تازہ ترین

عمران کا خواب

نیا پاکستان بعیداز امکان؟

11 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
پاکستان کے حالیہ انتخابات کے نتائج گر چہ عمران خان کے حق میں رہے لیکن اُن کی جیت کو ہمہ گیر نہیں کہا جا سکتا۔نیشنل اسمبلی میں اُن کی پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کے اُبھری البتہ ایک سادہ اکثریت کے حصول سے محروم رہی۔ چناںچہ حکومت سازی کیلئے اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو دوسری احزاب کی حمایت کی ضرورت پڑی۔ ظاہر ہے یہ حمایت شرائط کے بغیر حاصل نہیں ہوتی لہذا بحثیت وزیر اعظم عمران خان کو اپنے تعین کردہ پرگرام پہ عمل پذیر ہونے میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی صورت حال میں جہاں عمران خان کی تحریک انصاف ایک سادہ اکثریت سے محروم اور دوسرے احزاب کی حمایت کی متلاشی ہے وہاں عمران خان کا خواب یعنی ایک نئے پاکستان کا حصول شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے؟ ثانیاََ اگر پی ٹی آئی کو نیشنل اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو بھی جاتی اور وہ اپنے بل بوتے پہ فیڈرل حکومت تشکیل دے بھی دیتے تو پاکستان کی پریشاں کن مالی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اُنکا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے امکانات کیا ہو سکتے ہیں؟ثانیاًََ عالمی چودھری امریکہ کا خصومت آمیز رویہ کس حد تک عمران کے خوابوں کے پاکستان کی تکمیل کے آڑے آ سکتا ہے؟اِن سب سوالات کا جواب پرکھنے سے پہلے ہم پاکستان کی نئی نیشنل اسمبلی کے خد و خال کا جائزہ لیں گے چونکہ اسمبلی میں ایک سادہ اکثریت کا حصول عمران کی اولین مشکل ہے۔ 
نیشنل اسمبلی کی 272انتخابی نشستوں میں پی ٹی آئی کو 116 نشستیں حاصل ہو چکی ہیں جبکہ مسلم لیگ نواز کو 64اور پاکستان پیوپلز پارٹی (پی پی پی) کو 43نشستیں ملی ہیں ۔ مسلم لیگ نواز کی64اور پی پی پی کی 43نشستوں کو اُنکے اتحادی متحدہ مجلس عمل کی 13نشستوں کے ساتھ ملایا جائے تو یہ مجموعاََ 120نشستیں بنتی ہیں یعنی اتحادیوں کی نشستوں کو پی ٹی آئی کی نشستوں پہ 4  سیٹیوں کی برتری حاصل ہے۔اِس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے رہبر مولانا فضل الرحمان نے یہ تجویز پیش کی کہ پی پی پی کے آصف علی زرداری کو وزیر اعظم اور مسلم لیگ نوازکے شہباز شریف کو نائب وزیر اعظم نامزد کر کے حکومت سازی کیلئے کوشش کی جائے۔مولانافضل الرحمان چونکہ اپنی مخصوص نشست پہ الیکشن ہار گئے ہیں لہذا خاصے غصے میں نظر آتے ہیں۔ پہلے تو وہ نئے منتخب شدہ ممبراں کے حلف اٹھانے کے خلاف تھے چونکہ اُنکی نظر میں بلکہ ساری اپوزیشن کی نظر میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے البتہ ن لیگ اور پی پی پی حلف لینے کے حق میں رہے۔اپوزیشن کا یہ کہنا ہے کہ حلف لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ الیکشن کو صاف و شفاف مان گئے ہیں بلکہ اُن کے تحفظات باقی ہیں اور وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھیں گے۔متحدہ اپوزیشن  حلف لینے کے بعد وزیر اعظم،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے اپنا نمائندہ نامزد کرے گی۔ وزیر اعظم کیلئے ن لیگ کا امیدوار نامزد ہو گا ،سپیکر کیلئے پی پی پی کا اور ڈپٹی سپیکرکیلئے متحدہ مجلس عمل کا امیدوار نامزد کرنے کی تجویز ہے۔
