تازہ ترین

’ تحریک انصاف کا اقتدار چیلنجز سے بھرپور رہے گا‘

عمران خان باضابطہ طور پر وزیر اعظم نامزد

7 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 اسلام آباد//پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان کو باضابطہ طور پر وزیراعظم نامزد کردیا گیا۔عمران خان پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کے لیے مقامی ہوٹل پہنچے تو لوگوں نے انہیں مبارک باد پیش کی، جس پر عمران خان نے بھی جواب میں مبارک باد دی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ  ان کی جماعت کا پہلا اجلاس تھا، جس میں عمران خان نے نومنتخب ممبران کو مبارکباد پیش کی اور ان کی جدوجہد کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ جس جماعت کے وجود پر لوگ انگلیاں اٹھاتے تھے آج وہی جماعت پالیمان میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور حکومت بنانے کی اہل ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ  اگر اگر روایتی طرز حکومت اپنایا تو عوام ہمیں بھی غضب کا نشانہ بنائیں گے۔اسلام آباد کی مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’1970 میں عوام نے مستحکم سیاسی اشرافیہ کو شکست دی، ستر کی دہائی کے بعد آج عوام نے دو جماعتی نظام کو شکست دی جبکہ ایسا تاریخ میں شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ دوجماعتی نظام میں تیسری جماعت کو موقع ملے۔‘انہوں نے کہا کہ ’عوام تبدیلی کے لیے نکلے اور اپنا فیصلہ سنایا اور پورے ملک میں جہاں امیدوار کا چہرہ تبدیلی سے نہیں ملتا تھا وہاں عوام نے مسترد کردیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ پر آج سب سے بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے، تحریک انصاف کا اقتدار چیلنجز سے بھرپور ہے، عوام ہم سے روایتی طرز سیاست و حکومت کی امید نہیں رکھتے اور اگر روایتی طرز حکومت اپنایا تو عوام ہمیں بھی غضب کا نشانہ بنائیں گے، عوام آپ کا طرز سیاست اور کردار دیکھیں گے اور اس کے مطابق ردعمل دیں گے۔‘عمران خان نے نومنتخب اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام ہمیں روایتی سیاسی جماعتوں سے الگ دیکھتے ہیں، آپ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں اللہ آپ کو وہ عزت دے گا جس کا تصور بھی ممکن نہیں جبکہ میں خود مثال بنوں گا اور آپ سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کروں گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے بحیثیت ٹیم مکمل اتحاد و اتفاق اپنانا ہے، عوام چاہتے ہیں کہ پارلیمان ان کے لیے قانون سازی کرے، عوام نے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے تاکہ آپ نچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں اور ان کے لیے پالیسیاں بنائیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے۔