تازہ ترین

حلقہ ادب اسلامی قطر

ماہانہ ادبی نشست ومشاعرہ

11 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(   نائب صدر حلقہ ادب اسلامی.قطر    )

راوی :مظفر نایاپ
 اگر ادب میں صحیح افکار و خیالات کے بجائے کفر و الحاد در آئے، ایمان و یقین کے بجائے شکوک و شبہات پروان چڑھیں، رحمت و امید کے بجائے مایوسی اور قنوطیت کا خناس جمع کیا جائے ، تواضع و انکساری کے بجائے فخر و مباہات ہو، عفو و درگزر کے بجائے انتقامی جذبات کو اُبھارا جائے تو ایسا ادب ہمارے معاشرے کے لئے ایک سم قاتل ثابت ہوگا۔ ادب اسلامی قطر روز اول ہی سے اس بات کے لئے کوشاں رہا ہے کہ ادب اسلامی کا فروغ معاشرہ کے اندر زیادہ سے زیادہ ہو جس کا مقصد یہ ہے کہ نیک جذبات پاکیزہ خیالات اور حقائق کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دین اسلام سے واقف کروایا جائے ،اس کی حقیقت سے روشناس کروایا جائے اور دین اسلام کے بارے میں پھیلائی گئیں بعض غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے دین حق کی خوبیوں کو اُجاگرکیا جائے۔ اس ضمن میں حلقہ ادب اسلامی قطر کا ماہانہ اجلاس ہو اجس کی صدارت کرتے ہوئے سید مشتاق قادری عمری نے اپنے خطبہ صدارت میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔شروع سے لے کر اختتام تک صدر محفل کا خطبہ بہت ہی پر مغز اور جامع تھا، حاضرین محفل بے حد اشتیاق سے، بڑے انہماک اور ادب و احترام کے ساتھ مشتاق قادری عمری کے ایک ایک لفظ کو سمیٹتے رہے ۔حلقہ ادب اسلامی قطر کا یہ ماہانہ ادبی اجلاس و مشاعرہ الحمداللہ 12 جولائ 2018 جمعرات کی شب حلقہ رفقائے ہند کے مرکزی ہال میں خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوا۔ شہ نشین پر صدر اجلاس کے علاوہ سید شکیل احمد جو کہ ہندوستان کے شہر کلکتہ سے تشریف لائے تھے، بطور مہمان خصوصی شامل رہے ، شہاب الدین مہمان اعزازی تھےجو کہ بزم صدف انٹرنیشنل کے چیئرمین ہیں، براجمان تھے۔صدر حلقہ ادب اسلامی قطر، عامر عثمانی شکیب نے صدر اجلاس مہمانان اور تمام شعراء و سامعین کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا اور مہمانان کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔ راشدندوی کی خوبصورت آواز میں تلاوت قرآن مجید و ترجمانی سے اجلاس کا آغاز ہوا، راقم اعظمی نےاس اجلاس کے شعری حصہ کی نظامت بڑی مشاقی سے انجام دی۔حسب معمول تشنگان ِشعر و ادب کی ایک کثیر تعداد نے محفل کی زینت بڑھائی، شہر کی مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور سرکردہ علماء و قائدین نے اپنی شرکت سے محفل کے وقارمیں اضافہ کیا۔
اجلاس کے پہلے حصہ میں سلسلہ وار پروگرام ’’فکر روشن‘‘ کے تحت مظفر نایابؔ نے علامہ اقبال کی ایک نظم، ’’غرہء شوال‘‘ خوبصورت شعری لہجہ میں سامعین کے گوش گزار کیا اور مختلف شارحین کی آراء پر مشتمل جامع لیکن مختصر تشریح بھی پیش کی۔ سامعین کی جانب سے اس طرح کی پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا۔مہمان خصوصی سید شکیل احمد نے نثری حصہ میں ایک مضمون پیش کیا جو کہ اپنی پیشکش، اسلوب اور زبان و بیان غرض ہر لحاظ سے انتہائ معیاری، عمدہ اور فصیح و بلیغ تھا، جس کی خوب ستائش کی گئ۔اجلاس کے دوسرے حصہ میں مقامی شعراء نے اپنی گراں قدر شعری تخلیقات غزلیں اور نظمیں پیش کر کے محفل کی شان اور وقار کو برقرار رکھا اور خوب داد تحسین سے نوازے گئے۔ خطبۂ صدارت سے قبل جناب شکیل احمد مہمان خصوصی اور جناب شہاب الدین مہمان اعزازی نے اپنے تاثرات سے شرکائے محفل کو آگاہ کیا۔ناظم اجلاس کے شکریہ کے ساتھ رات ساڑھے بارہ بجے اس خوبصورت محفل کا اختتام عمل میں آیا۔شعرائے کرام کا نمونہ ٔ  کلام ملاحظہ کیجئے اور آپ بھی لطفه اٹھائیں۔
