تازہ ترین

غزلیات

29 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

فیصلہ ہے کہ ترے دل میں ٹھہرنا ہے مجھے
اور اک  درد کے عالم سے گزرنا ہے مجھے
 
رات کیا جانے ابھی کام ہے کتنا باقی
شام کو ڈوبنا ہے صبح اُبھرنا ہے مجھے 
 
ایک طوفاں سے ہے مجھ کو بھی پرانی رنجش
یہ اگر وہ ہے تو پانی میں اُترنا ہے مجھے
 
میرا کمرہ ، میری راتیں، میری نیندیں ہیں مگر
میرے ہی خواب ڈراتے ہیں تو ڈرنا ہے مجھے
 
ان کی نظروں میں اگر رہنا ہے پھولوں کی طرح
روز  خوشبوؤں کی مانند بکھرنا ہے مجھے
 
جب سے قسطوں میں ہی ملنے لگیں سانسیں بلراجؔ
روز جینے کے لیے روز ہی مرنا ہے مجھے
 بلراج ؔبخشی
۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)
 Mob: 09419339303
email: balrajbakshi1@gmail.com
 
 
اظفر کاشف پوکھریروی 
بی ایڈ کالیج بڈگام سرینگر
 
 
 
اک مسلسل عذاب تھا کیا تھا
میری آنکھوں میں خواب تھا کیا تھا
پھول جس کو سمجھ رہا تھا میں
وہ تمہارا شباب تھا کیا تھا
کوئی سن کر کبھی نہ کچھ بولا
پتھروں سے خطاب تھا کیا تھا
لوگ اس کو گھٹا سمجھتے تھے
وہ تمہارا نقاب تھا کیا تھا
ہم حقیقت جسے سمجھتے تھے
جسم و جاں میں سراب تھا کیا تھا
نشہ کیوں تھا کسی کی باتوں میں
وہ بھی جامِ شراب تھا کیا تھا
میں اگر ہار ہوں تو کیسی ہوں
وہ اگر کامیاب تھا کیا تھا
اس نے دریا سے کیوں نظر پھیری
اس کے چلّو میں آب تھا کیا تھا
کیوں سماعت کی پیاس بھڑکی تھی
تیرا لہجہ سحاب تھا کیا تھا
 
سید بصیرالحسن وفاؔ نقوی
ہلال ہائوس مکان نمبر ۱۱۴/۴
نگلہ ملاح سول لائن 
علی گڑھ یوپی موبائل:9219782014
 
 
وہ کہ ہر پل مری سانسوں میں رواں رہتا ہے
میرے اندر ہی مرا دشمنِِ جاں رہتا ہے
 
پھیر لیں تم نے جو نظریں تو بکھر جائے گا
خواب آنکھوں میں بہت دیر کہاں رہتا ہے
 
دیکھتا ہوں تری صورت تو نکھر جاتا ہوں
دلِ افسردہ میں اک سوزِ نہاں رہتا ہے
 
ایک پیماں ہے کہ مرنے نہیں دیتا ورنہ
غمِ فرقت میں بھلا کون یہاں رہتا ہے
 
عشق ہو جائے تو پھر جان بھی جا سکتی ہے
اس تجارت میں کہاں سود و زیاں رہتا ہے
 
اجنبی کون ہو، اس شہر سے نسبت کیسی
تم کو معلوم ہے جاویدؔ کہاں رہتا ہے؟
 
سردار جاوید خان
پتہ: مہنڈر،  پونچھ 
رابطہ؛ 9697440404
 
 
تمنّاؤں میں الجھے سینئہ صد چاک کے قصّے
سناؤں آ تجھے دلبر دلِ بے باک کے قصّے
 
بہت مشہور ہیں لیلیٰ و مجنوں کے فسانے، پر
سناتی ہے خودی اکثر خدائے پاک کے قصّے
 
ڈُبویا خود ستائی نے تجھے اے عاشقِ بے بس
سخن ور گنگناتے ہیں شہ ِ لولاکؐ کے قصّے
 
نگاہوں سے ٹپک جاتے ہیں ارمانوں کے پیمانے
جو گھُل جاتے ہیں اشکوں میں خس و خاشاک کے قصّے
 
تغزّل ہے بجا لیکن تغیّر کے احاطے میں
وگرنہ پھر قلم لکھتا ہے بیجا خاک کے قصّے
 
یہی ابرارؔ حق ہے ، حق ادا تجھ سے نہ ہو پایا
سناتے ہو کبھی اپنے، کبھی املاک کے قصّے
 
خالد ابرارؔ
چرار شریف، بڈگام۔
موبائل نمبر؛9622442104