تازہ ترین

مزید خبریں

10 اگست 2018 (28 : 01 AM)   
(      )

طالب حسین کی حراستی مارپیٹ معاملہ 

سماجی کارکن کو فرضی کیس میں پھنساناکٹھوعہ معاملہ کودبانے کی سازش:گوجر بکروال کانفرنس

سید اعجاز 
سرینگر//جموں کشمیر گوجر بکروال کانفرنس نے طالب حسین کوفرضی کیس میں پھنسانے اورپولیس حراست میں مارپیٹ کرنے پر سخت مزمت کرتے ہوئے کٹھوعہ کیس کو دبانے کی کوشش کاخدشہ ظاہر کیا ہے۔انہوں نے واقعے کے حوالے ڈی جی پی اور گورنر انتظامیہ سے ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ جموں کشمیر گوجر بکروال کانفرنس نے کٹھوعہ کیس کے اہم گواہ اور سماجی کار کن طالب حسین کو فرضی کیس میں گرفتار کرنے اور پولیس حراست میں مارپیٹ کے بعد اسی کے خلاف اقدام خودکشی کامقدمہ درج کرنے کے واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوے کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کو دبانے کا خدشہ ظہار کیا ہے کانفرنس کے جنرل سیکرٹری محمد یاسین پسول نے جمعرات کو نمائندے کو بتایا یہ سارا مسئلہ ایک ڈرامہ ہے اور اصل میں یہ کٹھوعہ کیس کو دبانے کی ایک سازشرچائی گئی ہے جس کو کسی بھی قمیت پر طبقہ کامیاب نہیں ہونے دے گا۔انہوں نے کہا جو شخص تھانے میں بند ہے اور اسی کو مارا پیٹا گیا ہے اور اسی کے خلاف خود کشی کا معاملہ درج کیا جاتا ہے یہ انتہائی شرمناک کام ہے یاسین پسوال نے اس حوالے سے گور نر انتظامیہ ریاست کے ڈرایکٹر جنرل آف پولیس سے ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی اس کیس دبانے کے لے طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے ہیں ،جن کو ناکام بنا دیا گیا ہے ۔گوجر بکروال طبقے نے نے دہمکی دی اگر طالب حسین پر لگائے گئے الزامات کوفوری طور کیس سمیت واپس نہیں لیا گیا تو تمام گوجر بکروال طبقہ سڑکوں نکلنے کے لئے مجبور ہو گا جس کی تمام ذمہ داریاں حکومت پر عائد ہوںگے۔واضح رہے طالب حسین کی گرفتاری اور مارپیٹ کے حوالے سے پہلے بھی عدالت عالیہ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے ۔جس پر گزشتہ روز عدالت نے ریاستی حکومت سے جواب طلبی کر کے کیس کی شنوائی کے لئے دوبارہ 21اگست کا تاریخ مقرر کیا ہے ۔
 

طالب حسین کی ہراسانی پر تاریگامی کو تشویش 

جموں// سی پی آئی ایم کے جنرل سیکریٹری و ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے گوجر لیڈر طالب حسین کو ذہنی طورپر حراساں کرنے تشویش کااظہارکیا ہے ۔ تاریگامی نے دکھ کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ طالب حسین کو پولیس کی طرف سے ذہنی اذیتیں دی جارہی ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔ انہوںنے سرکار سے مطالبہ  کیا کہ طالب حسین کے جان ومال کی تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے فوری طورپر کارگر اقدامات اٹھانے کوکہاہے ۔ تاریگامی نے کہاہے کہ طالب 8سالہ غریب پریوار خانہ بدوش گوجرطبقہ کی بچی کے ساتھ ہوئی غیرانسانی اخلاق اورعصمت دری کی نازیبہ حرکات کے خلاف قانونی جنگ لڑرہے تھے اورانصاف کے بدلے کارکنان کو ذہنی طورپرتنگ وطلب کیاجارہاہے جوکہ باعث تشویش ہے۔ادھر ذرائع نے خبر دی ہے کہ طالب حسین کے لواحقین نے سپر یم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے کہ خانہ بدوش اورپسماندہ لوگوں کی بھلائی کیلئے قانونی جنگ لڑنے والے طالب حسین کو پولیس حراست میں ذہنی طورپر اذیتیں دی جارہی ہے جس کے چلتے طالب حسین کے لئے جان کاخطرہ لاحق پیداہوا ہے۔ تاریگامی نے مزید کہاہے کہ سچائی کی جنگ لڑنے والا عام طورپربری طرح سے متاثرہوتاہے کیونکہ غیرانسانی اخلاق والے عناصر کسی نہ کسی طریقہ کار عمل اپنا کر8سالہ غریب پریوار کی بچی کے معاملے میں ملوث جلد سے جلد قانونی چکر وںسے رفو چکرہوناچاہتے ہیں۔
 
