تازہ ترین

سنہرا پھندا

کہانی

5 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
’’میں زندہ کیوں ہوں ؟مجھے مرنے کیوں نہیںدیا۔۔۔۔۔۔؟‘‘
ہوش میں آکر ارد گرد کا جائیزہ لینے کے بعد راحیلہ جب سمجھ گئی کہ وہ کسی اسپتال میں زیر علاج ہے تو حواس باختگی کی حالت میںاپنے بال نوچتے ہوئے زور زور سے چلانے لگی۔
’’ایسا نہیں کہتے راحیلہ ۔۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو سنبھالو پلیز ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
راحیلہ کو ہوش میں آتے دیکھ کر مشتاق،جو اس کے سرہانے موجود تھا،کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔وہ راحیلہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کراُسے پیار سے سمجھانے لگالیکن وہ بدستور چلاتی رہی۔اسی وقت نرس نے آ کر راحیلہ کو انجکشن دیااور کچھ دوائیاں کھلائیں،جن سے اس کی بے قراری آہستہ آہستہ دور ہونے لگی۔
’’ راحیلہ ۔۔۔۔۔ ۔ تم پر ایسی کیا بیتی جو تم یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئی؟ مجھے اتنی بڑی سزا کیوںدینا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
اس کے حواس بحال ہوتے ہی مشتاق نے اس سے کئی سوال پوچھ لئے لیکن راحیلہ نے کوئی جواب نہیں دیااور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گر کر بستر میں جذب ہونے لگے تو مشتاق کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔
’’ مشتاق ۔۔۔۔۔۔روک لو ان آنسئوں کو۔۔۔۔۔۔‘‘۔ 
راحیلہ ،جس کی آنکھوں میں درد کا بیکراں سمندر پنہاں تھا،نے جھر جھری لیتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہارے بغیر کسی کام کا نہیں رہونگا راحیلہ،کچھ تو بتائو کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟؟؟‘‘
مشتاق نے اس کی بات کاٹ کر جذباتی لہجے میں کہا۔
’’بتائونگی ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’مبارک ہو، اسے ہوش تو آگیا ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی جان ابھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔ اسے تھوڑا غذا کھلائو ،بعد میں یہ دوائیاں دے دینا‘‘۔  
نرس نے ایک ٹراے میں کچھ غذائیاں مشتاق کے سامنے رکھتے ہوئے سر گوشی کے انداز میں کہا ۔
دوائیاں کھانے کے بعد راحیلہ ،جس کے ذہن پر گزرے وقت کی کربناک یادیںفلمی مناظر کی طرح چل رہیں تھیں،سخت تناٗو کی حالت میں بستر پر لیٹ کر کچھ دیر گہری سوچوں میں ڈوبی رہی، پھر تکئے کے ساتھ ٹیک لگائے مشتاق کے روبرو بیٹھ گئی۔۔۔؟
راحیلہ ایک نہایت ہی سلیقہ مند ،با پردہ اور شرمیلی گھریلو خاتوں تھی، جو گھر گرہستی کی ذمہ داریاں بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتی تھی اور اس کا شوہر مشتاق بے فکری سے اپنے کاروبار میں مصروف رہتا تھا۔ شام کو جب وہ گھر لوٹتا تھا تو راحیلہ کی ایک ہی مسکراہٹ سے اس کی ساری تھکان دور ہو جاتی تھی،یوں ان کی زندگی ہنسی خوشی گزر رہی تھی۔ایک دن حسب معمول راحیلہ کام میں مصروف تھی کہ اس کی سہیلی شہناز آئی، جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی کیوںکہ دن کو گھر میں اکیلی ہونے کے سبب وہ اکثر بوریت محسوس کر رتی تھی۔شہناز کی خاطر مدارت اور ڈھیر ساری باتوں کے بعد جب وہ جانے کے لئے اٹھی توراحیلہ نے یہ کہہ کر کچھ دیر اور رکنے کے لئے کہا کہ وہ اکیلے اکیلے سخت بور ہورہی ہے ۔
