تازہ ترین

دفعہ 35 اے کی حمایت میں سیاسی وسماجی تنظیموں کے احتجاجی مظاہرے

7 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 نیشنل کانفرنس کابی جے پی پرڈوگروں کے مفادات کوزک پہنچانے الزام

جموں//آئین ہند کی دفعہ 35اے کے تحت جموں وکشمیر ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن واختیارات کے ختم کرنے کے لئے عدالت کا سہارا لیکر کی جارہی مبینہ سازشوں کے معاملے کولے کرنیشنل کانفرنس نے سرمائی راجدھانی جموں میں نیشنل کانفرنس کارکنا ن نے تاریخی اور ثقافتی رگھوناتھ مندر چوک میں دھرنا دیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں دفعہ35اے کی بحالی کے حق میں پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے۔ ضلع این سی صدر جموں اربن دھرمویر سنگھ جموال کی قیادت میں پارٹی صوبائی صدر دفتر شیر کشمیر بھون سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور رگھوناتھ بازار میں دھرنا دیاگیا۔ مظاہرین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پتلے بھی نذر آتش کئے۔ دھرم ویرسنگھ جموال ودیگران نے کہاکہ  اگر دفعہ 35اے کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی کی گئی  تو اس صورت میںپوری ریاست میں حالات متاثرہوںگے اور کوئی بھی پیچدہ صورتحال پیدا ہونے پر سرکار پرہی ذمہ داریاں عائد ہوںگی۔ انہوںنے واضح کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی عوام کو35 اے کے تحت خصوصی رعایت اور اپنے طرز زندگی کے درجے کے حقوق ملے ہیں لہذا اس کی تنسیخ ہونے پر پوری ریاست میں صورتحال پیچدہ بیان ہوں گے۔ تاہم جموال نے امید کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ سپریم کورٹ  میں پیش کی گئی عرضی کو خارج کرے گی۔انہوںنے بی جے پی اورپی ڈی پی کی دونوں پارٹیوں پر بدعنوان محاذ کاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ دونوںپارٹیوں نے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیاہے اورگزشتہ پانچ سالوں میں لوگوں کو گمراہ کرکے چلتا کرے گی۔ انہوںنے کہاہے کہ لوگ بھاجپا کے رویے سے تنگ آچکے ہیںاورپارٹی کی ساکھ  عوام میںختم ہوچکی ہے کیونکہ بی جے پی کا اصلی  چہرہ بے نقاب ہوچکاہے جس کو واضح کرنا اب ضروری نہیں ہے۔مقررین نے کہاکہ ایک مخصوص سیاسی جماعت جموں کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ کو تحلیل کرنے کی خواہاں ہے جو کہ ریاستی عوام کو ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ غیر ریاستی عناصر کی گھس پیٹھ کے بعد یہ دفعہ دورا ندیش ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927میں متعارف کروائی تھی، اس دفعہ کے تحت سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کا نفاذ یہاں کے پشتینی ڈوگروں، کشمیریوں اور لداخیوں کے مفاد کے تحفظ کیلئے کیا گیا تھا اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ہمارے تشخص پر براہ راست حملہ ہوگا۔دفعہ کو تحفظ دئیے جانے کی وکالت کرتے ہوئے رانا نے کہا کہ یہ ہمارے مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہے ، ہماچل اور مہاراشٹر جیسی ریاستیں بھی اسی قسم کے قوانین متعارف کروا رہی ہیں۔ صنف نازک کی مبینہ حق تلفی کا ذکر کرتے ہوئے این سی صوبائی صدر نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور نیشنل کانفرنس سبھی کو مساوی حقوق دئیے جانے کی حامی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے بجائے گورنر کو چاہئے کہ وہ ریاست میں بسے ہوئے تمام غیر ریاستی شہریوں کی شناخت کر کے انہیں جموں کشمیر سے نکال باہر کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھاری تعداد میں غیر ریاستی شہری جموں اور کشمیر میں آباد ہو گئے ہیںجس کی وجہ سے نہ صرف مقامی بے روزگاروں کے حقوق پر شب خون مارا جا رہا ہے بلکہ ہماری معیشت بھی تباہی کے دہانہ پر پہنچ گئی ہے ، اس لئے ہم ریاستی گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ این سی آر کی طرز پر جموں کشمیر سٹیٹ سبجیکٹ رجسٹر بنوائیں اور ریاست میں رہائش پذیر تمام نان سٹیٹ سبجیکٹس کو لکھنپور کے پار دھکیل دیا جائے۔انہوں نے یہ تمام عمل 15-20روز میں مکمل کرنے کی مانگ کی تا کہ غیر ریاستی باشندوں کی طرف سے جموں کشمیر میں بنائی گئی بھاری بھر کم جائیدادیں ضبط کی جا سکیں۔اس دوران مظاہرین سے سابق وزیر اجے سدھوترہ،ستونت کورڈوگرہ اورمرکزی سیکریٹری ٹھاکررچھپال سنگھ ودیگرلیڈران نے بھی خیالات کااظہار کیا۔
 