اپوزیشن کے گٹھ جوڑ کے مد مقابل پی ٹی آئی بھی نمبر گیم میں پیچھے نہیں رہی بلکہ پی ٹی آئی کے صف اول کے رہبراں نے جن میں جہانگیر ترین پیش پیش رہے حکومت سازی کیلئے نمبر گیم میں اپوزیشن کو بہت پیچھے چھوڑا۔ پی ٹی آئی کا حدف چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت کا حصول رہا۔ آزاد امیدواروں کو لیا جائے تو قومی اسمبلی میں اُنکی مجموعی تعداد 13ہے جن میںآخری اطلاعات کے مطابق  9ممبراں پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔چھوٹی جماعتوں میں مہاجر قومی موؤمنٹ (ایم کیو ایم) نے اپنے چھ ممبراں کے ساتھ فیڈرل گورنمنٹ کی تشکیل میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہاجر قومی موؤمنٹ کی حمایت سخت شرائط کے ساتھ آئی ہے جس میں سندھ کے شہری علاقوں کراچی اور حیدر آباد کیلئے سپیشل پیکیج شامل ہے۔مہاجر قومی موؤمنٹ کا یہ ماننا ہے کہ کراچی کا منڈیٹ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو حاصل ہوا ہے جس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ اُنہوں نے تفاوت کے بجائے مفاہمت کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم کو تفاہم کے باوجود انتخابات کے بارے میں تحفظات ہیں جن کو پی ٹی آئی نے یہ کہہ کے ایڈرس کیا ہوا ہے کہ جہاں بھی شکایات ہوں وہاں اُنہیں دور کرنے کے سلسلے میں پی ٹی آئی اڑے نہیں آئے گی بلکہ یہ یقین دہانی عمران خان کی تقریر میں بھی شامل تھی جو اُنہوں نے انتخابات میں جیت کے بعد قوم سے خطاب میں کی۔پنجاب میں مسلم لیگ (ق) جو کہ گجرات کے چودھری برادراں کی جماعت ہے کی 4سیٹوں کی حمایت بھی پی ٹی آئی کو حاصل ہو چکی ہے۔ اِس کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کی 4، سندھ میں گرینڈ ڈیموکرٹیک الائنس (GDA) کی 2، جمہوری وطن پارٹی کی ایک اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ میں اُن کی اپنی ایک سیٹ کو ملا کر مجمو عی طور دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت سے زیادہ سیٹیں حاصل ہیں او ر حکومت تشکیل دینے میں بظاہر کوئی مشکل نظر نہیں آتی لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ جوڑ توڑ کی اکثریت ہے کو قابل اعتبار نہیں مانا جا سکتاکیونکہ حامی جماعتوں کے مطالبات کو ماننا پڑتا ہے۔
نیشنل اسمبلی کے ایوان کی تشکیل میں ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔اسمبلی میں ابھی خواتین کی مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کی نشستوں کو بھی پُر کرنا ہے۔یہ نشستیں ایوان میں منتخب شدہ مختلف احزاب کے ممبراں کے تناسب سے پُر کی جائیں گی ۔ جہاں نیشنل اسمبلی میں 272 نشستوںکا انتخاب براہ راست ہوتا ہے وہی 70نشستیں خواتین اور مذہبی اقلیتوں کیلئے مخصوص ہوتی ہیں چناچہ نیشنل اسمبلی میں سیٹوں کی مجموعی تعداد 342ہے۔ظاہر ہے اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے سبب ممبراں کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کے بعد مخصوص نشستوں کی اچھی خاصی تعداد پی ٹی آئی کے حصے میں آئیں گی جس سے ایوان میں پوزیشن مزید مستحکم ہو گی اور اکثریت حاصل کرنے کیلئے پی ٹی آئی کو 342 کے ایوان میں مطلوبہ اکثریت یعنی 172 سیٹوں سے بھی زیادہ سیٹیں مل جائینگی ۔ فیڈرل حکومت تشکیل دینے کے علاوہ پی ٹی آئی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی حکومت بنانے کیلئے کوشاں ہے حالانکہ پنجاب میں ن لیگ سب سے بڑی پارٹی بن کے اُبھری ۔