’’ارے پگلی ۔۔۔۔۔۔آج کے زمانے میں تم ایسی باتیں کرتی ہو،مجھے تو گھر میںاکیلے رہنا ہی پسندہے ‘‘۔
’’وہ کیسے؟‘‘
’’تمہارے گھر میں انٹر نیت کنکشن ہے؟‘‘
’’ہاں ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نہیں چلاتی ہوں‘‘۔
’’یہی تو پرابلم ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ تم انٹر نیٹ سے دوستی کرلو، پھر دیکھو وقت کیسے آرام سے گزرتا ہے‘‘۔
شہناز آدھے گھنٹے تک اس کو انٹرنیٹ کے بارے میں جانکاری دیتی رہی۔شام کو جب مشتاق گھر آیا اور کپڑے بدلنے لگا تو راحیلہ،جس کے دماغ میں انٹرنیٹ کے کیڑے ہل چل مچا رہے تھے، گویا ہوئی۔
’’ مشتاق ۔۔۔۔۔۔ ایک بات کہنا چاہتی ہوں ،ناراض تو نہیں ہوجائوگے؟‘‘۔
’’نہیںجانِ من ۔۔۔۔۔۔میں بھلا ناراض کیوں ہو جائوں‘‘۔
مشتاق نے چھیڑتے ہوئے کہا۔
’’مشتاق ۔۔۔۔۔۔میں دن بھر اکیلی گھر میں سخت بور ہوجاتی ہوں،مجھے انٹرنیٹ کا استعمال سکھادوتاکہ میرا وقت بھی آرام سے گزرے‘‘۔   
’’ راحیلہ۔۔۔۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم کہ انٹرنیٹ پر کیسی کیسی فحاشیات ہوتی ہیں،تمہارے لئے مناسب نہیں رہے گا‘‘۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن وہاں اچھی چیزیں بھی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر کچھ سیکھا بھی جا سکتا ہے ‘‘۔
’’راحیلہ ۔۔۔۔۔۔ تم جیسی سیدھی ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’میں سمجھتی ہوں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔
راحیلہ نے اس کی بات کاٹ کر بولنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بحث و مباحثہ اور راحیلہ کے سخت اصرار کے بعد مشتاق نے اُسے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دے اور اس کے استعمال کی بھی تھوڑی بہت جانکاری دیدی۔اسی دن سے راحیلہ کی زندگی میں بدلائو آنا شروع ہو گیا۔اب وہ جلدی جلدی کام نپٹاکر انٹرنیٹ پر بیٹھ جاتی تھی اور گھنٹوں مصروف رہتی تھی۔نیٹ سے اس کی دوستی اتنی پکی ہوگئی کہ اب وہ مشتاق کے دیر سے گھر لوٹنے پر کبھی شکایت نہیں کرتی تھی جبکہ بچوں کی صحت و صفائی،پڑھائی اور اپنے بنائو سنگھار پر بھی بہت کم توجہ دیتی تھی۔ اس سے پہلے وہ اکثر اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں سے ملنے جاتی اور کبھی کبھی مشتاق اور بچوں کے ہمراہ کسی صحت افزا مقام کی سیر کرنے جا تی تھی لیکن اب وہ یہ سب بھی بھول گئی ۔پہلے پہل اس کے روابط اپنی سہیلیوں تک ہی محدود رہے لیکن بعد ازاں کئی اجنبی لوگوں سے بھی اس کے رابطے استوار ہوگئے ۔وہ انٹر نیٹ کی اس حد تک دیوانی ہوگئی کہ مشتاق کے نیند کی آغوش میں چلے جانے کے بعد وہ چپکے سے بستر سے اٹھ کر انٹر نیٹ پر بیٹھ جاتی ۔اب وہ آئے روز مشتاق سے گھر میں نوکرانی رکھنے کی فرمائیش کرتی تھی۔مشتاق، جو اسے بے حد پیار کرتا تھااور اس کی دانائی اور پاکیزہ کردار کا قائیل تھا،نے ایک دن اس کی یہ فرمائیش بھی پوری کردی۔جس کے بعد گھر اور بچوں کی ساری ذمہ داریاں نوکرانی کے حوالے کرکے وہ بے فکری سے انٹرنیٹ سے اپنی وفا نبھاتی رہی۔مسلسل مشق سے وہ نیٹ استعمال کرنے میں بہت ماہر ہوگئی اور مختلف سائیٹس کی سیر کے ساتھ ساتھ سماجی میڈیا کا بھی خوب استعمال کرنے لگی ۔