 

دفعہ کی حمایت میںگوجربکروال تحریک انصاف کامظاہرہ

جموں//جموں میں گوجر بکروال دیش تحریک انصاف نامی تنظیم کے بینر تلے گوجر برادری سے وابستہ لوگوں نے بھی 35اے کے حق میں احتجاج کیا۔ تنظیم کے صدر چوہدری نزاکت کٹھانہ نے کہاکہ 35اے پر حملہ ہماری تہذیب وتمدن، شناخت، ثقافت پر حملہ ہے جس کو کسی بھی صورت میں ہونے نہیں دیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہاں کی غریب عوام کو حاصل اختیارات سے مکمل طور محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس وہ کڑے لفظوں میں مذمت کرتے ہیں۔ 

 

کشمیرکی سیاسی جماعتوں کاوائویلابلاجواز:پنون کشمیر

 جموں// پنونن کشمیرکے ریاستی صدر اشونی کمارچرنگو نے کہاہے کہ کشمیر کی سیاسی پارٹیاںایک بارپھر سیاسی بقاء کیلئے نیا سیاسی وبال کھڑاکرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عام طورپر دیکھاگیا ہے کہ  سیاست دان ریاست کے خصوصی درجے کو منظر عام پر لانے کی کوششیں تیز کردیتے ہیں تاکہ ریاست میں سیاست کی تواریخ میں ان کے نام شامل ہوں۔ یہاں جاری پریس بیان میں چرنگو نے کہاہے کہ دفعہ35اے اوردفعہ370  کے نام پر پہلے سے ہی ریاستی عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہیجس کے باعث پچھلی کئی دہائیوں سے ریاستی عوام آپسی ہم آہنگی بھائی چارے سے الگ تھلگ ہوگئے  ہیںاورانسانیت کے تمام ناطے ختم ہوگئے ہیں اور یہاں تک کہ لوگوںکے بنیادی حقوق بھی سلب ہوچکے ہیں۔  اشونی کمارچونگو تنظیم کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ دفعہ35اے  اور روہنگیوں اوربنگلہ دیشیوں کی غیرقانونی طورپرسکونت کے مدعے پر بحث ومباحثہ کے دوران بولتے ہوئے چرنگو نے کہاہے کہ دفعہ35اے مساوی حقوق  دفعات14,15,16 کو پوری طرح سے سلب کرر ہاہے لیکن اس ضمن میں عوام میں بیداری لانے کی اشد ضرورت ہے۔میٹنگ میں وریندر رینہ چیئرمین‘ سیاسی امور کمیٹی‘ جے ایل کول نائب صدر ‘اوپیندر کول جنرل سیکرٹری ‘کمل باگاتی‘ پی کے بھان کے علاوہ وجے سپرو ‘ پی این پنڈتا ‘اشوک چرنگو وغیرہ نے خیالات کااظہارکیا۔اس موقعہ پر نئی دہلی میں کشمیری پنڈتوں کے بلیدان دیوس منانے کے سلسلہ میں ہونے والی تقریبات کی بھی حمایت کااعلان کیاہے۔ سیاسی بقاء کیلئے  سیاسی لیڈران کے زبانوں سے دئیے جارہے متضاد بیانات  پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے چرنگو نے کہا کہ کشمیرکی مرکزی سیاسی پارٹیوںنے ریاستی عوام خاص طورپر وادی کشمیر کی عوام کو گمراہ کرکے انکے ساتھ دھوکہ کیاہے انہوں نے دکھ کااظہارکیا۔ اس دوران انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ وادی کشمیرمیں کشمیری پنڈتوں کی اثاثہ جات پر قابض لوگوںکے خلاف کارروائی کرکے کشمیری پنڈتوں کے تقدس مقامات کی بحالی کیلئے فوری طورپرجائز اقدامات کرے ۔شرائن بل پر زوردیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کشمیری پنڈت طبقہ اقلیتی فرقہ سے وابستہ ہے اورترجیحی بنیادوںپر شرائن بورڈ کی بل پاس کریں تاکہ کشمیری پنڈت کے تقدس مقامات کی  ہورہی مسلسل پامالی کو روکا جاسکے۔
 
 