جہاں پی ٹی آئی کو صوبائی اسمبلی کی 295سیٹوں میں جن پہ انتخابات منعقدہوئے میں سے 123 سیٹیں حاصل ہوئیں وہی ن لیگ کو 129 سیٹیں ملیں لیکن پی ٹی آئی کو اپنے اتحادی ق لیگ کی حمایت حاصل ہے جن کے پاس  7سیٹیں ہیں اور ایک آزاد امیدوار بھی اِس جماعت میں شامل ہوا ہے جس سے اُنکی سیٹیں 8ہو گئیں ہیں۔پی ٹی آئی کو اب تک 28آزاد منتخب شدہ ممبراں میں سے 22کی حمایت حاصل ہو چکی ہے چناچہ پی ٹی آئی کو اپنے حامیوں سمیت 153نشستیں حاصل ہو چکی ہیں لہذا حکومت سازی میں اُسے ن لیگ پہ واضح فوقیت حاصل ہے۔سندھ میں پی پی پی کو 130منتخب شدہ ممبراں میں سے واضح اکثریت حاصل ہے اور یہاں حکومت سازی میں کوئی مشکل نہیں۔یہی حال خیبر پختونخواصوبے کا ہے جہاں پی ٹی آئی نے 99منتخب شدہ ممبراں میں سے دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔بلوچستان میں 51منتخب شدہ ممبراں میں سے بلوچستان عوامی پارٹی 13 ممبراں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے اور پی ٹی آئی اور آزاد ممبراں کی حمایت سے حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ پاکستان کے الیکشن گراف سے یہ عیاں ہے کہ پی ٹی آئی کو ہر صوبے میں مختلف تناسب لئے عوام کی نمائندگی کا حق ملا ہے چناچہ وہ صوبہ سندھ میں سب سے بڑی اپوزیشن کے رول میں اُبھر آئی ہے جہاں اُسے صوبائی اسمبلی میں 23سیٹیں حاصل ہو چکی ہیںحتّی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کو 4سیٹیں مل چکی ہیں اور اِس صوبے میں یہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ مل کر کولیشن سرکار بنا رہی ہے ۔ انتخابات ممکن ہے کہ کہیں کہیں کمی بیشی رہی ہو لیکن کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی ہوا عمران کے حق میں تھی حتّی کہ کراچی میں جو نیشنل اسمبلی کی 14 سیٹیں اپنے نام کر گئے وہ امید سے کہیں زیادہ تھیں اور یہ نتائج بیشتر مبصرین کی حیرت کا سبب بن گئے۔خارجی مبصرین کی رائے میں کچھ تکنیکی خامیوں کے بغیر انتخابات کو کم و بیش صاف و شفاف قرار دیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ 2013ء کے انتخابات سے 2018ء یعنی موجودہ انتخابات بہتر انداز میں منعقد کرائے گئے البتہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں انتخابات کو صاف و شفاف ماننے کیلئے تیار نہیں اور اُنہوں نے ایک باہمی ورکنگ گروپ بنایا ہے جس کا نام فری اینڈ فیئر الیکشن الائنس رکھا گیا ہے۔
فیڈرل سرکار تشکیل دینے کے بعد پی ٹی آئی کو گوناگوں مشکلات کا سامنا رہے گا۔پاکستان کی ابتر معاشی حالت پی ٹی آئی کی سب سے بڑی مشکل ہو گی۔پاکستان کو فوری طور پہ بین الاقوامی مالی ادارے آئے ایم ایف (IMF) سے 12بلین ڈالر کی امداد درکار ہے چونکہ پاکستان کے زر مبادلہ کی حالت کافی پتلی ہے اور صرف و صرف 9.8بلین ڈالر زر مبادلہ کی رقم موجود ہے جو پاکستان کے امپورٹ کو زیادہ سے زیادہ دو مہینے تک سہارا دے سکتا ہے۔اکسپورٹ کی سطح کافی نیچی جا رہی ہے جو باعث نگرانی ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا امپورٹ بل بڑھتا جا رہا ہے اور تیل کی قیمتوں آئندہ نزدیک میں کمی آ جائے اِس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی ابتر معاشی حالت کا اندازہ اِس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دو سال سے بھی کمتر عرصہ گذرا جب پاکستان نے آئے ایم ایف (IMF) سے 6.6بلین ڈالر کا قرضہ لیا جو بڑھتے ہوئے اخراجات کی نظر ہو گیا۔