تازہ ترین

بھوت کی حقیقت

کہانی

5 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شفیع ساگر
میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ اچانک میری نواسی نے مجھ سے سوال کیا ۔ دادا جان۔ پہلے زمانے میں بھوت پریت زیادہ تعداد میں نظر آتے تھے اب کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ میرے پاس اس معصوم بچی کے سوال کا جواب نہیں تھا ۔ حالانکہ میں نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال گذارے تھے اور اس طویل عرصہ کا تجربہ میرے پاس تھا ۔ میرے پہلے بیس سال اسکول میں گذرے تھے۔ میں نے بہترین اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ میں نے کئی ملکوں کی سیر کی تھی اور دُنیا کے اعلیٰ اوربہترین مفکروں سے ملاقات کر چُکا تھا ۔ میں نے دُنیا کی بہترین کتابیں پڑھ لی تھیں ۔ میں نے بہت ہی مشہور اور قابل علماء سے ملاقات کی تھی ۔ میں اپنے علاقے میں ایک قابل اور عقل مندآدمی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ میں اپنے دوستوں کے حلقے میں بہت ہی حاضر جواب تھا ۔لیکن آج یہ کیا ہوا آج اس معصوم بچی کے سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا ۔ میں نے پہلے سوچا کہ بچی کو کوئی اُلٹا سیدھا جواب دے کر مطمئن کر دوں ۔ لیکن مجھے اپنے اُس اُستاد کی بات یاد آگئی جو مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ بچوں کے سامنے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے ۔ اس سے بچے جھوٹ بولنا سیکھ جاتے ہیں۔ ان حالات میں کیا کیا جائے ایک عجیب سی سچویشن تھی ۔ جواب نہ دینا اپنی انا کا مسئلہ تھا ۔ لیکن آخر کار میں نے ہمت سے کام لیا اور کہا ۔’’ چھوٹی کیا آپ مجھے ایک دن کی مہلت نہیں دوگی ‘‘۔  بچی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا ۔ میں نے وضاحت کی ’’ بیٹی در اصل مجھے سوچنے کے لیے وقت درکار ہے‘‘۔ لڑکی مسکرانے لگی اور وہاں سے چل پڑی ۔ 
لڑکی کے جانے کے بعد میں نے ہر زاویئے سے سوال پر غور کیا ۔ جوابات کے تمام پہلوئوں پر غور کیا ۔ کتابیں چھان لیں ۔ دودھ کے ساتھ بادام کھا لئے ۔میں نے سُنا تھا کہ اس سے مہم میں تیزی آئی ہے ۔ اس کے بعد پھر سے سوچنے لگا ۔لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ۔ میں نے سُن لیا تھا کہ جب حالات قابو سے باہر ہو جائیں تو بزرگوں سے رُجوع کرنا چاہیے ۔ اس لیے کافی سوچ و بچار کے بعد میں نے اپنے والد محترم سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ والد محترم عمر کے سو سال پار کر چُکے تھے ۔ اُن کے پاس مجھ سے چالیس سال کا تجربہ زیادہ تھا ۔ لیکن تعلیمی لحاظ سے وہ مجھ سے بہت پیچھے تھے ۔ اب مجھے ایک اُمید تھی کہ والد صاحب اس سوال کا جواب شائد اپنے تجربے کی بنا پہ دے پائیں گے۔ 
میں نے پہلے والد صاحب کے سامنے جانے کے لیے اپنی ہمت بٹور لی کیونکہ کافی دنوں بعد والد صاحب سے ملاقات کر رہا تھا ایسا نہیں تھا۔ کہ والد صاحب کسی اور ملک یا شہر میں رہتے ہوں ۔ میرے اور والد صاحب کے درمیان ایک دروازے کا فاصلہ تھا ۔ یعنی والد صاحب اپنے کمرے میں بیٹھتے تھے اور میں اپنے کمرے میں ۔ کھانا ہم دونوں کو اپنے اپنے کمروں میں پہنچایا جاتا تھا لیکن ملاقات خاص خاص مواقع پر ہو جاتی تھی ۔ جیسے عید ، نو روز ، محرم وغیرہ ۔ 