اسطرح اگر چہ ان کے انٹرنیٹ کا بل بہت بڑھ گیاجس کے بارے میں مشتاق نے کئی بار اس کو بتایا لیکن اچھی آمدنی کے سبب اس نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی اور نہ ہی عادت سے مجبور راحیلہ نے اپنی خو بدلی۔اس دوران راحیلہ کی دوستی ایک ایسے شخص سے ہوئی جو دیکھنے میں بے حد خوب رو تھا اور جس کے الفاظ بے حد متاثر کن ہوتے تھے۔اس کی ظریفانہ گفتگو اور میٹھے میٹھے الفاظ سے وہ اس کی اور کھینچتی ہی چلی گئی اور اُس سے خوب چیٹنگ کرتی رہی۔ ایک دن اچانک اُس نے راحیلہ کی آواز سننے کا مطالبہ کیا، جسے راحیلہ نے پہلے سختی سے رد کیا لیکن آخر مان گئی اور وائیس مسیجز کے تبادلے کے ذریعے گفتگو ہونے لگی۔اُس کی متاثر کن گفتگواور دل موہ لینے والی آواز سے راحیلہ اور زیادہ متاثر ہوئی۔۔۔۔۔۔ کچھ وقت تک یہ سلسلہ چلنے کے بعد اُس شخص نے فون نمبر کا نقاضا کیا۔ راحیلہ نے حسب معمول پہلے تو انکار کردیا لیکن بالآخر فون پر بھی ان کی ملاقاتیں ہونے لگیں اور یہ ملاقاتیں بہت لمبی چلتی تھیں،جن کے سبب ان کا تعلق بہت گہرا ہوگیا جس کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے اُس نے راحیلہ سے رو برو ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس پر ناراض ہو کر راحیلہ نے پہلے سخت احتجاج کیالیکن آخر اس شرط پر پگھل گئی کہ یہ ان کی پہلی اور آخری ملاقا ت ہوگی۔ چونکہ اس اجنبی کی گفتگو کے ہر ہر لفظ سے پیار محبت کے پیما نے چھلکتے تھے اس لئے وہ بھی اُس سے ملنے کو سخت بے تاب تھی۔ اسی دن سے اس کی کج روی کی شروعات ہوگئی ۔ وہ اس اجنبی کے دام محبت میں پھنس کر بادلوں پر چل کر ستاروں سے باتیں کرنے لگی اور اپنے شوہر سے نفرت کرکے مختلف بہانوں سے اسے پریشان کرنے لگی لیکن وہ تب بھی اس کا پورا خیال رکھتا تھا۔
     ایک دن مشتاق نے راحیلہ سے کہا کہ کاروباری مصروفیات کے سلسلے میں اسے دوتین دن گھر سے باہر رہنا پڑے گا اسلئے وہ بچوں کو لے کر میکے چلی جائے۔راحیلہ نے یہ سوچ کر میکے جانے سے انکار کردیا کہ اپنے آشنا سے کھل کر ملنے کا اس سے اچھا موقعہ نہیں ملے گا ۔مشتاق کے جاتے ہی اس کے نفسیاتی زیرو بم میں عجیب سا سرور چھا گیا اور اس نے اپنے آشنا سے ملنے کا پروگرام طے کیا جو دوسرے دن مقررہ وقت پر گاڑی لے کر اس کے گھر کے نزدیک پہنچ گیا اور وہ فرط نشاط و انبساط میں جھومتے ہوئے اپنی منزل کی روانہ ہوئے ۔ راحیلہ کو بنانے والے نے بے پناہ حسن وجمال سے نوازا تھا ۔۔۔۔۔۔سنہرے ریشمی بال ۔۔۔۔۔۔ چہرے پر شبنم کی سی تازگی۔۔۔۔۔۔ پتلے پتلے ہونٹ ۔۔۔۔۔۔ گالوں پر کھلی شفق ۔۔۔۔۔۔ آنکھوں میں کنول کے پھول  تیرتے تھے،لیکن آج اس نے اپنے آپ کو اتنا سجایا سنوارا تھا کہ وہ کسی قیامت سے کم نہیں لگ رہی تھی اوراس کے عاشق نے جب اس کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔
’’یہ آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں‘‘؟   
کچھ وقت تک میٹھی میٹھی باتوں میں کھوئی رہنے کے بعد راحیلہ نے پوچھ لیا کیوںکہ اُسے محسوس ہوا کہ گاڑی کسی انجان راستے پر دوڑ رہی ہے ۔
’’تم گھبراتی کیوں ہو میری جان ۔۔۔۔۔۔ پاس میں ہی ایک ریسٹورنٹ ہے وہیں کچھ دیر بیٹھ کر کافی پئینگے‘‘۔
اس نے ہونٹوں پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا اور اپنی گفتگو سے راحیلہ کے ذہن کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کرتا ر ہا، جبکہ راحیلہ باہر جھانکتے ہوئے راستے کو پہچا ننے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’ دیکھئے میں زیادہ دیر گھر سے باہر نہیں رہ سکتی مجھے زیادہ دور نہ لے جائیے پلیز‘‘۔
