تازہ ترین

اولاد کی تعلیم و تربیت

والدین احسان نہ جتائیں

19 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

فاطمہ عنبرین
ہم میں سے اکثر لوگ جب والدین اور اولاد کی بات کرتے ہیں تو والدین کے حقوق اور اولاد کے فرائض تو ہماری انگلیوں کے پوروں پر ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اولاد کے حقوق فراموش کر دیتے ہیں۔ جب کہ ذمہ داری دینے والے نے جب والدین کو ذمہ دار بنایا ہے تو انہیں پوری پوری تاکید کی ہے۔ ایک مسئلہ بہت اہم ہے کہ بچوں کو والدین کی تربیت نہیں کرنا ہوتی ہے بلکہ والدین کو اولاد کی تربیت کرنی ہوتی ہے تو عموماََ وہ اپنے حقوق کی بات تو اولاد کو ازبر کروادیتے ہیں لیکن انھیں یہ شعور نہیں دیتے کہ بچوں کے کیا حقوق ہیں؟ بخاری ومسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی ال عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد شیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک غلام ہبہ کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپؐ نے دریافت فرمایا: ـ’’کیا تو نے ہر بیٹے کو ایک ایک غلام ہبہ کیاہے؟‘‘  بشیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے :نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" پھر اس غلام کو واپس لے لے۔" ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ سے ڈرو، اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔" کتنے والدین ہیں جو یہ بات یادرکھتے ہیں؟ محبت پر پکڑنہیں کہ یہ دل کا معاملہ ہے لیکن اگر بے انصافی کی تو پکڑ ہے یہ بھی بتانا ضروری ہے اولاد کوکہ تمہارے کیا حقوق ہیں؟ ورنہ یہ مسئلہ آگے جا کر بالخصوص لڑکیوں کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کر دیتا ہے۔ یہ موضوع بہت زیادہ تفصیل چاہتا ہے لیکن آج ہمیں جو بات کرنی ہے وہ یہ ہے کہ کیا والدین کے حقوق کے ساتھ کچھ فرائض بھی ہیں؟ اگر ہیں تو کیا فرائض کو احسان کہہ کر جتاسنا مناسب ہے؟ جس طرح اللہ نے اولاد کوحکم دیا ہے کہ والدین کے سامنے اُف بھی نہ کرے بالکل ایسے ہی سورہ لقمان میں والدین کو شعور دیا جاتا ہے کہ اولادکی تربیت کس نہج پر کرنی ہے۔ انہیں بتائیں کہ شرک نہ کریں والدین کے ساتھ احسان کریں ،انھیں بات کرنے کا ڈھنگ سکھائیں، کس طرح سکھانا ہے یہ بھی بتادیا، غرور کرنے سے کیسے بچنا ہے؟ منہ بگاڑ کر بات نہیں کرنا، نیکی کی تعلیم دینی ہے برائی کو روکناہے یہ سب والدین بتائیں اپنی اولا دکو، یہ ذمہ داری بنائی گئی ہے والدین کی ۔اولاد کے فرائض اپنی جگہ لیکن والدین کی کوئی معمولی پکڑنہیں ہیں ہے غلط تربیت پر۔ حدیث مبارکہ ہے: ترجمہ: تم میں سے ہر شخص حکمران ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔
 