 

زرعی ڈائریکٹر نے کسانوں سے متعلق بہبودی سکیموں کاجائزہ لیا

ادھمپور// زرعی ڈائریکٹر جموں ہری کرشن رزادان نے کئی افسران کے ہمراہ ضلع اودھمپور کے قصبہ مجالٹہ کااچانک دورہ کیا جہاںپر انہوںنے کسانوں کی بہبودی سے متعلق چلائے جارہے سکیموں کی عمل آوری کاجائزہ لیا ۔اس موقع پر انہوں نے ملازمین کی وقت کی پابندی کا معائنہ کیا۔ زونل ایگریکلچر دفتر مجالٹہ میں افسران کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر موصوف نے زوردیتے ہوئے کہا کہ دالوں کی پیداواری فصلوںمیں اضافہ ہونے کے مقصد سے اہم کن فروغ شدہ پروگر اموں کوعملایا جارہاہے تاکہ دالوں کی بدولت مناسب کاروبار کوبڑھاوا ملے سکے۔ انہوںنے اس ضمن میںکسانوں میںبیداری  پیداکرنے کی بھی ضرورتوں پربھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے علامتوں کے عملانے سے بڑھتی بے روزگاری پر بھی قابو پایاجاسکے۔ ڈائریکٹر ہری کرشن رازدان نے کسانوں میںاعتمادی فروغ پیدا کرنے کے لحاظ سے افسران پرزوردیاہے کہ وہ ایسا لائحہ عمل مرتب کرے جس سے کسانوںمیں کھیتی کی طرف رغبت کی رجحان کو بڑھاوا ملے۔ انہوںنے ماش ٌمونگ ذسویابین اوردیگر دالوں کی پیداواری بہتات میںاضافہ کرنے  کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے جامع منصوبہ بندی پروگرام اپنانے کیلئے افسران کوٹھوس اقدامات کرنے کوکہاہے تاکہ جموںخطہ بھی دالوں کی پیداواری لحاظ سے شمارکیاجاسکے۔ اس دوران کئی کسانوں کے بات چیت کرتے ہوئے ہری کرش رازدا ن نے مشروم کھیتی کے علاوہ دیگرسبزیوں کی پیداوار کیلئے  معیار والے  بیج کا استعمال کر نے پرزوردیا ہے تاکہ بڑھتے ضرورتوں کابا آسانی سے مقابلہ کیاجاسکے ساتھ میںکسانوں کی معیشت میںبھی اضافہ ممکن ہوسکے۔ میٹنگ کے دوران افسران میں آرایل بھگت‘ جوائنٹ ڈائریکٹر ایکسٹیشن جموں جگموہن بھٹ‘ ضلع آفیسر اشوک ورما‘  کے علاوہ شری اجے کمار شرما ‘راکیش کھجوریہ‘ درشن شرما اوراے ای او مجالٹہ اورجے ای او زون مجالٹہ نے شمولیت کی۔
 