راحیلہ ،جو پہلی بار کسی اجنبی کے ساتھ باہر جا رہی تھی ،نے گھبراہٹ اور تذبذب کے عالم میں پریشان لہجے میں کہا۔
’’بس میری جان ۔۔۔۔۔ اب ہم اپنی منزل پر پہنچنے والے ہیں ‘‘۔
اس نے ناک سکیڑ کر،ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مغرور انداز میں مختصر سا جواب دیااور بھوکی نظروں سے راحیلہ کو گھورنے لگا۔اس کے اطوار دیکھ کر راحیلہ اس کے ارادوں کو بھانپ گئی اور اسے اپنی غلطی کا شدید احساس نے لگا ،لیکن اب وہ پھندے میں پھنس چکی تھی اور دل ہی دل میں اوپر وا لے سے فریاد کرنے کے سوا کچھ کر نہیں سکتی تھی۔کچھ منٹوں بعد ہی ایک تنہا جگہ پر گاڑی ایک باغیچے میں داخل ہو کر رک گئی ،جہاں ایک پرانی سی بڑی عمارت بھی تھی۔
’’یہ آپ مجھے کہاں لے آئے؟‘‘
’’جانِ من یہاں تھوڑا وقت گزارینگے ‘‘۔
’’اس نے عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘‘۔
’’میں ا س ویران عمارت میں ہر گز نہیں جائونگی ،مجھے واپس لے جائیے‘‘۔
اس نے شدید احتجاج کر تے ہوئے کہا جس کا اس کے آشنا پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔اسی لمحے وہاں پہلے سے ہی موجود کسی دوسرے آدمی نے گاڑی کی کھڑکی کھولی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی نمودار ہوااور وہ اس کو گھسیٹ کر زبر دستی اندر لے گئے اور کمرے میں بند کردیا ۔جس دوران وہ بہت چیخی چلائی لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔تھوڑی دیر بعد اس کا یار شراب کی بوتل ہاتھ میں لئے کمرے میں داخل ہوا۔ 
’’خدا کے لئے مجھے جانے دو مجھ پر رحم کھائو ۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔
راحیلہ، ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے ،محبت کا واسطہ دے کر، منتیںکرنے لگیں۔
’’چلائو خوب چلائو ۔۔۔۔۔۔ یہاں تمہارا یہ ڈرامہ سننے والا کوئی نہیں ہے ‘‘۔ 
اس نے اس پر چلاتے ہوئے اس کے مُنہ پر ایسا زناٹے دار چانٹا رسید کیاکہ اس کا سر گھومنے لگا اور وہ سخت خوف وہراس میں مبتلا ہو کر تھوڑی دیر کے لئے بے ہوش ہوگئی۔ 
’’بے چاری چڑیا اندر پھڑ پھڑارہی ہے ۔۔۔۔ کیوں نہ اس کے پر کاٹ لئے جائیں‘‘۔
’’ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ پھڑ پھڑا کرجائے گی کہاں۔۔۔۔۔۔ پہلے جی بھر کے پی تو لینے دو،پھر جو مرضی میں آئے کرلینگے‘‘۔
جلد ہی ان لوگوں کی گفتگو اور قہقہے ، جودوسرے کمرے میں بیٹھتے تھے، اس کی سماعت سے ٹکرائے ،ان کی آوازیں لڑکھڑا رہیں تھیں۔ 
 اب وہ دل ہی دل میں موت کی تمنا کرنے لگی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوں گر کر ایسے ٹوٹنے لگے جیسے شبنم کے قطرے چوٹ کھا کھا کر ٹوٹ جاتے ہیں ۔پھر اچانک اس کا دھیان کمرے کی کھڑکی کی طرف گیا جو کھلی تھی ،وہ دھیرے سے اٹھی اور کھڑکی سے چھلانگ لگانے کی غرض سے کھڑکی کے پاس پہنچی ۔ چند لمحے سوچنے کے بعداس نے سر سے اپنا دو پٹہ اٹھا کر اونچی کھڑکی سے باندھا اور دیوار کے ساتھ پیر لٹکاکر لٹکتے لٹکتے اسی کے سہارے چھہ سات فٹ نیچے اتر کر چھلانگ لگائی۔ اس دوران اسے کچھ چھوٹے چھوٹے زخم آئے لیکن زیادہ مضروب نہیں ہوئی۔ اب اس نے آئو دیکھا نہ تائواور دونوں مٹھیاں بند کرکے خوفزدہ ہرنی کی طرح بھاگنے لگی ،وہ کسی طرح سے اس سنسان جگہ سے نکلنا چاہتی تھی۔