بھاجپاعوام کوگمراہ کررہی ہے:سنیل ڈمپل

جموں// دفعہ370 اور35اے کو کالعدم کرنے کی وکالت کرتے ہوئے جموں ویسٹ موومنٹ کے صدر سنیل ڈمپل نے دفعہ 35اے کی تنسیخ  کے معاملہ پر27اگست تک شنوائی موخرکرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کاخیرمقدم کیاہے۔یہاں پر جاری پریس بیان میں سنیل ڈمپل نے بھاجپا پر الزام لگایا ہے کہ بھاجپا  دفعہ370 اور35 اے کے نام پرقوم اورریاستی عوام کو گمراہ کرکے سیاسی روٹیاں سیکھ رہی ہے۔ انہوں نے تمام جانکار حلقوں اورریاستی دانشوروں سے آگے آنے کو کہاہے اور دفعہ 370 اوردفعہ35اے کے ضمن میں عوام میں بیداری لانے کے لئے مہم چلانے کوکہاہے۔قابل ذکرہے کہ سنیل ڈمپل پارٹی کارکنوں سے خطاب کررہے تھے۔ انہوںنے کہا کہ اگربھاجپا دفعہ370 او ر35اے پرسنجیدہ ہے اوردونوں دفعات کو کالعدم قرارددینا چاہتی ہے تو اس پارلیمنٹ کے دونوںایوانوں کو پارٹی کواکثریت موجودہے ۔اس کے علاوہ بھاجپا کا اپنا صدرجمہوریہ اورنائب صدرجمہوریہ ہے کسی بھی وقت ا س ضمن میں آرڈنینس لاسکتے ہیں لیکن بھاجپا ہرگزنہیں چاہتی ہے کہ دونوں دفعات کو ہٹایاجائے لیکن دونوں دفعات پر سیاسی روٹیاں سیکھ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی کامقام یہ ہے کہ ریاست کی عوام کو آج تک دونوں دفعات کے نام پرگمراہ کیاجاتارہاہے جوکہ باعث تشویش ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھاجپا کے لیڈر ایک طرف دفعہ 370 اور35اے کوہٹانے کے خواب لوگوں کو دکھارہی ہے تو وہیں دوسری طرف عدالت میں شنوائی ٹلانے کیلئے گمراہ کن حلفیہ بیان دائر کررہی ہیں۔ اپنے خطاب میں سنیل ڈمپل نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ لوگوں میں بیداری لانے کیلئے ہرممکن کوشش اورپہل کرے تاکہ ریاستی عوام کو مزید ان دفعات کے آڑ میں گمراہ نہ کیاجاسکے۔ انہوں نے ریاستی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ  اصل میں اس مدعے کو لیکر گمراہ نہ ہوکر خوشگوار ماحول کوخراب نہ کرے ۔
 
 

دفعہ 35اے ہٹانے کی وکالت 

جموں یونیورسٹی میں طلباء کی جانب سے بیداری مہم کاآغاز

جموں// جموں یونیورسٹی میں کثیر تعداد میں طلباء طبقہ نے دفعہ35اے کوہٹائے جانے کی وکالت کرتے ہوئے ایک بیداری مہم کا آغازکیا۔اپنی رائے زنی کوسوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کرتے ہوئے ذمہ دارانتظامیہ پرزوردیاہے کہ وہ دفعہ 35اے کو فوری طورپر ہٹانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔اس دوران ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر یونیورسٹی کے پروفیسروں کے علاوہ کثیرتعدادمیں طالب علموںنے پیغام دیتے ہوئے دفعہ 35اے کوغیرانسانی‘غیر آئینی اورخواتین مخالف قانون قراردیاہے۔قابل ذکرہے کہ گزشتہ24گھنٹوں کے دوران اس طرح کے پوسٹ سوشل میڈیا پروائرل ہو ئے ہیں۔یونیورسٹی  کے شعبہ ہسٹری سے وابستہ عارضی لیکچرر انو منکوٹیہ نے کہاہے کہ دفعہ35اے خواتین مخالف ہے اوربطور اسسٹنٹ پروفیسر اس دفعہ کے باعث کافی متاثر ہوچکیہوں۔ انہوںنے کہاہے کہ میری ماں جموں سے ہے اوروالد ہماچل سے ہیں لیکن بدلتے صورتحال کے باعث ہمارے پریوار نے جموںمیںمنتقلی کی ہے اورجموں سے ہی میں نے ساری تعلیم حاصل کرلی ہے لیکن مستقل سکونتی باشندہ نہ ہونے کے باعث میں سرکار ی نوکری نہیں کررہیہوں اورابھی بھی ہم جموںمیں اپنا گھر نہیں بنا پائی اورمیری ماں ریاست کی بیٹی ہے اوروہ دفعہ 35اے کو ہٹانے جانے کا پرزورمطالبہ کررہی ہیں۔تاہم ذرائع نے خبردی ہے کہ یونیورسٹی میںبھاجپا سے وابستہ طالب علموں اوراکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد تنظیم نے مشترکہ طورپر اس طرح کی بیداری مہم کا آغاز کیا۔اے بی وی پی کے سرگرم ور کروں نے یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں جا کر دفعہ35اے کوہٹانے کیلئے بھرپورتعاون کی فراہمی اور حمایت دینے کی اپیل کی ۔