تازہ ترین

اقدام خود کشی کاالزام بے بنیاد ،مجھے جموں منتقل کیاجائے:طالب چوہدری

عبدالحمیدچوہدری ودیگران کاگورنرسے فوری مداخلت کامطالبہ

8 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

طار ق ابرار
 جموں//رسانہ عصمت دری وقتل کیس میں متاثرہ بچی اوراس کے لواحقین کوانصاف دلانے کیلئے جدوجہدکی قیادت کرنے والے سماجی کارکن طالب حسین چوہدری جولگ بھگ ایک ہفتے سے پولیس تھانہ سانبہ کی تحویل میں ہے نے مطالبہ کیاہے کہ مجھے یہاں سے کسی ضلع یاسنٹرل جیل منتقل کیاجائے ۔طالب حسین نے یہ مانگ گذشتہ روز گوجربکروال برادری کے معززلوگوں جن کی قیادت چوہدری عبدالحمیدکررہے تھے کے ذریعے کی۔میڈیاکوطالب حسین کی طبیعت کے بارے میں بتاتے ہوئے گوجردیش چیریٹیبل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری عبدالحمیدنے کہاکہ طالب کی صحت خراب ہے اورا سکے سرپرچوٹ آئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پولیس کی موجودگی میں زیادہ کچھ طالب نے نہیں بتایاالبتہ اس نے کہاکہ میری صحت خراب ہے اوریہاں پرمیرامعقول علاج نہیں کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ طالب نے یہ بھی بتایاکہ اس پربہت سے لوگ فقرے کستے ہیں اورذہنی طورہراساں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ طالب کاکہناتھاکہ میں یہاں پرمحفوظ نہیں ہوں اس لیے مجھے کسی ضلع یاسنٹرل جیل بھیجاجائے اورمیرے کیس کی شفاف جانچ کی جائے۔حمیدچوہدری نے کہاکہ طالب حسین نے کہاکہ مجھ پر جوبھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ بے بنیادہیں۔یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق چوہدری عبدالحمیدنے طالب حسین پرپولیس کے تشدداورزدوکوب اور ناسازطبیعت کے سلسلے میں تشویش کااظہارکرتے ہوئے اسے معقول صحت سہولیات فراہم کرنے اوراسے سانبہ سے جموں منتقل کرنے کی مانگ کی ہے۔واضح رہے کہ رسانہ عصمت دری وقتل کیس میں متاثرہ بچی اوراس کے لواحقین کوانصاف دلانے کیلئے جدوجہدکی قیادت کرنے والے سماجی کارکن طالب چوہدری جسے چندروزپہلے سانبہ پولیس نے ترال سے گرفتارکیاتھا۔پولیس کے مطابق طالب کے خلاف اس کی ایک رشتہ دارخاتون کی طرف سے شکایت درج کرائی گئی ہے کہ طالب حسین نے اس کی عصمت دری کی کوشش کی ہے ۔پولیس نے شکایت کے بعدمعاملہ درج کرکے مبینہ ملزم کوگرفتارکرکے اس پردفعہ 376کے تحت معاملہ درج کیاتھا۔دوروزقبل سپریم کورٹ کی معروف وکیل اندراجے سنگ نے ٹویٹ کیاتھاکہ طالب حسین پرسانبہ پولیس تھانے میں  شدیدزدوکوب اورتشددکانشانہ بنایاجارہاہے اوراسی روز طالب حسین کی طبیعت بگڑگئی تھی جس کے بعدعوامی حلقوں میں تشویش کی لہردوڑگئی اورسوشل میڈیاپر بھی گوجربرادری کے لوگوں نے طالب حسین کی طبیعت نازک ہونے پرتشویش ظاہرکی تھی ۔بعدازاں سانبہ پولیس نے میڈیاکوبتایاکہ طالب حسین نے سانبہ پولیس تھانے میں اقدام خودکشی کیاجس کوبنیادبناتے ہوئے اس کے خلاف دفعہ 309 درج کیاگیاتھا ۔