تازہ ترین

چھتیس گڑھ میں سیکورٹی فورسز کیساتھ تصادم میں15ماؤنواز ہلاک,2گرفتار

7 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

سکم//چھتیس گڑھ کے نکسلی انتہاپاسندی سے متاثرہ سکماضلع میں  سلامتی دستوں کے ساتھ جھڑپ میں 15نکسلی انتہاہلاک ہوگئے جبکہ ایک خاتون نکسلی سمیت دونکسلیوں کو گرفتارکرلیاگیا ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس(نکسل آپریشن)ڈی ایم اوستھی نے رائے پورمیں اور بسترعلاقہ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وویکا نند نے جگدل پورمیں الگ الگ پریس کانفرنس میں کہاکہ ابھی بھی اس علاقہ میں نکسلیوں کے ساتھ سلامتی دستوں کے دوسرے گروپ کے ساتھ مڈبھیڑ جاری ہے ۔انھوں نے بتایاکہ کل سے تلاشی مہم پر نکلے سلامتی دستوں نے کونٹا سے گولاپلی کے درمیان نلکٹا ٹاؤن میں تین نکسلی گروپوں کے کیمپ پر جب دھاوابولاتو دوسری طرف سے جوابی فائرنگ ہوئی ۔انتہاپسند ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد موقع سے فرارہوگئے ۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے 15لاشیں برآمد کی ہیں ۔سلامتی دستوں نے موقع سے ایک پانچ لاکھ کے انعامی نکسلی دیوا اور مڈبھیڑ میں زخمی ایک خاتون نکسلی کو گرفتارکیاہے ۔اس کے علاوہ چارآئی ای ڈی اور 16اسلحہ ضبط کئے گئے ہیں ۔ مسڑ اوستھی نے بتایاکہ کونٹا سے تقریبا 20کلومیڑ دورگھنے جنگلوں میں پہلی بار نکسلیوں کے گڑھ میں سلامتی دستوں نے کارروائی کی ہے جس میں انھیں بڑی کامیابی ملی ہے ۔اس علاقہ کو نکسلی کافی محفوظ تصور کرتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہی یہاں کیمپ لگاتے رہے ہیں ۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ ہلاک کئے گئے نکسلیوں کے کیڈر کے بڑے لیڈر بھی شامل ہوسکتے ہیں ،لیکن لاشوں کی شناخت کے بعد ہی صورت حال واضح ہوگی ۔ انھوں نے بتایاکہ گرفتار کئے گئے نکسلی انتہاپسندوں سے پولیس کو کچھ اہم سراغ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملے ہیں ۔انھوں نے بتایاکہ جس علاقہ میں آپریشن ہواہے اس علاقہ میں کوئی نیٹ ورک دستیاب نہیں ہے ۔سلامتی دستوں کی ٹیم کے واپس آنے کے بعد مزید معلومات حاصل ہونگی ۔انھوں نے موقع سے غیر ملکی ہتھیار ملنے کی خبر سے انکار کیا۔  مسٹر اوستھی نے کہاکہ سلامتی دستوں کی ایک دوسری ٹیم کے ساتھ علاقہ میں اب بھی مڈبھیڑ جاری ہے ۔انھوں نے سکیورٹی اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے جاری مڈبھیڑ کے بارے میں فی الحال مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار دیا ۔انھوں نے کہاکہ سلامتی دستوں کے جوان مارے گئے نکسلیوں کی لاشیں لیکر کونٹا کے لئے روانہ ہوگئے ہیں ۔سلامتی دستوں کے جوان بحفاظت کیمپ میں واپس پہنچ جائیں اس کے لئے اضافی پولیس فورس بھیجی گئی ہے ۔یواین آئی