نصیر سراجی
جائيے شہرِ خموشاں کہ چمن یاد رہے
خشک پتہ بھی ہمیں درسِ فنا دیتا ہے 
رزق کی فکر نہ کر ہے ترا اللہ رزاق
وہ جو پتھر میں بھی کیڑوں کو جلا دیتا ہے 
ظرف مہر بلوچ
کوزہ گر بتا مجھ کو کتنے دام لگتے ہیں
ٹوٹے ایک شیشے کو پھر سے دل بنانے میں
کتنے دن تلک سوچا ، کتنے رت جگےکاٹے
آپ کے شباہت کی اک غزل بنانے میں 
شاہد سلطان اعظمی
سفر حیات کا تجدیدِکربلا تو لگے
کوئی سراغ ملے اس کا کچھ پتہ تو لگے
جو زخم اس نے دئے گاہےگاہےمہکیں تو
کچھ اس سے ربط وتعلق کا سلسلہ تو لگے
اتفاق انمول
بہت خوبصورت مری جان ہوتم
مگر اس خبر سے تو انجان ہو تم 
تجھے دیکھ کر میں ٹھٹک سا گیا ہوں
مجھے دیکھ کر جیسے حیران ہو تم 
راقم اعظمی
بھیگی بھیگی پلکیں لیکرخوابوں میں جب آتے ہیں
 آپ کی آنکھوں کے یہ آنسو دل کا درد بڑھاتے ہیں
 آنکھیں چار کریں ہم تم سے ہم میں اتنا زعم کہاں 
یونکہ جھیل سی ان آنکھوں میں ڈوب کے ہم مرجاتے ہیں 
عامر شکیب 
مل بیٹھنے کی آس ہی باقی نہیں ہے جب
وہ ہم کو اور ان کو منانے سے ہم رہے 
غالب تھی سادگی جو ہمارے مزاج پر
پھر ایسی ویسی باتیں بنانے سے ہم رہے 
اشفاق دیشمکھ
عمر چھپانا حق ہے تیرا لیکن تھوڑا جھوٹ ہو کم
ساٹھ کی ہوکےبیس بتانا ، یہ تو اچھی بات نہیں
مہنگےمہنگے دو ڈبّے تھے، دو ہی دنوں میں ختم ہوئے 
اتنی پاؤڈر منہ پہ لگانا، یہ تو اچھی بات نہیں
وصی بستوی
یہ پرندے جو دمِ صبح کہیں نکلے ہیں
 گھونسلے اپنے پروں پر ہی اٹھائے ہوے ہیں
وزیر احمد وزیر
ترے فراق میں آنکھیں رہیں گی تر کب تک
رہے گی رات کے آغوش میں سحر کب تک
اندھیرےجھانک رہے ہیں سبھی دریچوں سے 
چھپا کے رکھوں میں سورج کو اپنے گھرکب تک
ندیم ظفر جیلانی دانش
آرزوئے وصل شاید اس کو رکھتی ہے ہرا
ہجر کے صحرا میں اک تنہا شجر امید کا 
خامشی کی برف پگھلے آج اس کے روبرو
اک نیا موضوع بتاؤ دوستو تمہید کا 
مظفر نایاب
گرچہ منظور نہ ہو رب کا ثنا خواں ہونا
"آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا"
اہل حق کے لئے مشکل نہیں قرباں ہونا
"عیدِنظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا"
احمد اشفاق
ٹہرتے ہی نہیں وہ حافظے میں
رہا کرتے نہیں جو رابطے میں
جہاں سے تم الگ مجھ سے ہوے تھے
کھڑا ہوں آج تک اس راستے میں
افتخار راغب
نہیں جھکتا کسی کے خوف سے دل
یہ ننھی سی جبیں بھی کم نہیں ہے
چلوکہہ دو کہ ہے تم سے محبت
نہیں ہے تو نہیں بھی کم نہیں ہے 
شوکت علی ناز 
ہیں سبھی محوِ دعاآس کے ساحل پہ کھڑے
ناؤامید کی آ پارلگالے تو بھی
نشہءدید سے سرشار مجھے رہنا ہے 
اب نہیں جام یہ ہونٹوں سے ہٹانےمجھ کو 
یوسف کمال
دوستو رازِ نہاں اپنا عیاں کیا کیجئے
آفتِ جاں کی حکایت کو بیاں کیا کیجئے
مرہمِ وقت پہ جو فرض تھا اس نے تو کیا
پھر بھی مٹتے نہیں زخموں کے نشاں کیا کیجئے
شاد آکولوی
مشکلوں کو نہ ملا اور مزا میرے بعد
درد کو مل گیا اندازِ دوا میرے بعد
وہ بہاتے ہیں یہاں میرےسرہانےآنسو
پھر سجی فصلِ بہارانِ وفا میرے بعد
عتیق انظر
شاخ سے پھول جھڑتے جاتے ہیں
 تیرسینے میں گڑتے جاتے ہیں
کیسی آندھی چلی زمانے میں
باغ سارےاجڑے جاتے ہیں 
سیدشکیل احمد
مزاج یارکبھی یوں نہیں بدلتا تھا 
وہ فاصلے سے سہی ساتھ ساتھ چلتا تھا
گئے دنوں کو پکارا تو یہ ہوا معلوم
 کہ آسماں پہ کبھی چاند بھی نکلتا تھا