پاکستان اب کی بار جو  12بلین ڈالرکے قرضے کا متلاشی ہے وہ ایسی ہی 13ویںامدادی درخوست ہو گی جو آج تک پاکستان نے آئے ایم ایف (IMF)کو بھیجی ہے ۔اِس سے پاکستان کی ابتر اقتصادی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔پاکستان میں ٹیکس کی ادائیگی ایک سنگین مسلٔہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق 200ملین آبادی والے اِس ملک میں صرف و صرف 1فیصدی افراد اپنی سالانہ آمدن کا فارم بھرتے ہیں۔ایسا اسلئے ہو رہا ہے کہ پاکستانی اقتصاد بے اعتباری کا شکار ہو گیا ہے جہاں لوگوں کو یہ یقین دلوانا مشکل ہو رہا ہے کہ اُنکا ٹیکس میں دیا ہوا پیسہ صیح طور پہ مصرف میں لایا جا رہا ہے۔رشوت ستانی اور سرکاری خزانے کی ڈکیتی اور بیرونی ممالک میں پاکستانی سرمایے کا خروج ایسے مسائل ہیں جنہوں نے پاکستانی اقتصاد کو کوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔پاکستانی وزارت اقتصاد نے ابھی رسمی طور پہ آئے ایم ایف (IMF)سے قرضے کی درخواست نہیں دی ہے لیکن امریکی وزیر خارجہ پامپیو  نے ایک بیاں میں یہ دھمکی دی ہے کہ آئے ایم ایف (IMF)پاکستانی درخواست پہ کیا رویہ اپناتا ہے امریکہ اُس پہ نظر رکھے گا ۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ آئے ایم ایف (IMF)کے ڈالروں سے چینی قرضوں کی ادائیگی نہیں ہو سکتی۔پاکستانی حکام میں جن میں وزارت خزانہ اور نگران وزیر خارجہ عبداللہ ہارون شامل ہیں پامپیو کے بیاں کی نفی کی ہے اور آئے ایم ایف (IMF)کے امکانی قرضوں اور چین کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو الگ الگ زمروں میں شمار کیا ہوا ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی رابطے جو سی پیک (CPEC)کے زمرے میں آتے ہیں ٹرانسپورٹ کی سہولیت کیلئے سڑکوں کا جال بچھانے اور بجلی کی وسیع سپلائی سے منسوب ہیں جب کہ آئی ایم ایف (IMF)سے امکانی قرضے سے ادائیگی کے میزان میں توازن بر قرار رکھنا ہے۔ادائیگی کے میزان کا تعلق امپورٹ بل سے ہے۔ایکسپورٹ میں واضح کمی آنے سے ایمپورٹ بل کی ادائیگی میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔زر مبادلہ میں   9.8بلین ڈالرہیں زیادہ سے زیادہ دو مہینے کی امپورٹ بل کی ادائیگی کے واسطے کافی ہیں، وہ بھی ایک ایسی صورت حال میں جہاں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے ادائیگی کے میزان میں عدم توازن کے خطرات بڑھ جانے کا احتمال ہے۔
عمران خان کیلئے اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ہو گا۔امریکی وزیر خارجہ پامپیو کے بیاں سے لگتا ہے کہ عالمی چودھری عمران کی مشکلات بڑھانے کے در پے ہے۔عمران اپنے بیانات میں افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف نظر آتے ہیں جبکہ امریکہ اپنی چودھراہٹ کو قائم رکھنے کیلئے افغانستان سے ہلنے کا نام نہیں لیتا ثانیاََ عمران کی ترجیح پاکستان کو ایک فلاحی اسلامی ریاست بنانے سے ہے جبکہ عالمی چودھری ایسے نعروں سے برہم ہوتا ہے ۔ہو سکتا ہے امریکی وزیر خارجہ کا بیاں عمران کیلئے پہلا چلینج ہو۔ آئے ایم ایف (IMF)کا قرضہ میسر بھی رہا تو یہ شاید ایسے شرائط کے ساتھ آئے جو پاکستان کیلئے نا قابل برداشت ہو ںایسے میں پاکستان کے پاس چین سے امداد کی درخواست کرنے کے علاوہ کوئی اور صورت نظر نہیں آتی۔عمران خان کا نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اس میں گوناگوں مشکلات نظر آتی ہیں۔
Feedback on:Iqbal.javid46@gmail.com