سلام کرتے ہوئے والد صاحب کے کمرے میں داخل ہوا ۔ خیر خیرت پوچھی ۔ والد صاحب نے بھی خیر خیریت پوچھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے دو اجنبی ملاقات کر رہے ہوں ۔ احوال پُرسی کے بعد میں نے پوتی کا سوال سامنے رکھا ۔ اور کہا ابو جان منی کے اس سوال نے مجھے اتنا پریشان کر دیا ہے کہ میں رات بھر نہیں سوسکا ۔ کئی کتابیں چھان لیں ۔ لیکن کوئی نتیجہ بر امد نہیں ہو ا۔ اب میں آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ میری رہنمائی کریں۔ 
والد صاحب پہلے تو خاموش ہوئے ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ایک آہ بھری اور اپنے گذرے دن یاد کرنے لگے ۔ کہا مُنی کا کہنا بالکل درست ہے پہلے زمانے میں بھوت پریت آمنے سامنے ملتے تھے اور اکثر اُن جگہوں میں آجاتے تھے جہاں گندگی پھینک دی جاتی تھی۔ جہاں گندگی اور کچرے کا ڈھیر ہوتا وہاں لوگ رات کو جانے سے گریز کرتے تھے کیونکہ وہاں چلتے پھرتے بھوت نظر آتے تھے۔ان بھوتوں کو دیکھ کر انسان ڈر ، وہم ، پریشانی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے تھے ۔ پھر ان کا علاج کرنے کے لیے تعویز ، منتر وغیرہ کا استعمال کیا جاتا تھا اور یہ لوگ بڑی مشکل سے ٹھیک ہو جاتے تھے ۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے گندگی پھیلانے والوں کو عذاب دینے کے لیے یہ مخلوق مسلط کر دی تھی تاکہ لوگ کوڑا کرکٹ اور گندگی پھینک کر ماحول کو آلودہ کرنے سے باز رہیں ۔ 
اس طرح سالہا سال گذر گئے۔ بھوت پریت کا سلسلہ چلتا رہا ۔ کتنے لوگ وہم کی بیماری سے پاگل ہوگئے ۔ کتنے لوگ اس دارِ فانی سے چل دیے ۔ لیکن بھوت پریت کا سلسلہ نہ رُکنا تھا نہ رُکا ۔ ایک دن تمام انسان جمع ہوئے اور اُس وقت کے بادشاہ سے بھوتوں کی شکایت کی ۔ اُنہوں نے کہا اے بادشاہ سلامت ۔ ہم آپ کی رعیت ہیں ۔ آپ ہمارے والد کی طرح ہو ۔ ہم بہت بڑی پریشانی میں مُبتلا ہو چُکے ہیں ۔ ہمیں بھوت پریت بہت تنگ کرتے ہیں ۔ برائے کرم ہمیں اس مصیبت سے نجات دلایئے۔ ہمیں ان بھوت پریت کے ظلم سے آزاد کرائیے۔ بادشاہ نے اپنی رعایا کی فریاد سُن لی اور کہا ۔ آپ لوگ بے فکر رہیے، میں کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لوں گا ۔ دوسرے دن بادشاہ نے اپنے وزرا کو بُلایا اور کہا کہ مجھے کوئی ایسی ترکیب بتا دو کہ میں ان بھوت پریت پہ قابو پا سکوں ۔ کسی نے کہا رات دن آ گ جلائے رکھنی چاہیے کیونکہ بھوت پریت آگ سے ڈرتے ہیں اور قریب نہیں آتے ۔ کسی نے کہا رعایا کو ایک ایسی جگہ بسایا جائے جہاں بھوت پریت نہ پہنچ سکیں ۔ کسی نے مشورہ دیا کہ بھوتوں کے ملک پہ حملہ کیا جائے اور سارے ملک کو تحس نحس کرکے بھوتوں کو قیدی بنا یا جائے اور اُنہیں سخت سے سخت سزائیں دی جائیں ۔ گویا ہر کسی نے اپنی اپنی فہم کے مطابق حل بتا دیا ۔لیکن ایک بزرگ وزیر نے ان تمام مشوروں کو بیوقوفانہ قرار دیا اور بتایا کہ میں ایک ایسا حل بتاو ں گا جو نہایت ہی موزوں ہو گا ۔ اے بادشاہ سلامت آپ مجھ سے وعدہ کیجئے کہ اگر میری بات بُری لگے تو آپ میری جان بخش دینگے یعنی مجھے جان سے نہیں ماریںگے۔ بادشاہ مسکرایا اور کہا، کہئے آپ جو بھی کہنا چاہتے ہیں مجھے اگر آپ کی بات بُری لگے تو بھی میں آپ کو کوئی سزا نہیں دوں گا ۔ بادشاہ کی طرف سے اطمینان بخش جواب پانے کے بعد یہ بزرگ عرض کرنے لگا ۔ بادشاہ سلامت ان بھو ت پریت پر قابو پانے کی طاقت آپ کے پاس نہیں ہے ۔ ایک ایسا بادشاہ ہے جو ان کو قابو میں کر سکتا ہے، وہ ہے سارے جہاں کا بادشاہ، جس نے مجھے اور آپ کو یہ زندگی بخشی یعنی اللہ تعالیٰ۔ اگر آپ صدق دل سے اُن سے مدد مانگیںگے تو وہ ضرور کوئی نہ کوئی حل نکالے گا ۔ بزرگ وزیر کی بات سُن کر بادشاہ نے اُنہیں شاباشی دی اور سارے لوگوں سے سات دن سات رات اللہ کے دربار میں دُعا کرنے کا حکم جاری کیا ۔ بادشاہ کا حکم سُن کر سارے لوگ جمع ہوئے اور حکم پر عمل کرتے ہوئے دعائیہ کی مجالس کا اہتمام ہوا ۔ لوگوں کی فریاد سُن کراللہ کی رحمت جوش میں آگئی اور ایک فرشتہ انسانی صورت میں نازل ہوا اور کہا اے انسانوں اللہ تعالیٰ نے تمہاری دُعا سُن لی ہے اب بھوت پریت آج کے بعد نظر نہیں آئیں گے ۔ یہ سُننا تھا کہ سارے لوگ خوشی سے جھوم اُٹھے ۔ جگہ جگہ شُکرانے کی مجلسیں منعقد کی گئیں ۔ یہ بات جب بھوتوں کو معلوم ہوئی تو پریشان ہوئے ۔ اور اُنہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں سر بسجود ہو کر اپنی سلامتی کے لیے دُعا مانگی ۔ جس کے بعد وہی فرشتہ پھر نازل ہوا اور کہا اے بھوت پریت کی مخلوق اللہ نے آپ کی دُعا سُن لی ہے، اب آپ صحیح سلامت رہو گے ۔ یہ عجیب و غریب بات خود فرشتے کو بھی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے وعدہ کیا کہ بھوت پریت  نظر نہیں آئیں گے ۔اور بھوت پریت کو بھی وعدہ کیا کہ اُنہیں صحیح سلامت رکھا جائے گا ۔  اس فرشتے نے اللہ کے دربار میں حاضری دی اور کہا اے ربُ العزت یہ کیسا ماجرا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے کہاـ: اے فرشتے یہ بات آپ کی سمجھ سے باہر ہے ۔ دراصل میں بھوت پریت کی جسامت کو چھوٹی کرنے والا ہوں اتنی چھوٹی کہ وہ انسان کو نظر نہ آئیں ۔ اب یہ بھوت پریت اپنا کام انسان کو ڈرا کر نہیں کریں گے بلکہ انسان کی رگ رگ میں گھس جائیں گے اور اپنا کام کرتے رہیں گے ۔ اب انسان انہیں بھوت پریت نہیں کہے گا اب ان کا نام بدل کر جراثیم یا وائیرس رکھا جائے گا ۔ اب یہ صفائی نہ رکھنے والوں کے جسم میں گھس کر اُنہیں قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیں گے۔ عقلمند انسان ان سے بچنے کے لیے اپنے ماحول کو صاف سُتھرا رکھیں گے ۔ اس طرح یہ مخلوق جنہیں انسان بھوت ، پریت ، شیاطین ، خبائث وغیرہ کے نام سے جانتا تھا ۔ چھوٹی ہو کر جراثیم یا وائیرس کہلائی ۔ 
والد صاحب کی کہانی سُن کر مجھے گندگی کا وہ ڈھیر یاد آنے لگا جو میں نے باغ کے داہنے طرف جمع کر کھا تھا ۔ مجھے وہاں سے ایک جرثومہ اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا ۔ میں نے فوراً اپنے ہاتھ اُٹھا دیئے اور اس جرثومے کو روکنے کی کوشش کی لیکن جرثومہ برابر میری طرف آ رہا تھا ۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا ۔ دیکھا تو میں پلنگ سے گر چُکا ہوں ۔ سارا جسم پسینے سے شرابور ہے ۔ دل زور زور سے دھڑک رہا ہے ۔ مجھے اپنی ساٹھ سال والی بوڑھی شکل یاد آرہی تھی جو میں نے ابھی ابھی خواب میں دیکھی تھی ۔ میری عمر تو بتیس سال ہے اور میرے والد کی عمر ستاون برس ۔ ابھی تو میرا بچہ چھوٹا ہے ۔ تو یہ پوتی کہاں سے آگئی ۔ مجھے ساٹھ سال والی شکل یاد آ رہی تھی، چہرے میں جھریاں ، سفید بال ، لمبی داڑھی ۔ میں نے فوراً اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے پہ پھیر دیا تو دیکھا کہ چہرے میں داڑھی کا وجود نہیں تھا ۔ پھر بھی تسلی نہ ہوئی آئینہ اُٹھایا اور میز کے قریب گیا  تاکہ اپنی شکل دیکھ کر تسلی کر لوں ۔ جب میز کے قریب گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ موم بتی میز پر بجھ چُکی ہے اور جراثیم سے متعلق وہ مضمون جو میں نے چند گھنٹے پہلے لکھا تھا جل کر راکھ ہو چُکا ہے ۔
 رابطہ؛ دراس کرگل، لداخ 
 9622221748, 9419399487