاندھی نے یہاں خواتین حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جن ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومتیں ہیں مسٹر مودی ان ریاستوں میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہونے والے جرائم پر کچھ کیوں نہیں بولتے ۔ بہار کے مظفرپور اور اترپردیش کے دیوریا میں بچوں کے گھر میں بچیوں کی عصمت داری کے واقعات کے تعلق سے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم سب چیزوں کے بارے میں بولیں گے لیکن خواتین پر وار ہوتا ہے تو وہ ایک لفظ نہیں کہتے ۔ بہار میں چھوٹی بچیوں کی عصمت دری ہوتی ہے مگر وزیراعظم ایک لفظ نہیں بولتے ۔ اترپردیش میں خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے لیکن وزیراعظم کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی حکومتوں پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ملک میں بیٹی بچاو اور بیٹی پڑھاو پروگرام شروع کیا۔ ہر ضلع میں بیٹی بچانے کے لئے چالیس لاکھ روپے دے ئے ہیں لیکن بی جے پی حکومت میں خواتین کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ اسکے رکن اسمبلی سے بیٹیوں کو بچانے کی اپیل کی جارہی ہے ۔خواتین کے حقوق کی لڑائی لڑنے کے کانگریس کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت کے ذریعہ شروع کئے گئے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار اسکیم (منریگا) کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس اسکیم سے ملک کی لاکھوں خواتین کو فائدہ ہوا لیکن مسٹر مودی نے اس اسکیم کا پارلیمنٹ میں مذاق اڑایا اور کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔انہوں نے کانگریس تنظیم میں خواتین کو آگے بڑھانے کے لئے انہیں پورا موقع فراہم کئے جانے کا یقین دلایا اور کہاکہ ملک کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہے ۔ خواتین کے لئے سیاسی ریزرویشن ضروری ہے ۔مودی حکومت سے خواتین ریزرویشن بل لانے کی مانگ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت یہ بل لیکر آتی ہے تو کانگریس اس کی مکمل حمایت کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ مرکز میں اگر ان کی حکومت آتی ہے تو خواتین ریزرویشن بل لایا جائے گا۔کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے کہاکہ خواتین کی آبادی پچاس فیصد ہے اس لئے تنظیم میں انہیں پچاس فیصد جگہ ملنی چاہئے ۔ خواتین قیادت کو کانگریس تنظیم میں جگہ دینے کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجھے آپ کی تنظیم میں ضرورت ہے ۔ جو خواتین الیکشن لڑ سکتی ہیں ان کے نام مجھے دیجئے ۔ میں آپ کو آگے بڑھانے کا کام کروں گا۔ جو پالیسی سمجھتی ہیں ، دیہی ترقی سمجھتی ہیں ، ان کے نام مجھے دیجئے ۔ میرا کام جج کا کام ہے اگر خواتین اور مرد دونوں اچھاا لیکشن لڑسکتے ہیں تو پھر میں خواتین کو آگے بڑھانے کا کام کروں گا۔ ملک کو آپ کی ضرورت ہے ۔مسٹر گاندھی نے خواتین کے تعلق سے بی جے پی۔ آر ایس ایس اور کانگریس کی سوچ میں بنیادی فرق بتایا اور کہاکہ ہماری اور بی جے پی /آر ایس ایس کے نظریات میں بہت فرق ہے ۔ سب سے بڑا فرق خواتین کو ان کی جگہ دینے کے تعلق سے ہے ۔ ان کی ریموٹ کنٹرول تنظیم آر ایس ایس ہے اور اس کے دروازے خواتین کے لئے بند ہیں۔ آر ایس ایس میں نہ تو آج کوئی خاتون ہے اور نہ کبھی جاسکتی ہے ۔یو این آئی