دانا  وجہاندیدہ لوگ کہتے ہیں کہ ہر انسان اپنی ذات کے اندر حکمران ہے اور اس کی کچھ نہ کچھ رعایا ہے جو اس کا حکم مانتی ہے اور اس رعایا کے حقوق اور ان کے استعمال کے بارے میں قیامت میں حکمران جواب دہ ہوگا۔ جیسے سلطنت کے حکمران جواب دہ ہوں گے۔ اگر شوہر ہے توبیوی اس کی رعایا ہے۔ ماں یا باپ ہے تو بچے رعایا ہیں ،بڑا بھائی ہے تو چھوٹے رعایا ہیں اور ہر عام و خاص انسان کے اعضاء  و جوارح بھی اس کی رعایا ہیں ۔ہاتھ اور پاؤں اس کی مرضی سے کام کرتے ہیں، دماغ مرضی سے سوچتاہے ،ان کے استعمال پر بھی سوال ہوگا بلکہ انسان کی صلاحتیں بھی اس کی رعایا ہیں۔ اللہ قیامت کے دن پوچھیں گے کہ تمہیں فلاں صلاحیت دی تھی، اس لئے دی تھی کہ مخلوق کو فائدہ پہنچاؤ ،تم نے کتنافائدہ پہنچایا؟ اسی طرح دنیاکا کارخانہ چل رہا ہے۔ اپنی رعایا سے کام لو اور ان کے حقوق کا خیال رکھو۔ یعنی پکڑسے بچنے کی نیت رکھی جائے اور موقع ملتے ہی احسان جتانے کا کام نہ کیا جائے۔ بچوں کی تربیت اپنے مفاد کے لیے نہ کی جائے ۔ حدیث پاک میں ارشاد ہوتا ہے:’’آدمی کے لیے وہی چیزہے جس کی اس نے نیت کی‘‘ تربیت تو کرنی ہے لیکن اللہ کی پکڑ سے بچنے کی نیت کر کے ہی فرائض کی ادائیگی کی جائے بہترین ہے۔ اگر اولاد کی تربیت حصہ ڈالنا ہے تویقیناََا ایک اچھی قوم کاعکس نظر آنے لگے گا لیکن اگر نیت صرف اپنے بڑھاپے کا سہارا مضبوط کرنا ہے یا اولادکو اپنے قبضے میں رکھنا ہے ،اپنی محبتو ں اپنی خدمتوں کا حساب لیناہے تو معزز والدین! آپ کو یہ سب شایدمل جائے لیکن اللہ کی رضامندی آپ کھو دیں گے اور جب اللہ کی رضا کھودی تو دل کا سکون بھی غارت! آپ نے بچے کو اعلی تعلیم دلوائی ہے یا معاشرے میں اٹھنے بیٹھنے کا ڈھنگ سکھایا ہے تویہ سب آپ نے اپنے فرائض پورے کیے، بدلہ تو صرف اللہ سے ہی طلب کیجئے ۔ اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ عزت نفس آپ کی ہے تو اولاد کا بھی اتنا ہی حق ہے کہ اس کی عزت نفس کا پاس رکھا جائے۔ اسے محبت اور تعظیم سے مخاطب کیا جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کا اکرام و احترام کرو اور انہیں اچھے آداب سکھاؤ۔‘‘(ابن ماجہ) اپنی اولاد کو ایک مخصوص عمر کے بعد آزاد چھوڑ دے ۔آپ کے ساتھ سلوک میں آپ کے ساتھ جڑے رہنے میں آپ کی تابعداری میں آپ کی عزت و تکریم میں ! اگر آپ نے اللہ کی رضا کے لیے بہترین تربیت کی ہے تواللہ کبھی اپنے بندوں کو مایوس نہیں کرتا ، آپ کی اولاد کی قسمت ہے آپ کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں پر چلی تو آپ کی ہی طرح دنیا و آخرت سنوارلے گی ورنہ جو اس کی قسمت۔ زندگی میں ایک اصول ہمیشہ یاد رکھئے ۔ بچے ہماری رعایا ہیں لیکن بچپن کی حد تک!جب وہ تعلیم مکمل کر لیتے ہیں تو پھر جاب ہو یا شادی ان معاملات میں آپ ایک اچھے مشیرضروربنیں لیکن ڈکٹیٹر نہ بنیں۔ اب آپ کی حکمرانی کا وقت ختم ہوا ۔اب اولاد کے عمل کی جوابدہی کا وقت شروع ہوا اور ہر انسان کی طرح یہ اختیار اللہ نے اسے بھی دیا ہے کہ وہ اپنے لیے خیر کا راستہ چنتا ہے یا شرکا۔ آپ اس کے لیے صرف دعا کرنے والے بن جائیں ۔،سی بھی موقع پر اگر آپ کو اس سے کوئی تکلیف بھی پہنچی ہے تو الفاظ اچھے ادا کریں، غصے میں بددعا اور کوسنے مت دیں، یہ محض شیطان کا ڈھونگ ہے کہ والدین دل سے بددعانہیں دیتے۔ اپنے الفاظ کی قبولیت کا وقت ہواتو دعا ہویا بددعا مقبول ہوجاتی ہے۔ ایک واقعہ جو یقینا سب نے سنا ہو گالیکن وہی بات کو دہراتے رہنے سے یادداشت اچھی رہتی ہے۔ امام حرم السدیس کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک لڑکا ہوا کرتا تھا، اپنے ہم عمر لڑکوں کی طرح شرارتی اور چھوٹی موٹی غلطیاں کرنے والا مگر ایک دن شایدغلطی اور شرارت ایسی کر بیٹھا کہ اس کی ماں کوطیش آ گیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے کو کہا (غصے سے بپھر جانے والی مائیں الفاظ پرغور کریں) لڑکے کی ماں نے کہا؛ چل بھاگ اِدھر سے اللہ تجھے حرم شریف کا اِمام بنائے۔ یہ بات بتاتے ہوئے شیخ صاحب پھوٹ پھوٹ کر رودئے، ذرا ڈھارس بندھی تور ندھی ہوئی آواز میں بولے: اے امت اِسلام، د یکھ لو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوا ہوں، تمہارے سامنے امام حرم عبدالرحمن السدیس۔ والدین کی دعائیں تو عرش ہلا دیتی ہیں اور جب عرش والا سن رہا ہے تو انسانوں سے کیا توقع؟ چاہے وہ اپنی اولادہی کیوں نہ ہو۔ احسان کر کے احسان جتانے سے منع کیا گیا ہے ،چاہے آپ نے وہ احسان کسی مسکین پرہی کیوں نہ کیا ہو تو اپنی اولاد پرتو آپ کی بہت کی ذمہ داریاں ہیں جو اللہ نے آپ کے دل کو اولاد کی محبت سے چور کر کے آپ کو ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پھر احسان جتانے کا اور اپنی ہیرے موتی جیسی نیکیاں گنوانے کا کیا فائدہ؟ اگر تربیت اچھی کردی ہے تو شکر ادا کریں کہ اللہ نے اہل بنایا، بس وہی چاہے تو انسان اہل ہوتا ہے ورنہ تو ایسا نااہل کہ اولادبھی جم کر کھڑی ہوتی ہے اور پچھتی ہے" آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟ جوبھی کیا وہ تو آپکا فرض تھا"اس وقت سوچ میں پڑ جاتے ہیں والدین کہ اس اولاد کے لیے کرتے رہے سب کچھ؟ تو بہتر ہے پہلے ہی اس اولاد کے بجائے اس رب العٰلمین کے لیے کیجئے جو پْر خلوص محنتوں پر ہی راضی ہوجاتا ہے، اسے آپ سے اور کچھ نہیں چاہیے۔