واضح رہے کہ عبدالحمیدچوہدری جومعروف گوجرلیڈرہونے کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی کے چیف کوآرڈی نیٹر ہیں نے برادری کے معززاورچیدہ چیدہ شخصیات کے ہمراہ گذشتہ روز پولیس سٹیشن سانبہ کادورہ کیااورطالب حسین سے ملاقات کرکے اس کی طبیعت کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔انہوں نے کہاکہ طالب چوہدری کے مطابق اس کاپیٹ خراب ہے جس کی وجہ سے اس کی طبیعت ناسازہے لیکن مجھے بہترطبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب بھی مجھے ہسپتال لے گئے توبہت سے لوگوں نے مجھے ذہنی طورپریشان کیا۔اس دوران طالب نے مزیدبتایاکہ یہاں پرمجھ سے پولیس کی طرف سے میرے خلاف جوغلط معاملہ درج کیاگیاہے اس سے متعلق پوچھ تاچھ نہیں ہورہی ہے بلکہ مجھ سے ایسے ایسے واقعوں کے بارے میںپوچھ تاچھ کی جارہی ہے جن کامجھ سے دوردورتک کاتعلق نہیں ہے۔عبدالحمیدچوہدری نے کہاکہ طالب حسین کے سرپرچوٹ کے نشان تھے اور جب اسے یہ پوچھاگیاکہ اس نے خودکشی کی کوشش کیوں کی تواس نے کہاکہ میں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی ،البتہ پولیس کی موجودگی کی وجہ سے مزیدکچھ نہیں بتایااوربہترطبی سہولیات اورسانبہ سے جموں منتقل کرنے کی فریادکی۔عبدالحمیدچوہدری نے ریاستی گورنرانتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ معاملے میں مداخلت کرکے طالب حسین کوسانبہ سے جمو ں منتقل کرکے اس کے کیس کی شفاف ٹرائل کویقینی بنایاجائے۔اس دوران عبدالحمیدچوہدری کے ہمراہ گوجربکروال برادری کے دیگرسرکردہ لیڈران وسماجی کارکنان بشمول سلیم چوہدری صدر گوجریونائٹیڈ فرنٹ ضلع سانبہ ، محمدیوسف ٹرسٹی گوجردیش چیریٹیبل ٹرسٹ ،محمدشفیع سابق رکن گوجربکروال مشاورتی بورڈ، علی چوہدری ،محمدشفیع کے علاوہ مبینہ ملزم کے رشتہ داروں نے بھی طالب حسین سے ملاقات کی اوریہ یقین دہانی کرائی کہ گوجربکروال طبقہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے ۔علاوہ ازیںطالب حسین پرسانبہ پولیس کی طرف سے پے درپے دائرکی گئی ایف آئی آرکی گوجربکروال برادری نے شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے ۔اس سلسلے میں دوروزقبل گفتارچوہدری نامی ایک سماجی کارکن نے کہاکہ طالب چوہدری پرعصمت دری کاکیس جھوٹاہے ۔اس کاجواز پیش کرتے ہوئے گفتارنے کہاتھاکہ جس عورت نے الزام لگایاہے اس نے دومختلف میڈیا ہائوسزکی جانب سے کئے گئے انٹرویومیں جوبیانات دیئے ہیں ان میں واضح تضادپایاجارہاہے کیونکہ ایک بائٹ میں خاتون نے کہاہے کہ اس کاریپ ہوااوردوسری بائٹ میں کہاکہ اس کے ساتھ ریپ کی کوشش کی ۔سماجی کارکن زاہدپروازچوہدری،رفاقت اعجاز، ایڈوکیٹ اکرم چوہدری، مشتاق انقلابی وغیرہ نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہاکہ سانبہ پولیس تھانے میں طالب حسین کوکسی سیاسی لیڈرکی شے پرتشددکیاجارہاہے جوکہ ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہاکہ طالب کواگرکچھ ہواتواس کیلئے ضلع سانبہ کی پولیس وسول انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے ریاستی گورنرسے پرزورمطالبہ کیاکہ طالب حسین کے کیس کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائے۔