’  قومی یکجہتی کونسل کی تشکیلِ نو کی جائے‘

بھیم سنگھ کا صدرجمہوریہ ہند کے نام مکتوب 

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسربھیم سنگھ نے ، جو نیشنل لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزیکیوٹیو چیرمین بھی ہیں، ایک خط میں ہندستان کے صدر رامناتھ کووند سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی پراس بات کے لئے زور دیں کہ وزیراعظم قومی یکجہتی کونسل کو نئے سرے سے قائم کریں جو موجودہ وزیراعظم اب تک بنا نہیں سکے ہیں۔نیشنل پنتھرس پارٹی کے سپریمو نے صدر ہند سے اپیل کی ہے کہ اس ملک میں قومی یکجہتی کونسل کا وجود میں آنا بہت ضروری ہے جس کی شروعات 1963میں اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نے کی تھی۔پنتھرس پارٹی نے پارلیمنٹ کے تمام ممبران سے بھی اپیل کی ہے کہ و ہ قومی یکجہتی کونسل کو نئے سرے بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اس کی حمایت کرنے کے لئے تیا ر کریں تاکہ ملک میں ایک خودمختار ادارہ قائم ہوسکے جس میں پورے ملک کی سیاسی اور سماجی انجمنیں شامل ہوں اور پورے ملک کی ترقی ، خوشحالی، اتحاد اور بھائی چارہ کو فرو غ دینے کا اپنا فرض انجام دے سکیں ۔پنتھرس پارٹی کے سپریمو پروفیسر بھیم سنگھ نے ملک کی تمام تسلیم شدہ سیاسی انجمنوں اور معروف دانشوروں کو اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ21ویں صدی میں ہندستان کا ایک بہت ہی اہم رول ہوگا تاکہ دنیا میں امن ، اتحاد، بین الاقوامی بھاری چارہ کو فروغ مل سکے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے اندر آج صرف جنگ کا ماحول بن رہا ہے اور انسانی ، بین الاقوامی  بھائی چار ہ نظراندازکیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کے سیاسی ، اقتصادی  اور سماجی حالات کو صرف ہندستان کی قیادت ہی قائم رکھ سکتی ہے۔ہندستان نے ہزاروں برسوں سے پوری دنیا کو امن ، اتحاد اور بھائی چارہ کا پیغام دیا ہے اور یہ کردار ہندستان کو 21ویں صدی میں پھر سے ادا کرنا ہوگا۔امریکہ کی موجودہ قیادت یوروپ اور چین کے ساتھ جو سلوک کررہی ہے اس پر ہندستان کے مفکرین، سیاسی اور سماجی کارکنوں کو غور کرنے نہایت ضرورت ہے اور یہ کردار آج ہندستان کے دانشور اور مفکرین ہی مل کر ادا کرسکتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا جاسکے۔پروفیسر بھیم سنگھ  1967سے 1973تک ہندستان سے ایک موٹرسائکل پر بین الاقوام امن کا پیغام لیکر پوری دنیا کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان کے پانچ برسوں کے عالمی امن مشن کے بعد ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں لوگ امن چاہتے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ سے رہنا چاہتے ہیں۔ جنگ اور بندوق سے دنیا کا ہر آدمی مایوس ہے۔اس لئے انہوں نے ہندستان کی نوجوان نسل سے اپیل کی ہے کہ وہ دنیا میں امن، بھائی چارہ  اور خوشحالی کا پیغام لیکر آگے بڑھیں۔
 
 
 

امجدبٹ نسوئی کے نیشنل میڈیاکوآرڈی نیٹرنامزد

جموں//نیشنل سٹوڈنٹس یونین نے تنظیم کے ریاستی نائب صدر امجدبٹ کو این ایس یوآئی کاسٹیٹ پروبیشنری (نیشنل) میڈیاکوآرڈی نیٹرنامزدکیاہے۔یہ نامزدگی امجدبٹ کی شاندارکارکردگی کودیکھتے ہوئے عمل میں لائی گئی ۔ذرائع کے مطابق نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیاکے قومی صدرفیروزخان نے آل انڈیا  کانگریس کمیٹی کے صدرراہل گاندھی کی منظوری کے بعدعمل میں لائی۔امجدبٹ کاتعلق ضلع ڈوڈہ کے دوردرازعلاقہ بھلیسہ سے ہے اوران کے کنبہ کاکوئی سیاسی ماضی نہیں ہے ۔اس نے اپناسیاسی کیرئیر بطورطالب علم کارکن شروع کیا۔ابتدامیں امجدبٹ نے گورنمنٹ ایم اے ایم کالج میں این صدرکے عہدے پرالیکشن لڑا اوروہ کالج کے پہلے این ایس یوآئی کے منتخبہ صدربنے۔2014 میں این ایس یوآئی کے اندرونی انتخابات میں پھرسے حصہ لیااورریاستی نائب صدرچنے گئے۔امجدبٹ نے بیچلرآف آرٹس (بی اے ) ،ایم اے ایم کالج سے کی اورپھرماسٹرانگلش لٹریچرمیں شعبہ انگریزی جموں یونیورسٹی سے مکمل کی۔فی الوقت امجدبٹ پولٹیکل سائنس مضمون میں پوسٹ گریجویشن کررہے ہیں۔انہوں نے راہل گاندھی اوراین ایس یوآئی قیادت ،بالخصوص قومی صدراین ایس یوآئی فیروزخان کااسے تنظیم کامیڈیاکوآرڈی نیٹربنانے کیلئے شکریہ اداکیا۔
 
