تازہ ترین

گریزسیکٹرمیں دراندازی کی کوشش، میجرسمیت 4 فوجی اور2جنگجوہلاک

۔ 8جنگجوئوں پر مشتمل گروپ میں4واپس فرار،2کیخلاف آپریشن جاری :دفاعی ترجمان/لشکر کی ذمہ داری

8 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

عازم جان
 بانڈی پورہ//شمالی کشمیر میں ضلع بانڈی پورہ کے سرحدی علاقہ گریز میں لائن آف کنٹرول پر جنگجوئوں اور فوج میں گھمسان کی جھڑپ ہوئی جس میں ایک میجر سمیت 4اہلکار ہلاک جبکہ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 2جنگجو بھی مارے گئے۔تاہم جنگجوئوں کی لاشوں کو شام تک بر آمد نہیں کیا جاسکا تھا۔علاقے کا  وسیع پیمانے پر محاصرہ کرلیا گیا ہے اور فوج کی مزید کمک طلب کر کے آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران فوجی پہلی کاپٹروں کی مدد بھی لی جارہی ہے۔پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات قریب ایک بجے ننی پوسٹ بگتور علاقے میں 8 افراد پر مشتمل جنگجوؤں کے ایک گروپ نے دراندازی کی کوشش کی تھی تاہم 36 آر آر سے وابستہ گشتی پارٹی نے لائن آف کنٹرول کے اندر گھس آئے جنگجووں کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن انہوں نے فوج پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان شدید جھڑپ شروع ہوی جو منگل کی صبح تک جاری رہی۔ایس ایس پی بانڈی پورہ ذوالفقار احمد نے بتایاکہ رات کے ایک بجے سرحدپار سے جنگجوئوں کے ایک گروپ نے دراندازی کی کوشش کی تاہم فوجی اہلکاروںنے اس کوشش کی بھنک لگتے ہی فوری کارروائی عمل میں لائی جس کے بعد طرفین کے درمیان شدید معرکہ آرائی شروع ہوئی۔ڈپٹی کمشنر بارہمولہ شاہد اقبال چودھری نے بھی منگل کی صبح سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر لکھے اپنے ایک ٹویٹ میں گریز سیکٹرمیں دراندازی کی ایک کوشش ہونے کی اطلاع عام کردی۔سرینگرمیں تعینات دفاعی ترجمان نے بتایا کہ گریز سیکٹرمیں لائن آف کنٹرول کے ایک علاقہ میں سرحدپار سے تقریباً 8جنگجوئوںنے دراندازی کی کوشش کی لیکن دوران شب ہوئی اس کوشش کو ناکام بنادیا گیا۔ انہوںنے بتایاکہ رات بھر طرفین کے درمیان شدیدگولی باری جاری رہی جس دوران فوج کے ایک میجر کے علاوہ تین اہلکاراپنی جانیں گنوابیٹھے ، جن میں 36آر آر کے میجر  پی کے رانے ،حوالدا رحمیر  سنگھ ، حوالدار وکرم جیت سنگھ اوررائفل مین مندیپ سنگھ شامل ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ معرکہ آرائی کے دوران مارے گئے فوج کے میجر اور تین اہلکاروں کی نعشوں کو سرحد کے نزدیک سے برآمد کیاگیا۔ دفاعی ترجمان نے بتایاکہ فوری جوابی کارروائی کے دوران ہوئی فائرنگ کی آڑ میں چار جنگجو واپس سرحدپار بھاگ گئے جبکہ باقی چار کیخلاف کارروائی جاری رکھی گئی اور ان میں سے دو مارے گئے ۔انہوںنے کہاکہ باقی دودراندازوں کیخلاف آپریشن جاری ہے ۔تاہم دفاعی ترجمان نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ دراندازی کی کوشش کے دوران مارے گئے دوجنگجوئوں کی نعشوں کو برآمد کیاگیااور نہ یہ جانکاری فراہم کی کہ جھڑپ کے دوران مارے گئے جنگجوئوں سے کتنا اسلحہ اور گولی بارود ضبط کیاگیا۔ 

لشکر طیبہ کی ذمہ داری

لشکر طیبہ ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ گریز میں چند عسکریت پسندوں اور ہزاروں فوجیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس کے دوران ڈرون کا بھی استعمال کیا گیا اور گولہ باری کا بھی سہارا لیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ بھرتی فوج نے میجر سمیت 4اہلکاروں کی تصدیق کی ہے تاہم جھڑپ کے بعد صورتحال کا تجزیہ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ 12سے16فوجی ہلاک ہوئے جن میں 2آفیسر بھی شامل ہیں۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