باغیچے کادروازہ بند ہونے کی آواز سن کر وہ تینوں چونک پڑے اور اسے کمرے میں نہ پاکر اس کے پیچھے دوڑنے لگے، لیکن لڑکھڑاتے ہوئے جب تک وہ گاڑی تک پہنچے اور دروازہ کھول کرگاڑی نکالی تب تک راحیلہ بے تحاشا دوڑتے ہوئے کچھ دور ایک چھوٹے سے بازار میں پہنچی تھی اور ایک جگہ چھپ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور واپس گھر کیسے پہنچے گی۔ لیکن اُسے کچھ اندازہ نہیں ہوا ،وہ ایک  بزرگ ٹھیلے والے کے پاس گئی اور شرماتے ہوئے اُسے اپنے شہر کا پتہ بتا کر رہنمائی کی درخواست کی ۔  
’’بیٹی ۔۔۔۔۔ شہر تو یہاں سے تیس پنتیس میل دور ہے ،آپ کو ٹیکسی لینی پڑے گی‘‘۔
’’ٹیکسی۔۔۔۔۔؟‘‘
وہ سخت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہوگئی کیوںکہ ننگے سر اور ننگے پائوں ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا پرس بھی وہیں چھوڑ کر آئی تھی۔
’’بابا ۔۔۔۔۔‘‘۔
اس کی آنکھوں سے آنسئوںکی دھار نکل پڑی اور روتے ہوئے اس نے ٹھیلے والے سے اس واعدے کے ساتھ کچھ رقم ادھار مانگی کہ کل آکر وہ چکائے گی۔نیک دل بزرگ نے نہ صرف رقم اس کے حوالے کی بلکہ پہننے کے لئے ایک چپل بھی لا کر دے دیا اور وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کے لئے روانہ ہوگئی۔
شہر پہنچ کر وہ نہ جانے کیا سوچ کر گھر سے کچھ دوری پر ہی ٹیکسی سے اتری اور چھپتے چھپاتے گھر کی طرف جانے لگی لیکن ابھی وہ چند قدم ہی چلی تھی کہ اس کے سامنے ایک گاڑی رکی اور شراب کے نشے میںدھت ان غنڈوں نے اسے گھیر کر زور زبر دستی کرنی شروع کردی، جس کی اس نے سخت مزاحمت کی۔ اس دوران وہاں کئی لوگ جمع ہوگئے جن کی وجہ سے غنڈے گاڑی میں بیٹھ کر رفو چکر ہوگئے۔ راحیلہ ان غنڈوں کے چنگل سے آزاد ہوکر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے گھر کی طرف چلی گئی لیکن گھر کے صدر دروازے پرہی اس کا سامنا مشتاق،جو اسی وقت لوٹا تھا اور گاڑی سے سامان اتار رہا تھا، سے ہوگیا۔ پہلی بار راحیلہ کو ننگے سر اور کپڑوں کی خراب حالت دیکھ کر اگر چہ مشتاق حیرت زدہ ہوگیا لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔ اپنے آپ کو اس حال میں مشتاق کے سامنے دیکھ کر راحیلہ کے بدن میں کانٹے سے چھنبے لگے،وہ سخت تنائو میں مبتلا ہوکر حواس باختگی کے عالم میں گھر کے اندر داخل ہوگئی ۔ کچھ منٹوں بعد مشتاق بھی اندر داخل ہوا اور راحیلہ کو پھندے میں لٹکا ہوا دیکھ کر ششدرہ گیا۔ لیکن اس نے کمال ہوشیاری سے و قت ضایع کئے بغیر اسے پھندے سے اتار کر نیم مردہ حالت میں اسپتال پہنچادیا۔
’’ مشتاق ۔۔۔۔۔۔ اب آپ جو سزاچاہو مجھے دے سکتے ہو،میں بھگتنے کے لئے تیار ہوںلیکن ایک بار مجھے بچوں سے ملائو‘‘۔    
’’ اپنے سینے میں دفن گناہوں کی پوٹلی کھولنے کے بعدراحیلہ نادم ہو کر زار وقطار رونے لگی۔۔۔‘‘۔ 
’’اب آپ کی حالت قدرے بہتر ہے اور آپ گھر جا سکتے ہیں ‘‘۔
’’ڈاکٹر بیچ میں آکر اس معائینہ کرنے کے بعد بولا‘‘۔ 
’’ سزا تو تمہیں ضرور ملے گی ، سنو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
مشتاق نے اس کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ شرما کے مسکرائی۔مشتاق اسے سہارا دے کر باہرتک لے آیا اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف چل پڑے۔   
 
���
رابطہ: اجس بانڈی پورہ
فون نمبر؛9906526432،ای میل:tariqs709@gmail.com