 

 فوجی اہلکار کی برخاستگی کالعدم قرار

آرمڈ فورسز ٹریبونل نے ملازمت وپنشن فوائد بحالی کا حکم دیا

جموں//آرمڈ فورسز ٹریبونل جموں نے ایک اہم فیصلہ میں چھٹی ڈوگرہ رجمنٹ کے ایک اہلکار کو ملازمت سے نکال دینے والے حکم نامہ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ٹریبونل نے مرکزی وزارت دفاع حکومت ہند ،چیف آر آرمی سٹاف اورکمانڈننگ افسر6ڈوگرہ رجمنٹ C/o 56 APOکوحکم صادر کیا ہے کہ مکیش کمار ولد لیکھ راج ساکنہ برج نگر ، میراں صاحب ، ضلع جموںEx-Sepoy, Army No.3991671Nکی ملازمت بحال کر کے اس کو 31اگست 2007سے پنشن اور دیگر تمام پنشنری فائیدے دیئے جائیں ۔یہ احکامات جسٹس محمد طاہر( ممبر جوڈیشل)  اور وائس ایڈمائرل اے جی تھلیال (ممبر آرمڈ)پر مشتمل دو رکنی آرمڈ فورسز ٹریبونل جموں نے مکیش کمار بنام یونین آف انڈیا ایس ڈبلیو پی نمبر2413/2012اور TA 150/2017میں در ج مقدمہ میں صادر کئے۔مدعی مکیش کمار نے دائر عرضی میں کہاتھاکہ وہ 13اگست1992کو بھرتی ہوا اور آرمی رول13(3)آئٹم III(v)آف دی آرمی رولز 1954کے تحت 8اپریل2004کو اس کو ڈسچارج کر دیاگیا۔ فوج میں دوران سروس اس کی متعدد غلطیاں اور جرائم کا ارتکاب کرنے پر سروس ریکارڈ میں’چار ریڈ انٹریاں‘تھیں، جس کے لئے اس کو سیکشن39(a)کے تحت بلااجازت غیر حاضر رہے، سیکشن39(b)زیادہ چھٹی کاٹنے اور سیکشن63کے تحت ملٹری نظم وضبط کی شکنی کرنے پرسزابھی دی گئی۔مدعی کی طرف سے کیس کی پیروی ایڈوکیٹ احسان مرزا اور ایڈووکیٹ الطاف حسین جنجوعہ نے کی۔ انہوں نے ٹریبونل کو بتایاکہ مدعی مکیش کمار کے سروس ریکارڈ میں چار انٹری ہوئیاں، جس کے لئے آرمی ہیڈکوارٹرز لیٹربتاریخ28دسمبر1988 جس کی عدالت عظمیٰ نے توثیق بھی کی ہے، کے مطابق وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنا ہوتا ہے، نوٹس جاری کرنے کے بعد جوابی عذارت کی بنا پر باضابطہ انکوائری کروانا ہوتی ہے لیکن مکیش کمار کے معاملہ میں نوٹس جاری ہوا ، اس کا مکیش نے معقول جواب دیا لیکن کوئی بھی انکوائری نہ کی گئی ۔ وکلاء نے مزید بتایاکہ مکیش کمار نے دوران ملازمت غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں صرف ناقابل نظر انداز حالات کی وجہ سے سروس سے غیر حاضر رہا، اس بناپر اس کو ڈسچارج کردینا درست نہیں۔ احسان مرزا اور الطاف حسین جنجوعہ نے ٹریبونل کو بتایاکہ فوج نے مکیش کمار کو ملازمت سے برخاست کرتے وقت عدالت عظمیٰ نے وریندر کمار دوبے بنام چیف آف آرمی سٹاف 2016(2) SCC 627فیصلہ میں صادر احکامات بھی خلاف ورزی کی ہے۔وکلاء کی دلائل سننے کے بعد دو رکنی ٹریبونل نے آرمی کو ملازمت سے نکالنے کے حکم نامہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مرکزی وزارت دفاع حکومت ِ ہند، چیف آف آرمی سٹاف ہیڈکوارٹر نئی دہلی اورکمانڈننگ افسر6ڈوگرہ رجمنٹ C/o 56 APOکوحکم صادر کیاکہ مدعی کو دوبارہ ملازمت میں شامل کیاجائے اور اس کو 31اگست2007جس  دن اس کو سبکدوش ہوناتھا، سے پنشن /پنشنری فوائید ودیگر مراعات دی جائیں۔
 
 

ڈپٹی کمشنر سانبہ نے یوم آزادی کی تقریبات کے انتظامات کاجائزہ لیا

 سانبہ// ضلع ترقیاتی کمشنر سشما چوہان نے یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ہورہی تیاریوں کاجائزہ لیا۔اے ڈی ڈی سی ‘پنکج مگوترہ‘ اے ڈی سی ٹی آر شاستری‘پی او آئی سی ڈی ایس جیوتی سلاتھیہ ٌ  کے علاوہ پی او آئی ڈبلیو ایم پی ڈاکٹرسونیل شرما اور اے سی آر وسیم راجا‘ اے ایس پی آدل راجہ اوردیگرسرکردہ  افسران بھی ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ تھے۔اس موقع پرضلع ترقیاتی کمشنر نے حفاظتی انتظامات و  یقینی بنانے کی غرض سے تمام افسران سے ٹھوس اقدامات کرنے  کی ہدایت دی  ۔نظام ٹریفک انتظامیہ سے بھی کہاہے کہ وہ گاڑیوںکی رکھ ر کھاؤ کیلئے پارکنگ مقامات کی بھی شناخت کرے ۔علاوہ ازیں انہوںنے متعلقہ حکام کو علاقہ ہذا کو جازب نظربنانے کیلئے بھی خاطرخواہ اقدامات کرنے پربھی زوردیاہے جہاںپر قومی پرچم عزت وآبرو سے لہرایا جائے گا۔
 

کوٹ بھلوال جیل میں یوگا کیمپ کا انعقاد

 جموں// کوٹ بھلوال جیل میںصاف وشفاف ماحول سے متعلق بیداری لانے کی غرض سے سوچھ ابھیان مہم کی کے تحت ایک خصوصی یوگا کیمپ کاانعقاد کیا جس میں کم از کم170قیدیوں کے علاوہ جیل کے عملہ  اور سی آرپی ایف کے اہلکار وںنے بھاری تعداد میں یوگا پروگرام میںبڑھ چڑھ کرشمولیت کی۔ اس موقع پر یوگا آسن‘ پرنایام  اوردیگرذہنی آرام دہ تکینکوں کوعملاایاگیا اورشرکاء میں کئی تکینک سکھائے گئے۔قابل ذکرہے کہ ڈی جی پی پرزن جموںوکشمیر نے آرٹ آف لیونگ کے تعاون سے پروگرام کاانعقاد کیا۔آئی پی ایس دلیپ سنگھ اور آرٹ آف لیونگ ٹیچر روپالی دونا‘سپرنٹنڈنٹ جیل ہریش کوتوال اورچمیل سنگھ نے جیل کے سٹاف اورسی آرپی ایف کے اہلکارورں کے مظہرکئے گئے جذبات کی تعریف کی اورسپرنٹنڈنٹ جیل نے آرٹ آف لیونگ کے تعاو ن کی فراہمی کولیکر تشکر کااظہار کیا۔اس موقع پرمیوہ جات کے علاوہ پھولوں اورجڑی بوٹیوں کے علاوہ عام لگائے جانے والے پودوںکی شجرکاری کرکے سبز انقلاب لانے کا بھی عادہ کیا۔